فیصل کریم کنڈی کا پی ٹی آئی لانگ مارچ پر سخت مؤقف
فیصل کریم کنڈی پی ٹی آئی لانگ مارچ کے معاملے پر سخت مؤقف سامنے آگیا ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو پنجاب کے علاقے اٹک سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کے حوالے سے بہت بڑے اجتماع کے دعوے کیے جارہے ہیں، تاہم ان کے مطابق عملی طور پر اتنی بڑی تعداد نظر نہیں آرہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اٹک سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے گی تو صورتحال مختلف ہوگی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کی جانب سے خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کیا جاچکا ہے۔ حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں بھی پیش رفت نہ ہوسکی، جس کے بعد مارچ کا معاملہ مزید اہم ہوگیا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشت گردی کے مسائل سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کے بجائے صوبے میں امن و امان کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کے درمیان صوبے کی سکیورٹی، پی ٹی آئی سے مذاکرات اور لانگ مارچ کی صورتحال پر گفتگو ہوتی رہی ہے۔ 4 اکتوبر کو گورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والی ملاقات میں بھی قانون و امن، سیاسی صورتحال اور لانگ مارچ سے پیدا ہونے والے معاملات زیر بحث آئے تھے۔
گورنر نے لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی خدشات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مارچ کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے یا کوئی شرپسند عناصر کی مدد سے سکیورٹی حصار عبور کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات ضروری ہیں۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبرپختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے معاملے میں مناسب تعاون نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ فیصل کریم کنڈی کے مطابق وفاق اور صوبے کے درمیان عسکریت پسندی کے خلاف حکمت عملی پر اختلافات موجود ہیں۔
گورنر نے عمران خان کے ماضی کے سیاسی فیصلوں پر بھی تنقید کی اور ان پر خیبرپختونخوا میں عسکریت پسندوں کو آباد کرنے سے متعلق الزام عائد کیا۔ یہ مؤقف گورنر کی جانب سے بیان کیا گیا ہے اور اسے ایک سیاسی الزام کے طور پر ہی دیکھا جارہا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں اور صوبائی حکومت کی قیادت سے متعلق بھی سخت ریمارکس دیے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے بعض فیصلوں پر پارٹی کے دیگر رہنماؤں کا اثر و رسوخ ہے۔
گورنر نے گورنر راج کے امکان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں گورنر راج معمول کا سیاسی اقدام نہیں بلکہ آخری آپشن ہوتا ہے۔ ان کے مطابق پہلے حالات کو معمول پر رکھنے اور دیگر راستے اختیار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر صدر مملکت اور وزیراعظم آئینی طور پر گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو صوبہ اس فیصلے پر عمل کرے گا۔ 4 اکتوبر کو گورنر ہاؤس اور وفاقی وزیر داخلہ کی ملاقات میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ اگر صدر اور وزیراعظم دہشت گردی اور بدامنی سے نمٹنے کے لیے گورنر راج یا ایمرجنسی ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس اپنا آئینی کردار ادا کرے گا۔
گورنر نے گورنر راج کو آخری حل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کوشش ہونی چاہیے کہ معاملات معمول کے مطابق چلتے رہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی صوبے میں گورنر راج نافذ کرنا پہلا قدم نہیں بلکہ انتہائی حالات میں اختیار کیا جانے والا آئینی راستہ ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس کا لانگ مارچ سیاسی مطالبات کے لیے ہے اور پارٹی کے مذاکراتی عمل میں بنیادی مطالبات پر اتفاق نہ ہونے کے بعد کارکن اسلام آباد کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پی ٹی آئی نے مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، جبکہ حکومت نے اسلام آباد میں احتجاج اور ممکنہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر سخت اقدامات کیے ہیں۔
READ MORE FAQS
سوال: فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو پنجاب کے علاقے اٹک سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سوال: فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کیا؟
جواب: انہوں نے گورنر راج کو آخری آپشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر اور وزیراعظم فیصلہ کریں تو صوبہ اس کا نفاذ کرے گا۔
سوال: فیصل کریم کنڈی اور محسن نقوی کی ملاقات میں کیا بات ہوئی؟
جواب: دونوں رہنماؤں نے خیبرپختونخوا کی سکیورٹی، سیاسی صورتحال اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
سوال: گورنر نے لانگ مارچ پر سکیورٹی خدشات کیوں ظاہر کیے؟
جواب: ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی چیک پوسٹوں سے شرپسند یا دہشت گرد عناصر کے گزرنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ یہ خدشہ گورنر اور وفاقی وزیر داخلہ کی ملاقات میں بھی زیر بحث آیا۔








