گڈانی میں ایکسائز بلوچستان کا بڑا آپریشن، 1,013 کلو آئس پکڑی گئی
ایکسائز بلوچستان نے منشیات اسمگلنگ کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے گڈانی سے ایک ٹن سے زائد آئس برآمد کرلی۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 1,013 کلو گرام کرسٹل میتھ برآمد ہوئی، جس کی عالمی مارکیٹ میں مالیت 74 ارب 19 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس ساؤتھ زون بلوچستان کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کو صوبے کی ساحلی پٹی میں منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی منشیات کو بیرون ملک منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، تاہم بروقت کارروائی کے ذریعے اسمگلنگ کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔
ڈی جی ایکسائز ساؤتھ زون محمد زمان کے مطابق گڈانی میں کیے گئے آپریشن کے دوران 1,013 کلو گرام خالص آئس برآمد ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی مقدار میں کرسٹل میتھ کی برآمدگی منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایک اہم کامیابی ہے۔ حکام کے مطابق برآمد ہونے والی منشیات کی مقدار ایک ٹن سے بھی زیادہ ہے، جبکہ اس کی عالمی مارکیٹ میں مالیت 74 ارب 19 کروڑ روپے کے قریب بتائی گئی ہے۔ کارروائی کے نتیجے میں منشیات کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث عناصر کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق گڈانی کا ساحلی علاقہ منشیات کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ بلوچستان کی طویل ساحلی پٹی جغرافیائی اعتبار سے ایک حساس علاقہ ہے، جس کے باعث متعلقہ اداروں کی جانب سے یہاں نگرانی اور انسدادِ اسمگلنگ کی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس ساؤتھ زون کی کارروائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کے لیے ساحلی راستوں کو استعمال کرنے کی کوششوں کی روک تھام کے لیے نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
ڈی جی ایکسائز ساؤتھ زون محمد زمان نے بتایا کہ گڈانی آپریشن میں برآمد ہونے والی کرسٹل میتھ بیرون ملک منتقل کیے جانے کی کوشش کا حصہ تھی۔ ان کے مطابق کارروائی کے ذریعے نہ صرف منشیات کی بڑی کھیپ کو قبضے میں لیا گیا بلکہ اس غیر قانونی کاروبار سے وابستہ عناصر کو بھی بڑا مالی نقصان پہنچایا گیا۔ ایک ٹن سے زائد آئس کی برآمدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں میں متعلقہ ادارے بڑے پیمانے پر سرگرم ہیں۔
ایکسائز حکام کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران بلوچستان کی ساحلی پٹی پر منشیات کے خلاف مختلف کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 1,638 کلو گرام آئس برآمد کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ اسی عرصے کے دوران 620 کلو گرام چرس بھی ضبط کی گئی، جبکہ غیر ملکی شراب اور بیئر کی 27 ہزار 543 بوتلیں اور کین بھی مختلف کارروائیوں کے دوران برآمد کیے گئے۔ حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد بلوچستان کے ساحلی علاقوں کو منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے لیے استعمال ہونے سے روکنا اور اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہے۔
محمد زمان کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران منشیات کے خلاف ہونے والی کارروائیوں سے منشیات مافیا کو مجموعی طور پر 133 ارب 56 کروڑ روپے کا مالی نقصان پہنچایا گیا۔ ان اعداد و شمار کے مطابق ساحلی علاقوں میں انسدادِ منشیات کارروائیوں کا دائرہ گزشتہ عرصے میں وسیع کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ ایک ایسا غیر قانونی کاروبار ہے جو نہ صرف ملکی معیشت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنج ہے بلکہ معاشرے، بالخصوص نوجوان نسل کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔
منشیات کے استعمال اور غیر قانونی ترسیل کے اثرات معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچ سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات سے محفوظ رکھنا انسدادِ منشیات کی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ ڈی جی ایکسائز ساؤتھ زون محمد زمان نے واضح کیا ہے کہ منشیات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے منشیات کی ترسیل اور اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
گڈانی میں ہونے والی کارروائی کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ ایک ہی آپریشن میں ایک ٹن سے زائد کرسٹل میتھ برآمد ہوئی ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں منشیات کی برآمدگی سے ایک طرف اسمگلنگ کی کوشش ناکام ہوئی جبکہ دوسری جانب غیر قانونی کاروبار سے وابستہ عناصر کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام کے مطابق منشیات کو بیرون ملک منتقل کیے جانے کا منصوبہ تھا، جسے بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔
ایکسائز بلوچستان کی جانب سے ساحلی علاقوں میں منشیات کے خلاف کارروائیوں کے لیے نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ساحلی حدود کی وسیع نوعیت کے باعث منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے مسلسل نگرانی، معلومات کا بروقت تبادلہ اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ ضروری ہے۔ اسی تناظر میں ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس کے متعلقہ شعبے اپنی کارروائیوں کو مزید منظم کرنے اور حساس مقامات پر نگرانی بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
گڈانی سے 1,013 کلو گرام آئس کی برآمدگی کے بعد بلوچستان میں منشیات کے خلاف کارروائیوں کی اہمیت ایک مرتبہ پھر سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق ساحلی پٹی کو منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کے خلاف کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔ ایکسائز بلوچستان نے واضح کیا ہے کہ منشیات کی غیر قانونی ترسیل روکنے کے لیے بلاامتیاز اقدامات کیے جائیں گے اور ساحلی علاقوں کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے گی۔
محمد زمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ساحلی حدود کو منشیات کی اسمگلنگ سے محفوظ بنانے کے لیے کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا۔ ان کے مطابق منشیات کے خلاف جنگ میں متعلقہ اداروں کی مسلسل کوششیں ضروری ہیں تاکہ غیر قانونی کاروبار میں ملوث عناصر کو قانون کے دائرے میں لایا جا سکے۔ گڈانی آپریشن اسی عزم کا اظہار ہے کہ منشیات کی بڑی کھیپ ہو یا محدود مقدار، اسمگلنگ کی ہر کوشش کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق گزشتہ دو برس کے اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی پر انسدادِ منشیات کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ آئس، چرس، غیر ملکی شراب اور بیئر سمیت مختلف غیر قانونی اشیا کی برآمدگی کے ذریعے اسمگلنگ کی متعدد کوششیں ناکام بنائی گئی ہیں۔ تاہم حکام کے مطابق منشیات کی روک تھام ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید طریقوں، بہتر نگرانی اور مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔
گڈانی سے برآمد ہونے والی ایک ٹن سے زائد آئس کو ایکسائز بلوچستان کی حالیہ بڑی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ 74 ارب 19 کروڑ روپے مالیت کی بتائی جانے والی اس کھیپ کی برآمدگی نے منشیات اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا بنیادی مقصد معاشرے کو منشیات کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رکھنا، نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچانا اور بلوچستان کی ساحلی حدود کو غیر قانونی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہے۔
ایکسائز بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ حکام کے مطابق ساحلی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کی جائے گی اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔ گڈانی میں ہونے والی کارروائی کو اسی مسلسل کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف منشیات کی بڑی کھیپ پکڑی گئی بلکہ اسمگلنگ کے ایک ممکنہ بڑے نیٹ ورک کو بھی مالی نقصان پہنچایا گیا۔
READ MORE FAQS
- ایکسائز بلوچستان نے کتنی آئس برآمد کی؟
گڈانی کارروائی میں 1,013 کلو گرام آئس برآمد ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔
- برآمد ہونے والی آئس کی مالیت کتنی بتائی گئی ہے؟
حکام کے مطابق برآمد شدہ آئس کی عالمی مارکیٹ میں مالیت 74 ارب 19 کروڑ روپے ہے۔
- کارروائی کہاں کی گئی؟
یہ کارروائی بلوچستان کے علاقے گڈانی میں کی گئی۔
- برآمد ہونے والی منشیات کہاں منتقل کی جانی تھی؟
ڈی جی ایکسائز کے مطابق آئس کو بیرون ملک منتقل کیا جانا تھا۔








