بلاول بھٹو زرداری جوڈیشل کمیشن کے رکن بن سکتے ہیں، فاروق نائیک مستعفی

بلاول بھٹو زرداری جوڈیشل کمیشن کے ممکنہ رکن

بلاول بھٹو زرداری جوڈیشل کمیشن کے رکن بن سکتے ہیں، فاروق نائیک مستعفی

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کا رکن بنانے پر غور کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاروق ایچ نائیک اور مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب نے جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفے دے دیے ہیں، جس کے بعد کمیشن میں پارلیمانی نمائندگی میں ممکنہ ردوبدل کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

جوڈیشل کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کمیشن کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بلاول اس وقت رکن قومی اسمبلی بھی ہیں۔

پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی جبکہ ن لیگ کو سینیٹ سے نمائندگی ملنے کا امکان

ذرائع کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی نشست کے ذریعے جوڈیشل کمیشن میں نمائندگی مل سکتی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کو سینیٹ سے نمائندگی دیے جانے کا امکان ہے۔

محمود خان اچکزئی عمران خان ملاقات اور مذاکرات سے متعلق بیان
محمود خان اچکزئی نے عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا۔

جوڈیشل کمیشن میں ممکنہ تبدیلی ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ میں اپنے تجویز کردہ امیدواروں کی تقرری نہ ہونے پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔

فاروق ایچ نائیک نے جوڈیشل کمیشن کے رکن کی حیثیت سے مختلف اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کے لیے متعدد نام تجویز کیے تھے۔

فاروق نائیک نے 33 امیدواروں کے نام پیش کیے

رپورٹ کے مطابق فاروق ایچ نائیک نے اعلیٰ عدلیہ میں تقرری کے لیے مجموعی طور پر 33 امیدواروں کے نام پیش کیے تھے۔

ان میں سندھ ہائی کورٹ کے لیے 16، لاہور ہائی کورٹ کے لیے 10، بلوچستان ہائی کورٹ کے لیے 5 جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے 2 امیدوار شامل تھے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت بالخصوص سندھ ہائی کورٹ میں اپنے دو نامزد امیدواروں کی تقرری میں دلچسپی رکھتی تھی، تاہم ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے عدالتی اور حکومتی ارکان نے ان امیدواروں کی حمایت نہیں کی۔

اسی طرح لاہور، اسلام آباد اور بلوچستان ہائی کورٹس کے لیے فاروق نائیک کی جانب سے تجویز کردہ امیدواروں کو بھی حکومتی ارکان کی جانب سے مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہوسکی۔

حمایت کی کمی کے باعث فاروق نائیک نے متعلقہ اجلاسوں سے قبل بعض نام واپس لے لیے جبکہ باقی امیدواروں میں سے بھی کچھ مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

سندھ ہائی کورٹ کے ججز کی مدت میں توسیع بھی تنازع کا شکار

رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی نے سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچز میں کام کرنے والے ججز کی مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی خواہش ظاہر کی تھی، تاہم جوڈیشل کمیشن کے عدالتی ارکان نے صرف تین ماہ کی توسیع پر اتفاق کیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج سید فیاض الحسن شاہ کی مستقلی نہ ہونا بھی پیپلز پارٹی کے لیے ایک دھچکا قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پیپلز پارٹی سندھ ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ سمیت مختلف اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کے عمل پر اثرانداز ہونے میں کامیاب رہی تھی۔

فاروق نائیک نے ذاتی مصروفیات کے باعث استعفیٰ دیا

دوسری جانب فاروق ایچ نائیک نے اپنی جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ذاتی مصروفیات کے باعث یہ فیصلہ کیا۔

سہیل آفریدی لانگ مارچ میں شریک، خیبرپختونخوا حکومت کے امور متاثر
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی لانگ مارچ میں شرکت کے دوران پشاور میں حکومتی امور سے متعلق صورتحال۔

ڈان کے مطابق سینیٹر فاروق نائیک نے سینیٹ چیئرمین یوسف رضا گیلانی اور ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے نام ایک خط میں جوڈیشل کمیشن کا رکن مقرر کیے جانے پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے جوڈیشل کمیشن میں خدمات انجام دینے کو اپنے لیے اعزاز اور باعثِ فخر قرار دیا۔

فاروق نائیک نے کمیشن کے رکن کی حیثیت سے سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری سے متعلق متعدد اجلاسوں میں شرکت کی۔

بلاول کی ممکنہ شمولیت پر قانونی حلقوں میں بحث

بلاول بھٹو زرداری کی جوڈیشل کمیشن میں ممکنہ شمولیت نے قانونی حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بعض وکلا کا خیال ہے کہ بلاول کو خود کمیشن میں شامل ہونے کے بجائے پیپلز پارٹی کی نمائندگی کے لیے کسی ایسے رکن پارلیمنٹ کو نامزد کرنا چاہیے جس پر پارٹی اعتماد کرتی ہو۔

اس رائے کے حامی وکلا کا کہنا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ججز کی تقرری کے عمل میں سیاسی اثر و رسوخ کے امکانات پہلے ہی زیر بحث ہیں، اس لیے کسی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کی براہ راست شمولیت مزید سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔

بعض قانونی ماہرین کے مطابق اگر بلاول کمیشن کا حصہ بنتے ہیں تو انہیں ایسے امیدواروں کی حمایت یا مخالفت کے معاملات میں سیاسی طور پر مشکل صورتحال کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جنہیں دیگر سیاسی جماعتیں سپورٹ کر رہی ہوں۔

وکلا نے عدالتی تقرریوں میں سیاسی کردار پر تحفظات ظاہر کردیے

سینئر وکیل صلاح الدین احمد نے جوڈیشل کمیشن میں ممکنہ تبدیلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فاروق نائیک کی جگہ بلاول بھٹو زرداری کی شمولیت اس تاثر کو مضبوط کرے گی کہ عدالتی تقرریوں میں سیاسی جماعتوں کا کردار بڑھ رہا ہے۔

ایک اور وکیل ردا حسین نے بھی 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے نتیجے میں عدالتی آزادی سے متعلق سوالات اٹھائے۔

انتونیو گوتریس کو نشانِ امتیاز دیتے ہوئے صدر آصف علی زرداری
صدر آصف علی زرداری نے یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو نشانِ امتیاز سے نواز دیا۔

ان کا مؤقف تھا کہ جوڈیشل کمیشن میں عدالتی ارکان اب اقلیت میں ہیں جبکہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کی حمایت ججز کی تقرری میں زیادہ فیصلہ کن حیثیت اختیار کرچکی ہے۔

تاہم جوڈیشل کمیشن میں بلاول بھٹو زرداری کی شمولیت کے حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

فاروق نائیک کا سیاسی و قانونی پس منظر

فاروق ایچ نائیک گزشتہ تین دہائیوں سے پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ 2003 سے سندھ سے سینیٹر ہیں اور 2008 کے عام انتخابات کے بعد وفاقی وزیر قانون بھی رہ چکے ہیں۔

وہ سینیٹ کے چیئرمین کے منصب پر بھی فائز رہے۔ بطور وکیل انہوں نے پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں کے مختلف آئینی اور قانونی مقدمات میں نمائندگی کی۔

فاروق نائیک نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کے متعدد مقدمات بھی لڑے اور سپریم کورٹ میں اہم آئینی مقدمات میں پیش ہوتے رہے۔

اب ان کے جوڈیشل کمیشن سے استعفے کے بعد بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ شمولیت نے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے عمل میں سیاسی جماعتوں کے کردار سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: کیا بلاول بھٹو زرداری جوڈیشل کمیشن کے رکن بن سکتے ہیں؟
جواب: رپورٹس کے مطابق بلاول بھٹو زرداری جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رکنیت میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔
سوال 2: فاروق نائیک نے جوڈیشل کمیشن سے استعفیٰ کیوں دیا؟
جواب: فاروق نائیک کے مطابق انہوں نے ذاتی مصروفیات کے باعث جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔
سوال 3: فاروق نائیک نے جوڈیشل کمیشن میں کیا کردار ادا کیا؟
جواب: فاروق نائیک نے اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کے لیے مختلف امیدواروں کے نام تجویز کیے اور کمیشن کے متعدد اجلاسوں میں شرکت کی۔
سوال 4: بلاول بھٹو کی جوڈیشل کمیشن میں شمولیت کیوں اہم ہے؟
جواب: بلاول کی ممکنہ شمولیت سے جوڈیشل کمیشن میں پیپلز پارٹی کی براہ راست سیاسی نمائندگی بڑھے گی اور عدالتی تقرریوں میں سیاسی کردار پر بحث مزید اہم ہوسکتی ہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:44 AM
طلوع آفتاب06:07 AM
ظہر11:55 AM
عصر03:14 PM
مغرب05:44 PM
عشاء07:07 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6