ایران امریکا ثالثی پر محتاط امید، ایران مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری ایران امریکا ثالثی پر گفتگو کرتے ہوئے

ایران امریکا ثالثی پر محتاط امید، ایران مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی (31 اکتوبر 2026): ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے محتاط انداز میں پُرامید ہے، جبکہ ایران علاقائی امن اور مشترکہ دفاع کے وژن سے اتفاق کی صورت میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایک ماہ کے دوران دو مرتبہ تہران کا دورہ مثبت پیش رفت کی علامت ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوتی تو فیلڈ مارشل عاصم منیر دو مرتبہ تہران کا دورہ نہ کرتے۔

انہوں نے کہا کہ ایران امریکا ثالثی کی کوششوں میں بعض طاقتور عناصر اور مخالف قوتیں بھی موجود ہیں جو تنازع اور جنگ کو اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ایسے عناصر کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چودھری کا پشاور میں طلبہ اور فیکلٹی ممبران سے خصوصی نشست
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری پشاور میں جامعات کے طلبہ اور فیکلٹی ممبران سے گفتگو کر رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے کہا کہ معاہدے کی شقیں نئے ممالک کی شمولیت میں رکاوٹ نہیں بنتیں۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی ملک اجتماعی دفاع اور علاقائی امن کے مشترکہ وژن پر یقین رکھتا ہو، اسے خوش آمدید کہا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اگر علاقائی امن اور مشترکہ دفاع کے اس وژن سے اتفاق کرتا ہے تو اس کی شمولیت ممکن ہوسکتی ہے، تاہم کسی نئے ملک کو معاہدے میں شامل کرنے کا حتمی فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی سیاسی قیادت کرے گی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی کا فیصلہ صورتحال اور پاکستان و سعودی عرب کی سیاسی قیادت کے فیصلوں کے مطابق ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کا دفاع بھی پاکستان کے عزم اور ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان یمن کے تنازع میں فریق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن کا تنازع ایک اندرونی تنازع ہے اور پاکستان کا کردار سعودی عرب کے دفاع سے متعلق اپنی ذمہ داریوں تک محدود ہے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کی رفتار مزید بڑھائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی بنیاد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہیں اور ان کارروائیوں کی شدت اور رفتار میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے اور علاقائی ممالک امن و سلامتی کے معاملات پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔


READ MORE FAQS”

سوال 1: ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایران امریکا ثالثی کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے محتاط انداز میں پُرامید ہے۔

سوال 2: فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران کے دوروں کو کس طرح دیکھا جا رہا ہے؟
جواب: ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ایک ماہ میں دو مرتبہ تہران کا دورہ اس بات کی علامت ہے کہ ثالثی کی کوششوں میں کچھ مثبت پیش رفت موجود ہے۔

سوال 3: کیا ایران مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے؟
جواب: ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق معاہدے کی شقیں نئے ممالک کی شمولیت سے نہیں روکتیں، تاہم نئے رکن کی شمولیت کا فیصلہ متعلقہ ممالک کی سیاسی قیادت کرے گی۔

سوال 4: کیا پاکستان یمن کے تنازع کا حصہ ہے؟
جواب: ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان یمن کے اندرونی تنازع کا حصہ نہیں ہے اور اسے یمن کے اندرونی فریقوں کا تنازع قرار دیا۔

سوال 5: خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے بارے میں کیا اعلان کیا گیا؟
جواب: ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی رفتار اور کارروائیوں کی آزادی میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر05:01 AM
طلوع آفتاب06:26 AM
ظہر11:51 AM
عصر02:54 PM
مغرب05:17 PM
عشاء06:41 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6