نئی آٹو پالیسی: الیکٹرک گاڑیاں لاکھوں روپے سستی ہونے کا امکان، چیری، بی وائے ڈی اور جے اے سی کو فائدہ
اسلام آباد: پاکستان میں نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی کے اعلان کے بعد گاڑیوں کی مارکیٹ میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی، گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد بڑھانے اور چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے مالی معاونت دینے کی تجاویز سامنے آئی ہیں، جن پر عمل درآمد کی صورت میں بعض الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے تک کمی ممکن ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں چینی کمپنیوں کی الیکٹرک گاڑیوں کے نئے ماڈلز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ ان میں جے اے سی جے فائیو اور چیری کیو شامل ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق جے اے سی جے فائیو کی 49 کلو واٹ آور بیٹری کے ساتھ ابتدائی قیمت 59 لاکھ روپے، جبکہ چیری کیو کی 42.7 کلو واٹ آور بیٹری کے ساتھ قیمت تقریباً 55 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔

تاہم مجوزہ ٹیکس مراعات اور قیمتوں میں ممکنہ کمی کا انحصار پالیسی کی حتمی منظوری، آئی ایم ایف کی رضامندی اور عملی نفاذ پر ہوگا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 50 ہزار ڈالر تک قیمت کی الیکٹرک گاڑیوں کو کیپیٹل ویلیو ٹیکس (CVT)، ودہولڈنگ ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے مستثنیٰ رکھنے کی تجویز ہے۔
ان کے مطابق 50 ہزار ڈالر سے زیادہ قیمت کی الیکٹرک گاڑیوں کو لگژری اشیا تصور کیا جائے گا اور ان پر معمول کے مطابق ٹیکس عائد ہوں گے۔
ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق لگژری گاڑیوں کے علاوہ دیگر گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے اور آٹو انڈسٹری کی پیداواری لاگت میں کمی لانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ نئی آٹو پالیسی میں گاڑیوں کی مختلف اقسام کے لیے سیلز ٹیکس کی الگ الگ شرحیں تجویز کی گئی ہیں:
خالص الیکٹرک گاڑیاں (EVs): ایک فیصد سیلز ٹیکس، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیاں (REEVs): چھ فیصد سیلز ٹیکس، ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیاں (HEVs): نو فیصد سیلز ٹیکس
حکومت کا مؤقف ہے کہ ان مراعات سے ملک میں الیکٹرک اور نئی توانائی پر چلنے والی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ ملے گا۔ تاہم ان تجاویز کو آئی ایم ایف پروگرام اور محصولات کے اہداف کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ نئی آٹو پالیسی کے تحت اسٹیٹ بینک کے ذریعے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے اور قرض کی واپسی کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
اس اقدام سے ان صارفین کو سہولت مل سکتی ہے جو الیکٹرک گاڑی خریدنا چاہتے ہیں لیکن ایک بڑی رقم یکمشت ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ آٹو انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کے مطابق نئی آٹو پالیسی پر عمل درآمد سے چینی کمپنیوں کی الیکٹرک اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
آٹو انڈسٹری سے وابستہ شبیر الدین کے اندازے کے مطابق چیری کیو کی قیمت تقریباً 55 لاکھ روپے سے کم ہو کر 42 لاکھ روپے تک آ سکتی ہے، جبکہ جی اے سی آئیون یو ٹی کی قیمت 64 لاکھ روپے سے کم ہو کر تقریباً 50 لاکھ روپے ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ ماہرین کے اندازے ہیں، کمپنیوں کی جانب سے اعلان کردہ نئی قیمتیں نہیں۔ حتمی قیمتوں کا تعین ٹیکس پالیسی اور متعلقہ کمپنیوں کے فیصلوں کے بعد ہی ہوگا۔ آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق بی وائے ڈی، چیری، جی اے سی، ہیول اور چنگان جیسی کمپنیوں کو مجوزہ مراعات سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، خصوصاً ان کمپنیوں کو جن کے پاس الیکٹرک اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیوں کے ماڈلز موجود ہیں۔
دوسری جانب سوزوکی، ہونڈا اور ٹویوٹا جیسی جاپانی کمپنیوں کی روایتی پیٹرول گاڑیوں کو چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں سے مقابلے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوئیں تو بڑے شہروں میں صارفین کے انتخاب میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ تاہم روایتی گاڑیوں کی فروخت پر اثرات کا انحصار قیمت، فنانسنگ، چارجنگ کی سہولت اور بعد از فروخت سروس پر بھی ہوگا۔ ہارون اختر خان کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومتی محصولات کو متاثر کیے بغیر مراعات دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی لیے ایک ہزار سی سی سے زیادہ انجن کی گنجائش والی روایتی پیٹرول گاڑیوں پر محصولات وصول کیے جائیں گے، جبکہ ایک ہزار سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں کے صارفین کو اس حوالے سے استثنیٰ دینے کی تجویز ہے۔
تاہم آل پاکستان موٹرز ڈیلر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایس ایم شہزاد کے مطابق الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کے علاوہ دیگر گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑی کمی کی توقع نہیں، اور مجوزہ ٹیکس سلیبز کا نفاذ بھی آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز کے چیئرمین عبدالرحمن کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ گاڑی خریدنے والوں اور کم آمدنی والے صارفین کے لیے پالیسی میں خصوصی مراعات شامل نہیں کی گئیں۔
ان کے مطابق سوزوکی آلٹو، سوئفٹ، ہونڈا سٹی اور ٹویوٹا یارس جیسی گاڑیوں کے خریداروں کے لیے فنانسنگ یا ٹیکس میں کوئی خاص رعایت تجویز نہیں کی گئی۔ ہارون اختر خان کے مطابق نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی چھ بنیادی نکات پر مشتمل ہے:

- عوام کے لیے نسبتاً سستی گاڑیوں کی فراہمی
- برآمدات میں اضافہ
- مقامی سطح پر گاڑیوں کے پرزوں کی تیاری
- گاڑیوں کے معیار اور تحفظ کو بہتر بنانا
- الیکٹرک گاڑیوں اور نئی ٹیکنالوجی کا فروغ
- آٹو انڈسٹری میں شفافیت کو یقینی بنانا
نئی آٹو پالیسی میں گاڑیوں کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے ٹیرف پالیسی کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے، جس کے ذریعے خام مال اور دیگر ضروری اشیا کی درآمد پر آنے والے اخراجات کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
حکومت نے پانچ سال کے دوران آٹو سیکٹر کی برآمدات چھ ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے صرف قیمتوں میں کمی کافی نہیں ہوگی بلکہ چارجنگ اسٹیشنز، بیٹری کی کارکردگی، مرمت اور اسپیئر پارٹس کی دستیابی بھی اہم عوامل ہیں۔
آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے نمائندوں نے نئی کمپنیوں کی بعد از فروخت سروس اور اسپیئر پارٹس کی دستیابی سے متعلق خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ان کے مطابق گاڑی خریدنے کے بعد صارفین کو مرمت اور پرزوں کے حصول میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ریستورانوں، شاپنگ مالز اور دیگر تجارتی مراکز میں چارجنگ پوائنٹس قائم کیے جائیں تو الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ ممکن ہے۔
استعمال شدہ الیکٹرک گاڑیوں کی خرید و فروخت میں بیٹری ہیلتھ بھی اہمیت اختیار کرے گی۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں خریدار گاڑی کی بیٹری کی حالت اور چارجنگ سائیکلز کو بھی اسی طرح دیکھ سکتے ہیں جیسے اس وقت استعمال شدہ گاڑیوں کا انجن چیک کیا جاتا ہے۔ نئی آٹو پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں پر مجوزہ ٹیکس چھوٹ، سیلز ٹیکس میں کمی اور فنانسنگ کی حد بڑھانے سے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
تاہم عام پیٹرول گاڑیوں کی قیمتوں میں کتنی کمی ہوگی اور چینی کمپنیوں کی گاڑیاں واقعی کتنی سستی ہوں گی، اس کا انحصار پالیسی کی حتمی منظوری اور عملی نفاذ پر ہوگا۔
نئی آٹو پالیسی 2026: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی پریس کانفرنس
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے نئی آٹو پالیسی 2026 کا اجرا پاکستان میں آٹو موبائل انڈسٹری کے فروغ، عوام کو سستی اور معیاری گاڑیوں کی فراہمی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ پالیسی کے تحت الیکٹرک وہیکلز کے لیے خصوصی مراعات، مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کی حوصلہ افزائی، مارکیٹ میں مسابقت کے فروغ اور تیل کے درآمدی بل میں کمی کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس اقدام سے ملکی معیشت کو تقویت ملے گی اور عام آدمی کے لیے بہتر سفری سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) November 8, 2026
READ MORE FAQS”
پاکستان کی نئی آٹو پالیسی 2026 میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے کیا مراعات تجویز کی گئی ہیں؟
50 ہزار ڈالر تک قیمت کی الیکٹرک گاڑیوں کو CVT، ودہولڈنگ ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے مستثنیٰ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز بھی شامل ہے۔
کیا نئی آٹو پالیسی سے الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی؟
مجوزہ ٹیکس مراعات پر عمل درآمد کی صورت میں چیری، جے اے سی اور دیگر الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے، تاہم حتمی قیمتوں کا اعلان متعلقہ کمپنیاں کریں گی۔
الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کتنی کرنے کی تجویز ہے؟
نئی آٹو پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور قرض کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز ہے۔
کیا نئی آٹو پالیسی کی منظوری ہو چکی ہے؟
فراہم کردہ معلومات کے مطابق پالیسی کی منظوری کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ مجوزہ ٹیکس مراعات پر عمل درآمد آئی ایم ایف کی منظوری سے بھی مشروط ہے۔




