سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی کی تصدیق، حوثیوں کے خلاف پاک فضائیہ کے استعمال کی تردید

پاکستانی فوج اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ

سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی کی تصدیق، حوثیوں کے خلاف پاک فضائیہ کے استعمال کی تردید، مکہ دفاعی معاہدے پر پاکستان کی وضاحت

اسلام آباد: پاکستان کی وزارت اطلاعات نے نیویارک ٹائمز کی اس خبر کو جھوٹی اور من گھڑت قرار دے دیا ہے جس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں حوثیوں کے خلاف پاک فضائیہ کے استعمال سے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا۔

وزارت اطلاعات نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ عالمی میڈیا کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی افواج کے استعمال سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔

وزارت کے مطابق اگر پاکستانی افواج کی کسی بھی قسم کی تعیناتی ضروری ہوئی تو اس سے متعلق تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے خود فراہم کی جائیں گی۔

پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔

حوثیوں کے خلاف پاک فضائیہ کے استعمال کی تردید

وزارت اطلاعات کی جانب سے یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کو یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا ہے اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی فعال ہوچکا ہے۔

پاکستان بحرین تعاون پر وزیراعظم شہباز شریف اور بحرینی وزیر خارجہ کی ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کی ملاقات میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان نے حوثیوں کے خلاف کارروائی میں پاک فضائیہ کے استعمال کی اجازت نہیں دی اور اس حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کو غلط قرار دیا ہے۔

حکومت نے عالمی میڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی افواج کی ممکنہ تعیناتی یا کسی فوجی کارروائی میں شرکت سے متعلق غیر مصدقہ قیاس آرائیوں سے اجتناب کرے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی کی تصدیق کردی

دوسری جانب گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے CNN کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ پاکستانی افواج پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ پاکستانی افواج سعودی عرب میں موجود ہیں اور وہاں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی فوج کے بعض اہلکار کافی عرصے سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی کوئی نئی پیش رفت نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مکہ دفاعی اتحاد کوئی ایسی چیز نہیں جو اچانک وجود میں آئی ہو بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طویل عرصے سے سفارتی، سیاسی اور فوجی تعلقات قائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مکہ اتحاد کے حصے کے طور پر پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں موجود پاکستانی دستے مختلف ڈومینز اور صلاحیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

مکہ دفاعی معاہدہ نئی پیش رفت نہیں، پاکستان

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کسی ایک حالیہ واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ تینوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کا تسلسل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے جبکہ پاکستانی فوج سعودی عرب میں تربیتی، مشاورتی اور دیگر دفاعی ذمہ داریاں انجام دیتی رہی ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد رکن ممالک کی سلامتی اور دفاع کو مضبوط بنانا ہے اور اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف کارروائی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ

پاکستان بحرین تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے وزرائے خارجہ کی ملاقات
اسحاق ڈار اور بحرینی وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کی ملاقات میں تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا کہ کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

معاہدے کے بعد سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات کے تناظر میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

حال ہی میں ریاض میں تینوں ممالک کے اعلیٰ فوجی اور حکومتی حکام کا اجلاس بھی ہوا، جس میں سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے طے شدہ فوجی قوت اور دفاعی صلاحیتیں فراہم کرنے اور ضرورت کے مطابق ان کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

تاہم اس موقع پر پاکستانی فوجیوں کی تعداد، ان کے مخصوص مشن، کمانڈ کے انتظامات یا تعیناتی کی مدت سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔

کیا پاکستانی فوج حوثیوں کے خلاف کارروائی کرے گی؟

موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی افواج سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف کارروائی میں براہ راست فوجی مدد فراہم کریں گی یا نہیں۔

پاکستانی وزارت اطلاعات کی تازہ وضاحت کے مطابق حوثیوں کے خلاف پاک فضائیہ کے استعمال کی خبر غلط اور من گھڑت ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت رکھتا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔

اس لیے پاکستانی افواج کی مستقبل میں کسی بھی اضافی تعیناتی یا کسی مخصوص فوجی مشن کے بارے میں حتمی معلومات متعلقہ پاکستانی حکام کی جانب سے سرکاری طور پر فراہم کیے جانے تک قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پاک بحریہ منشیات برآمد، بحیرہ عرب میں انسداد منشیات کارروائی
پاک بحریہ کے جہاز یرموک کی بحیرہ عرب میں کارروائی، بڑی مقدار میں منشیات برآمد۔

پارلیمنٹ کے کردار پر بھی سوالات

مکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں پاکستانی فوج کی سعودی عرب میں موجودگی کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے کردار پر بھی بحث جاری ہے۔

2015 میں سعودی عرب کی جانب سے یمن میں فوجی کارروائی کے لیے پاکستان سے فوج، جنگی طیارے اور بحری جہاز فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی تو اس وقت کی حکومت نے معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے رکھا تھا۔

پارلیمنٹ نے متفقہ قرارداد کے ذریعے یمن کی جنگ میں پاکستان کو غیر جانب دار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم سعودی عرب کی سرزمین اور مقدس مقامات کے دفاع کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا تھا۔

موجودہ صورتحال میں حکومت کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی اتحاد سے متعلق تمام ضروری حکومتی طریقہ کار مکمل کیے گئے ہیں، تاہم فوجی تعیناتی کی تفصیلات کو آپریشنل رازداری کا معاملہ قرار دیا گیا ہے۔

حالیہ وضاحتوں سے یہ بات واضح ہے کہ پاکستانی افواج کی سعودی عرب میں موجودگی کی سرکاری سطح پر تصدیق ہوچکی ہے، تاہم حوثیوں کے خلاف کسی براہ راست کارروائی یا پاک فضائیہ کے استعمال کی تصدیق نہیں کی گئی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اگر کسی اضافی فوجی تعیناتی یا کارروائی کی ضرورت پیش آئی تو اس کی تفصیلات متعلقہ حکام خود جاری کریں گے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: کیا پاکستان نے حوثیوں کے خلاف پاک فضائیہ استعمال کی ہے؟
جواب: پاکستانی وزارت اطلاعات نے حوثیوں کے خلاف پاک فضائیہ کے استعمال سے متعلق خبر کو جھوٹی اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
سوال 2: کیا پاکستانی فوج سعودی عرب میں موجود ہے؟
جواب: جی ہاں، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی افواج سعودی عرب میں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں موجود ہیں۔
سوال 3: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟
جواب: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا یہ دفاعی معاہدہ رکن ممالک کی سلامتی اور دفاع کے لیے مشترکہ تعاون کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
سوال 4: کیا مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف ہے؟
جواب: پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:44 AM
طلوع آفتاب06:07 AM
ظہر11:55 AM
عصر03:14 PM
مغرب05:44 PM
عشاء07:07 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6