مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش، وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب سے اظہار یکجہتی

مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش پر وزیراعظم شہباز شریف کا بیان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودی عرب کے ساتھ ہیں: وزیراعظم

مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش پر وزیراعظم شہباز شریف نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے قابل مذمت اور ناقابل معافی فعل قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام اس اشتعال انگیز اقدام پر رنجیدہ اور فکرمند ہیں جبکہ پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کے معاملے پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کے واقعے پر پاکستانی عوام کو گہرا دکھ اور صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر پیدا ہونے والے جذبات اور تشویش کو الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔

وزیراعظم نے سعودی شاہی مسلح افواج کی بروقت کارروائی کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی مسلح افواج نے غیر معمولی مستعدی، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بروقت کارروائی کی۔

شہباز شریف نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کا تحفظ اور تقدس پاکستانی عوام کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ اپنے غیر متزلزل تعاون اور حمایت کا اظہار کرتا رہے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے تمام فریقین سے ایک مرتبہ پھر انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری ہی امن کے حصول کا واحد پائیدار راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مزید اشتعال انگیزی کے بجائے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کی راہ ہموار ہوسکے۔

وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مملکت سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔

شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ حرمین شریفین کے تقدس کا معاملہ ہر پاکستانی کے دل کے بہت قریب ہے۔ اسی لیے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور ایسے کسی بھی اقدام کی مذمت کرتا ہے جو مقدس مقامات کے امن و سلامتی کو متاثر کرنے کا باعث بنے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور بروقت کارروائی قابل تحسین ہے۔ انہوں نے سعودی حکام اور عوام کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کے تناظر میں وزیراعظم کا بیان دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیراعظم نے ایک بار پھر امن کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا اور تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو۔

READ MORE FAQS

سوال: مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش پر وزیراعظم شہباز شریف نے کیا کہا؟
جواب: وزیراعظم نے اس کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قابل مذمت اور ناقابل معافی فعل قرار دیا اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

سوال: وزیراعظم نے سعودی مسلح افواج کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: شہباز شریف نے سعودی مسلح افواج کی مستعدی، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور بروقت کارروائی کو قابل تحسین قرار دیا۔

سوال: پاکستان نے سعودی عرب کے حوالے سے کیا مؤقف اختیار کیا؟
جواب: وزیراعظم کے مطابق پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع اور حرمین شریفین کے تحفظ و تقدس کے معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

سوال: وزیراعظم نے تمام فریقین سے کیا اپیل کی؟
جواب: انہوں نے تمام فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:28 AM
طلوع آفتاب05:52 AM
ظہر12:03 PM
عصر03:34 PM
مغرب06:14 PM
عشاء07:38 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6