گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی کی مذاکرات کی حمایت، علی امین گنڈاپور کو بھی شامل کرنے پر زور

پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اور علی امین گنڈاپور

گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی کی مذاکرات کی حمایت، علی امین گنڈاپور کو بھی شامل کرنے پر زور

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کردی ہے، جبکہ بیشتر اراکین نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بنانے کی تجویز دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا آن لائن اجلاس ہوا جس میں علی امین گنڈاپور سمیت 40 سے زائد اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور نورالحق قادری بھی شریک ہوئے۔

اجلاس کے دوران بیشتر اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت سے بات چیت کے ذریعے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو واپس لینے کی راہ ہموار کی جانی چاہیے۔ اراکین کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرکے سیاسی مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔

انتخابی اصلاحات کمیٹی پر پیپلز پارٹی کے وفد کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات
پیپلز پارٹی کے وفد نے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شرکت کے لیے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی

ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے بیشتر اراکین نے علی امین گنڈاپور کو وفاقی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں شامل کرنے کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کی شرکت سے معاملات باہمی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھائے جا سکیں گے۔

اجلاس میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کارکنوں کی جانب سے احتجاج کے لیے باہر نہ نکلنے کے فیصلے کو بھی درست قرار دیا گیا۔ اراکین کا کہنا تھا کہ اگر کارکن سڑکوں پر نکلتے تو 9 مئی جیسے واقعات کی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔

اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بھی پارٹی کے اکثریتی اراکین وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حامی ہیں، جبکہ نورالحق قادری نے مشکل وقت میں صبر و تحمل سے کام لینے پر زور دیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت مذاکرات کی حامی ہے اور وفاقی حکومت کو تلخیاں کم کرنی چاہئیں۔

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اگر مذاکراتی عمل کے لیے علی امین گنڈاپور پارلیمانی پارٹی کا انتخاب ہیں تو کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے علی امین گنڈاپور کو بانی پی ٹی آئی کا پرانا اور وفادار ساتھی بھی قرار دیا۔

پی ٹی آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات نے مزید کہا کہ اگر کسی نے اداروں کے خلاف کوئی بات کی ہے تو اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وفاقی حکومت سے مذاکرات کے ذریعے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور گورنر راج و ایمرجنسی کے معاملے پر پیش رفت کرنے پر زور دیا گیا۔

READ MORE FAQS”

سوال 1: پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی نے کس معاملے پر مذاکرات کی حمایت کی؟

جواب: پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی سمیت دیگر سیاسی مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حمایت کی۔

سوال 2: پی ٹی آئی کے اراکین نے مذاکرات میں کس رہنما کو شامل کرنے کی تجویز دی؟

جواب: بیشتر اراکین نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کی حمایت کی۔

سوال 3: پی ٹی آئی کے اجلاس میں کتنے اراکین نے شرکت کی؟

جواب: ذرائع کے مطابق آن لائن اجلاس میں علی امین گنڈاپور سمیت 40 سے زائد اراکین اسمبلی شریک ہوئے۔

سوال 4: شوکت یوسفزئی نے مذاکرات کے حوالے سے کیا کہا؟

جواب: شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کی حامی ہے اور وفاقی حکومت کو تلخیاں کم کرکے گورنر راج اور ایمرجنسی ختم کرنی چاہیے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر05:01 AM
طلوع آفتاب06:25 AM
ظہر11:51 AM
عصر02:55 PM
مغرب05:18 PM
عشاء06:42 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6