عمران خان کے کزن قاسم زمان اڈیالہ جیل کے قریب سے گرفتار

عمران خان کے کزن قاسم زمان کو ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا

عمران خان کے کزن قاسم زمان اڈیالہ جیل کے قریب سے گرفتار، دفعہ 3(1) کے تحت قاسم زمان کو 30 روز کے لیے حراست میں رکھنے کی سفارش

راولپنڈی: سابق وزیراعظم عمران خان کے کزن قاسم زمان کو پولیس نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت حراست میں لے لیا۔

پی ٹی آئی احتجاجی کال کے دوران خیبر پختونخوا میں محدود شرکت کا منظر
پی ٹی آئی احتجاجی کال پر شرکت کے حجم پر حکومت اور پارٹی کے درمیان اختلاف سامنے آیا ہے۔

قاسم زمان کو اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکہ سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ عمران خان سے ملاقات کے لیے وہاں پہنچے تھے۔ منگل کا دن عمران خان کے اہل خانہ اور قانونی ٹیم کے لیے ملاقات کا مقررہ دن تھا۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کیے گئے حراستی حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) راولپنڈی نے تھانہ صدر بیرونی کے ایس ایچ او کی رپورٹ کی بنیاد پر قاسم زمان کی حراست کی سفارش کی تھی۔

حکم نامے کے مطابق قاسم زمان ایک سیاسی کارکن ہیں اور ان پر غیر قانونی اجتماعات منعقد کرنے، تشدد کی منصوبہ بندی یا اشتعال انگیزی اور ایسے بیانات دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن سے انسانی جانوں اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ قاسم زمان عوام کو تشدد، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور سرکاری اہلکاروں کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے پر اکسا سکتے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کے حکم کے مطابق قاسم زمان کی کھلے عام موجودگی سے امن عامہ، عوامی تحفظ اور سکون میں خلل پڑنے کا خدشہ تھا۔

فیصل کریم کنڈی پی ٹی آئی لانگ مارچ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق سخت مؤقف کا اظہار کردیا۔

سی پی او راولپنڈی نے ایم پی او آرڈیننس کی دفعہ 3(1) کے تحت قاسم زمان کو 30 روز کے لیے حراست میں رکھنے کی سفارش کی تاکہ انہیں ایسے اقدامات سے روکا جاسکے جو عوامی تحفظ کے لیے نقصان دہ قرار دیے گئے ہیں اور امن عامہ برقرار رکھا جاسکے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قاسم زمان کی حراست کی مذمت کی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ عمران خان کے کزن کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ان کے مطابق قاسم زمان ایک مکمل طور پر غیر سیاسی شخص ہیں اور انہوں نے کبھی جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو بھی نہیں کی۔

بیرسٹر گوہر نے قاسم زمان کو ’’غیر سیاسی اور پُرامن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس انداز میں ان کی حراست افسوسناک ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: قاسم زمان کون ہیں؟
قاسم زمان سابق وزیراعظم عمران خان کے کزن ہیں۔
سوال 2: قاسم زمان کو کس قانون کے تحت حراست میں لیا گیا؟
قاسم زمان کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت حراست میں لیا گیا۔
سوال 3: قاسم زمان کو کتنے عرصے کے لیے حراست میں رکھنے کی سفارش کی گئی؟
سی پی او راولپنڈی نے قاسم زمان کو 30 روز کے لیے حراست میں رکھنے کی سفارش کی۔
سوال 4: بیرسٹر گوہر نے قاسم زمان کی حراست پر کیا کہا؟
بیرسٹر گوہر نے قاسم زمان کو غیر سیاسی اور پُرامن شخص قرار دیتے ہوئے ان کی حراست کی مذمت کی۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:44 AM
طلوع آفتاب06:07 AM
ظہر11:55 AM
عصر03:14 PM
مغرب05:44 PM
عشاء07:07 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6