پولینڈ: کراکوف کے مرکزی چوک میں فائرنگ، 6 افراد ہلاک، 16 زخمی، واقعہ دہشت گردی قرار
کراکوف (8 نومبر 2026): یورپی ملک پولینڈ کے شہر کراکوف کے مرکزی مارکیٹ اسکوائر میں فائرنگ کے خوفناک واقعے میں 6 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے، جبکہ پولینڈ کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے واقعے کو دہشت گردی کا جرم قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ہفتے کے روز کراکوف کے مصروف مرکزی چوک میں پیش آیا، جہاں ایک مسلح شخص نے لوگوں کو نشانہ بنایا۔ واقعے میں چار خواتین اور دو مرد جان سے گئے، جبکہ زخمیوں میں دو پولیس اہلکار، پانچ غیر ملکی شہری اور مبینہ حملہ آور بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق حملے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مبینہ حملہ آور کا تعاقب کیا اور فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ پولیس کو پہلی اطلاع مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 15 سیکنڈ پر موصول ہوئی، جبکہ پولیس اہلکار تقریباً تین منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے دو خواتین کو اسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے، جبکہ دیگر زخمیوں کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ زخمی ہونے والے دونوں پولیس اہلکار بھی زیر علاج ہیں۔ واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس کو مبینہ حملہ آور کی رہائش گاہ سے مزید تین لاشیں بھی ملی ہیں، جن کی شناخت اس کے والد، والدہ اور بہن کے طور پر ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اموات بھی اسی شخص سے منسوب کی جا رہی ہیں اور ان کی الگ سے تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور پولینڈ کا شہری ہے، جس کی عمر کے حوالے سے حکام کے بیانات میں 24 اور 25 سال کا فرق سامنے آیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس کے پاس اسلحہ رکھنے کا قانونی اجازت نامہ موجود تھا اور اس کا پہلے کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔ پولینڈ کے وزیر داخلہ نے ابتدائی بیان میں کہا کہ مشتبہ حملہ آور مبینہ طور پر انتہائی دائیں بازو کے نظریات سے متاثر تھا۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ پولش فوج یا علاقائی دفاعی فورسز کا حصہ نہیں تھا۔
پولیس نے حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کو فرانزک لیبارٹری منتقل کردیا ہے، جبکہ جائے وقوعہ، ٹرام اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام نے 100 سے زائد عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔
پولینڈ کے قومی پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے کراکوف برانچ نے واقعے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھ افراد کا قتل اور متعدد دیگر افراد کو قتل کرنے کی کوشش دہشت گردی کے جرم کے زمرے میں آتی ہے۔ پولینڈ کے وزیر انصاف کے مطابق دہشت گردی کے جرائم سے متعلق خصوصی یونٹ تحقیقات کی قیادت کر رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد بڑی تعداد میں لوگوں کو خوفزدہ کرنا تھا۔
واقعے کے بعد پولینڈ میں دو روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ کراکوف شہر میں بھی بدھ تک سوگ منایا جائے گا۔ شہر کے مرکزی مارکیٹ اسکوائر اور ملحقہ سڑکوں کو تحقیقات کے لیے بند رکھا گیا ہے۔
حملے میں زخمی ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کو جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرنے پر اعزازی شہری کا اعزاز دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ کراکوف کے شہریوں نے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں مختلف مقامات پر پھول اور شمعیں رکھ کر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ واقعے سے متعلق موبائل فون ویڈیوز اور دیگر معلومات فراہم کریں تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پولینڈ کے شہر کراکوف میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پولینڈ کی حکومت اور عوام سے تعزیت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ کراکوف میں فائرنگ کے المناک واقعے کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور متعدد افراد کا زخمی ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک، جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور پولینڈ کے عوام سے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے دلی تعزیت کا اظہار کیا
BREAKING: 🇵🇱 Terrorist attack in Krakow, Poland
5 people were killed
The terrorist was eliminated https://t.co/TJDgxF54hN
— Megatron (@Megatron_ron) November 7, 2026
READ MORE FAQS”
پولینڈ میں فائرنگ کا واقعہ کہاں پیش آیا؟
فائرنگ کا واقعہ پولینڈ کے شہر کراکوف کے مرکزی مارکیٹ اسکوائر میں پیش آیا۔
کراکوف فائرنگ میں کتنے افراد ہلاک اور زخمی ہوئے؟
واقعے میں 6 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے، جن میں دو پولیس اہلکار اور مبینہ حملہ آور بھی شامل ہیں۔
مشتبہ حملہ آور کے گھر سے کتنی لاشیں برآمد ہوئیں؟
پولیس کو مشتبہ حملہ آور کے گھر سے مزید تین لاشیں ملیں، جن کی شناخت اس کے والد، والدہ اور بہن کے طور پر ہوئی۔
پولینڈ کے حکام نے واقعے کو کیا قرار دیا؟
پولینڈ کے قومی پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے واقعے کو دہشت گردی کا جرم قرار دیتے ہوئے خصوصی یونٹ کے ذریعے تحقیقات شروع کردی ہیں۔





