قصور میں زہریلی کھیر کھانے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحق، چھپکلی گرنے کا شبہ

قصور کے گاؤں محمود خانیکے میں زہریلی کھیر کھانے سے پانچ افراد کی ہلاکت کے واقعے کے بعد پولیس کی تحقیقات

قصور میں زہریلی کھیر کھانے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحق، چھپکلی گرنے کا شبہ


قصور: پنجاب کے ضلع قصور کے قصبہ کنگن پور کے قریب واقع گاؤں محمود خانیکے میں مبینہ طور پر زہریلی کھیر کھانے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں میاں بیوی اور ان کے تین بیٹے شامل ہیں۔ پولیس نے کھیر اور لاشوں کے نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے ہیں، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 22 اکتوبر کو پیش آیا، جب 55 سالہ قاسم علی کی اہلیہ 52 سالہ حسنہ بی بی نے ناشتے کے لیے گھر میں کھیر تیار کی۔ خاندان میں قاسم علی، ان کی اہلیہ اور تین بیٹے 28 سالہ آصف علی، 25 سالہ ناظم علی اور 15 سالہ امانت علی شامل تھے۔

قاسم علی پیشے کے اعتبار سے کاشتکار تھے اور ان کے تینوں بیٹے بھی کھیتی باڑی میں والد کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ ان دنوں مونجی کی فصل تیار ہونے کے باعث خاندان کے مرد افراد علی الصبح کھیتوں میں کام کے لیے روانہ ہوجاتے تھے۔

شانگلہ سکول وین حادثہ کے زخمی بچوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال الپوری منتقل کیا جا رہا ہے
شانگلہ کے علاقے بیلے بابا میں سکول وین کھائی میں گرنے کے بعد زخمی طلبہ کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

مقامی پولیس اور رشتہ داروں کے مطابق 22 اکتوبر کی صبح حسنہ بی بی نے خود بھی کھیر کھائی اور اپنے شوہر اور تینوں بیٹوں کو بھی کھلائی۔ ناشتے کے بعد گھر کے مرد افراد معمول کے مطابق کھیتوں میں کام کرنے چلے گئے، تاہم دوپہر تک خاندان کے افراد کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی۔
طبیعت خراب ہونے پر اسپتال جانے کے بجائے پیر صاحب سے دم کروایا
پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیانات کے مطابق متاثرہ خاندان نے طبیعت خراب ہونے پر فوری طور پر اسپتال جانے کے بجائے گاؤں کے ایک روحانی معالج سے رابطہ کیا، جنہوں نے بیمار افراد کا دم کیا۔

حسنہ بی بی اور قاسم علی نے اسپتال میں پولیس کو بتایا تھا کہ خاندان میں اس سے پہلے بھی بخار، سردرد، پیٹ کی خرابی اور دیگر معمولی بیماریوں کی صورت میں پیر صاحب سے دم کروایا جاتا تھا اور انہیں آرام آجاتا تھا۔

تاہم اس مرتبہ مسلسل تین روز تک دم کروانے کے باوجود خاندان کے افراد کی طبیعت بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوتی چلی گئی۔

25 اکتوبر کو رشتہ داروں نے شدید بیمار افراد کو گاؤں سے تقریباً 15 کلومیٹر دور کنگن پور اسپتال منتقل کیا۔ وہاں ڈاکٹروں نے ان کی تشویشناک حالت کے پیش نظر انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز (ڈی ایچ کیو) اسپتال ریفر کردیا۔

پولیس اور رشتہ داروں کے مطابق ڈی ایچ کیو اسپتال میں ڈاکٹروں نے جسم میں زہر پھیلنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے مریضوں کو جنرل اسپتال لاہور منتقل کرنے کی ہدایت کی۔
تین روز میں ایک کے بعد ایک پانچ افراد کی موت
25 اکتوبر کی شام جب پانچوں افراد کو جنرل اسپتال لاہور منتقل کیا گیا تو ان کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔ اسی رات خاندان کے 25 سالہ بیٹے ناظم علی کا انتقال ہوگیا، جبکہ باقی چار افراد کو انتہائی نگہداشت میں منتقل کرکے وینٹی لیٹرز پر علاج شروع کردیا گیا۔

26 اکتوبر کو خاندان کے مزید دو بیٹے 28 سالہ آصف علی اور 15 سالہ امانت علی بھی دوران علاج دم توڑ گئے۔

27 اکتوبر کو خاندان کے سربراہ قاسم علی انتقال کرگئے، جبکہ 28 اکتوبر کو ان کی اہلیہ حسنہ بی بی بھی دوران علاج زندگی کی بازی ہار گئیں۔

اس طرح چند روز کے دوران ایک ہی خاندان کے پانچوں افراد جاں بحق ہوگئے۔ مقامی افراد کے مطابق واقعے کے بعد گاؤں میں سوگ کی فضا ہے۔

کشمیر چوک انڈر پاس منصوبہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کشمیر چوک انڈر پاس منصوبے کے تعمیراتی کام کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جب 28 اکتوبر کو قاسم علی اور ان کے دو بیٹوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی تو اسی دوران جنرل اسپتال لاہور سے حسنہ بی بی کے انتقال کی اطلاع بھی پہنچ گئی۔
کھیر میں چھپکلی گرنے کا شبہ، پولیس کی تحقیقات جاری
قصور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر آفتاب احمد پھلروان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں بظاہر یہ واقعہ حادثاتی معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی نتیجہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس سامنے آنے کے بعد ہی اخذ کیا جاسکے گا۔

ڈی پی او کے مطابق پولیس نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت کارروائی مکمل کی ہے۔ جاں بحق ہونے والے پانچ افراد میں سے چار کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا ہے، جبکہ کھیر اور لاشوں کے اجزا سے حاصل کیے گئے نمونے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری لاہور بھجوا دیے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق خاندان کے پہلے فرد ناظم علی کی وفات 25 اکتوبر کو ہوئی تھی، تاہم اس وقت پولیس کو واقعے کی اطلاع نہیں دی گئی اور ان کی تدفین کردی گئی تھی، جس کے باعث ان کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوسکا۔

تھانہ کنگن پور کے ایس ایچ او وحید عارف نے بتایا کہ انہوں نے جنرل اسپتال لاہور میں زیر علاج قاسم علی اور ان کی اہلیہ حسنہ بی بی کے ابتدائی بیانات قلمبند کیے تھے۔

ان کے مطابق دونوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں اور خاندان نے ناشتے میں کھیر کھائی تھی۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان نے ابتدائی طور پر طبی علاج کے بجائے روحانی معالج سے رجوع کیا، جبکہ ڈاکٹروں نے مریضوں کی حالت دیکھتے ہوئے جسم میں زہر پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجہ اور مزید قانونی کارروائی کا تعین کیا جائے گا۔
کھیر میں چھپکلی گرنے کی بات کیسے سامنے آئی؟
گاؤں کے رہائشی رانا جہانگیر کے مطابق واقعے کے ابتدائی دنوں میں کھیر میں چھپکلی گرنے کی بات سامنے نہیں آئی تھی، تاہم بعد میں متاثرہ خاندان کے رشتہ داروں نے بتایا کہ قاسم علی نے ڈی ایچ کیو اسپتال میں ڈاکٹروں کو بتایا تھا کہ کھیر میں چھپکلی گر گئی تھی۔

بکرے کے پائے اور غذائی سامان پر کینیڈا میں پاکستانی مسافر کو جرمانہ، ڈٹیکٹر ڈاگ کی کارروائی
کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی کے مطابق تربیت یافتہ کتے نے مسافر کے سامان میں غیر ظاہر شدہ غذائی اشیاء کی نشاندہی کی۔

مبینہ طور پر چھپکلی کو کھیر سے نکال کر پھینک دیا گیا تھا اور اس کے اردگرد موجود کھیر بھی ضائع کردی گئی تھی، جس کے بعد باقی کھیر خاندان کے افراد نے کھائی۔

تاہم یہ بات تاحال ثابت نہیں ہوسکی کہ کھیر میں واقعی چھپکلی گری تھی یا اس میں کسی اور وجہ سے زہریلا مادہ شامل ہوا۔ پولیس نے بھی فرانزک رپورٹ آنے تک کسی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔

قاسم علی کے رشتہ دار عبداللہ کھرل نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ کھیر میں چھپکلی تھی یا کوئی اور چیز، تاہم پولیس کو واقعے کی مکمل تحقیقات کرنی چاہئیں۔
پنجاب کے وزیر قانون کا نوٹس، ڈی سی قصور سے رپورٹ طلب
پنجاب کے وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قصور سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور مکمل تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔

حکام کے مطابق واقعے کی اصل وجہ جاننے کے لیے فرانزک تجزیہ اور پوسٹ مارٹم رپورٹس اہم ہوں گی۔ ان رپورٹس کے ذریعے ہی معلوم ہوسکے گا کہ خاندان کے پانچوں افراد کی موت کس زہریلے مادے یا طبی پیچیدگی کے باعث ہوئی۔
طبی سہولیات کی کمی اور بروقت علاج کا سوال
گاؤں محمود خانیکے کے رہائشیوں کے مطابق یہ علاقہ پاکستان اور بھارت کی سرحد کے قریب واقع ہے اور یہاں بنیادی طبی سہولیات محدود ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گاؤں میں بڑے اسپتال اور تعلیمی اداروں کی عدم دستیابی کے باعث لوگوں کو علاج کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

قصور کے صحافی سلمان یوسف کے مطابق گاؤں دریائے ستلج کے قریبی علاقوں میں واقع ہے اور وہاں سے کنگن پور شہر تک پہنچنا بھی مقامی آبادی کے لیے آسان نہیں۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ طبی سہولیات کی کمی اور اسپتال تک رسائی میں مشکلات کے باعث بعض افراد معمولی بیماریوں کے لیے بھی مقامی روحانی معالجین یا گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرتے ہیں۔

یہ واقعہ اس بات کی اہمیت بھی اجاگر کرتا ہے کہ زہریلی خوراک کھانے یا فوڈ پوائزننگ کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر مستند طبی امداد حاصل کی جائے۔ محض گھریلو علاج یا دم پر انحصار کرنے سے علاج میں تاخیر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

پولیس تاحال فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کی منتظر ہے، اس لیے کھیر میں چھپکلی گرنے یا کسی مخصوص زہریلے مادے کی موجودگی کو پانچ افراد کی ہلاکت کی حتمی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

کیا گھریلو چھپکلی زہریلی ہوتی ہے؟

قصور میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ کیا عام گھریلو چھپکلی اتنی زہریلی ہوتی ہے کہ اس کے کھانے میں گرنے سے انسان کی موت واقع ہوسکتی ہے؟

سائنسی معلومات کے مطابق عام گھریلو چھپکلی (Common House Gecko) زہریلی نہیں ہوتی اور اس کے کاٹنے سے انسان کو زہر منتقل ہونے کا خدشہ نہیں ہوتا۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ چھپکلی کا کھانے میں گرنا بے ضرر ہے۔

ایئرپورٹس کی توسیع اور مسافروں کی سہولیات پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے ایئرپورٹس پر مسافروں کی سہولت کو ہر حال میں مقدم رکھنے کی ہدایت کی

طبی اور سائنسی اعتبار سے چھپکلیوں سمیت دیگر رینگنے والے جانوروں کے جسم اور ماحول میں بیماری پیدا کرنے والے جراثیم موجود ہوسکتے ہیں۔ ان میں خاص طور پر سالمونیلا (Salmonella) نامی بیکٹیریا اہم ہے، جو چھپکلی کے فضلے کے ذریعے اس کے جسم، اردگرد کی جگہوں اور خوراک تک منتقل ہوسکتا ہے۔

امریکی ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے مطابق رینگنے والے جانور بظاہر صحت مند اور صاف دکھائی دینے کے باوجود سالمونیلا جراثیم کے حامل ہوسکتے ہیں۔ آلودہ خوراک کے ذریعے یہ جراثیم انسانی جسم میں داخل ہو کر بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔

سالمونیلا یا دیگر جراثیم سے آلودہ خوراک کھانے کے بعد پیٹ میں درد، دست، الٹی، متلی اور بخار جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ بعض صورتوں میں انفیکشن شدید نوعیت اختیار کرسکتا ہے، جس سے جسم میں پانی کی شدید کمی یا دیگر پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ عام گھریلو چھپکلی کے زہر سے پانچ افراد کی موت ہونے کا کوئی ثابت شدہ سائنسی ثبوت اس واقعے میں سامنے نہیں آیا۔

قصور کے گاؤں محمود خانیکے میں پیش آنے والے واقعے میں رشتہ داروں کے بیانات کے مطابق کھیر میں چھپکلی گرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم پولیس نے کھیر اور لاشوں کے نمونے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری بھجوا رکھے ہیں۔

اس لیے فی الحال یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پانچوں افراد کی موت چھپکلی کے زہر سے ہوئی یا سالمونیلا انفیکشن اس کی وجہ بنا۔ ممکنہ جراثیمی آلودگی، کسی زہریلے مادے یا خوراک میں کسی دوسری خرابی سمیت تمام امکانات کی جانچ ضروری ہے۔

حتمی وجہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔

ماہرین کی عمومی احتیاط: اگر کسی چھپکلی یا دوسرے جانور کے کھانے میں گرنے کا شبہ ہو تو اس کھانے کو استعمال نہ کریں۔ صرف چھپکلی نکال دینا یا اس کے اردگرد کا حصہ ہٹا دینا خوراک کو محفوظ نہیں بناتا۔ ایسی خوراک ضائع کردینی چاہیے۔

READ MORE FAQS”

سوال 1: قصور میں زہریلی کھیر کھانے سے کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟

جواب: ضلع قصور کے گاؤں محمود خانیکے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد، میاں بیوی اور ان کے تین بیٹے، جاں بحق ہوئے۔

سوال 2: یہ واقعہ کہاں پیش آیا؟

جواب: یہ واقعہ پنجاب کے ضلع قصور میں کنگن پور کے قریب واقع گاؤں محمود خانیکے میں پیش آیا۔

سوال 3: کیا کھیر میں چھپکلی گرنے سے پانچ افراد کی موت ہوئی؟

جواب: رشتہ داروں کے مطابق کھیر میں چھپکلی گرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم پولیس نے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی۔ حتمی وجہ فرانزک رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی۔

سوال 4: پولیس اس واقعے کی تحقیقات کیسے کر رہی ہے؟

جواب: پولیس نے چار افراد کا پوسٹ مارٹم کروایا ہے اور کھیر سمیت لاشوں کے اجزا کے نمونے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری لاہور بھجوا دیے ہیں۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر05:01 AM
طلوع آفتاب06:25 AM
ظہر11:51 AM
عصر02:55 PM
مغرب05:18 PM
عشاء06:42 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6