بلاول بھٹو زرداری جوڈیشل کمیشن کے رکن بن سکتے ہیں، فاروق نائیک مستعفی
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کا رکن بنانے پر غور کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاروق ایچ نائیک اور مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب نے جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفے دے دیے ہیں، جس کے بعد کمیشن میں پارلیمانی نمائندگی میں ممکنہ ردوبدل کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کمیشن کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بلاول اس وقت رکن قومی اسمبلی بھی ہیں۔
پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی جبکہ ن لیگ کو سینیٹ سے نمائندگی ملنے کا امکان
ذرائع کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی نشست کے ذریعے جوڈیشل کمیشن میں نمائندگی مل سکتی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کو سینیٹ سے نمائندگی دیے جانے کا امکان ہے۔

جوڈیشل کمیشن میں ممکنہ تبدیلی ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ میں اپنے تجویز کردہ امیدواروں کی تقرری نہ ہونے پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔
فاروق ایچ نائیک نے جوڈیشل کمیشن کے رکن کی حیثیت سے مختلف اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کے لیے متعدد نام تجویز کیے تھے۔
فاروق نائیک نے 33 امیدواروں کے نام پیش کیے
رپورٹ کے مطابق فاروق ایچ نائیک نے اعلیٰ عدلیہ میں تقرری کے لیے مجموعی طور پر 33 امیدواروں کے نام پیش کیے تھے۔
ان میں سندھ ہائی کورٹ کے لیے 16، لاہور ہائی کورٹ کے لیے 10، بلوچستان ہائی کورٹ کے لیے 5 جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے 2 امیدوار شامل تھے۔
پیپلز پارٹی کی قیادت بالخصوص سندھ ہائی کورٹ میں اپنے دو نامزد امیدواروں کی تقرری میں دلچسپی رکھتی تھی، تاہم ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے عدالتی اور حکومتی ارکان نے ان امیدواروں کی حمایت نہیں کی۔
اسی طرح لاہور، اسلام آباد اور بلوچستان ہائی کورٹس کے لیے فاروق نائیک کی جانب سے تجویز کردہ امیدواروں کو بھی حکومتی ارکان کی جانب سے مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہوسکی۔
حمایت کی کمی کے باعث فاروق نائیک نے متعلقہ اجلاسوں سے قبل بعض نام واپس لے لیے جبکہ باقی امیدواروں میں سے بھی کچھ مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
سندھ ہائی کورٹ کے ججز کی مدت میں توسیع بھی تنازع کا شکار
رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی نے سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچز میں کام کرنے والے ججز کی مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی خواہش ظاہر کی تھی، تاہم جوڈیشل کمیشن کے عدالتی ارکان نے صرف تین ماہ کی توسیع پر اتفاق کیا۔
سندھ ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج سید فیاض الحسن شاہ کی مستقلی نہ ہونا بھی پیپلز پارٹی کے لیے ایک دھچکا قرار دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پیپلز پارٹی سندھ ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ سمیت مختلف اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کے عمل پر اثرانداز ہونے میں کامیاب رہی تھی۔
فاروق نائیک نے ذاتی مصروفیات کے باعث استعفیٰ دیا
دوسری جانب فاروق ایچ نائیک نے اپنی جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ذاتی مصروفیات کے باعث یہ فیصلہ کیا۔

ڈان کے مطابق سینیٹر فاروق نائیک نے سینیٹ چیئرمین یوسف رضا گیلانی اور ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے نام ایک خط میں جوڈیشل کمیشن کا رکن مقرر کیے جانے پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے جوڈیشل کمیشن میں خدمات انجام دینے کو اپنے لیے اعزاز اور باعثِ فخر قرار دیا۔
فاروق نائیک نے کمیشن کے رکن کی حیثیت سے سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری سے متعلق متعدد اجلاسوں میں شرکت کی۔
بلاول کی ممکنہ شمولیت پر قانونی حلقوں میں بحث
بلاول بھٹو زرداری کی جوڈیشل کمیشن میں ممکنہ شمولیت نے قانونی حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض وکلا کا خیال ہے کہ بلاول کو خود کمیشن میں شامل ہونے کے بجائے پیپلز پارٹی کی نمائندگی کے لیے کسی ایسے رکن پارلیمنٹ کو نامزد کرنا چاہیے جس پر پارٹی اعتماد کرتی ہو۔
اس رائے کے حامی وکلا کا کہنا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ججز کی تقرری کے عمل میں سیاسی اثر و رسوخ کے امکانات پہلے ہی زیر بحث ہیں، اس لیے کسی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کی براہ راست شمولیت مزید سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔
بعض قانونی ماہرین کے مطابق اگر بلاول کمیشن کا حصہ بنتے ہیں تو انہیں ایسے امیدواروں کی حمایت یا مخالفت کے معاملات میں سیاسی طور پر مشکل صورتحال کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جنہیں دیگر سیاسی جماعتیں سپورٹ کر رہی ہوں۔
وکلا نے عدالتی تقرریوں میں سیاسی کردار پر تحفظات ظاہر کردیے
سینئر وکیل صلاح الدین احمد نے جوڈیشل کمیشن میں ممکنہ تبدیلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فاروق نائیک کی جگہ بلاول بھٹو زرداری کی شمولیت اس تاثر کو مضبوط کرے گی کہ عدالتی تقرریوں میں سیاسی جماعتوں کا کردار بڑھ رہا ہے۔
ایک اور وکیل ردا حسین نے بھی 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے نتیجے میں عدالتی آزادی سے متعلق سوالات اٹھائے۔

ان کا مؤقف تھا کہ جوڈیشل کمیشن میں عدالتی ارکان اب اقلیت میں ہیں جبکہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کی حمایت ججز کی تقرری میں زیادہ فیصلہ کن حیثیت اختیار کرچکی ہے۔
تاہم جوڈیشل کمیشن میں بلاول بھٹو زرداری کی شمولیت کے حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
فاروق نائیک کا سیاسی و قانونی پس منظر
فاروق ایچ نائیک گزشتہ تین دہائیوں سے پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ 2003 سے سندھ سے سینیٹر ہیں اور 2008 کے عام انتخابات کے بعد وفاقی وزیر قانون بھی رہ چکے ہیں۔
وہ سینیٹ کے چیئرمین کے منصب پر بھی فائز رہے۔ بطور وکیل انہوں نے پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں کے مختلف آئینی اور قانونی مقدمات میں نمائندگی کی۔
فاروق نائیک نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کے متعدد مقدمات بھی لڑے اور سپریم کورٹ میں اہم آئینی مقدمات میں پیش ہوتے رہے۔
اب ان کے جوڈیشل کمیشن سے استعفے کے بعد بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ شمولیت نے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے عمل میں سیاسی جماعتوں کے کردار سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔
The development comes amid reported dissatisfaction within the PPP leadership over the failure to secure the appointment of its preferred candidates as judges of the superior courts.
Naek, a senior PPP legal figure and the outgoing JCP member, had proposed 33 candidates for appointment to the superior judiciary16 for the Sindh High Court (SHC), 10 for the Lahore High Court (LHC), five for the Balochistan High Court (BHC) and two for the Islamabad High Court (IHC).
The PPP leadership was particularly interested in securing the appointment of two of its nominees to the SHC. However, neither the judicial nor executive members of the commission supported their candidatures.
Similarly, the executive members did not back any of Naek's nominees for the LHC, IHC and BHC.
Facing insufficient support from both judicial and executive members, Naek withdrew several nominations before the relevant meetings commenced, while some of the remaining candidates failed to secure the required majority.
The PPP had also sought a six-month extension in the tenure of judges serving on the SHC's constitutional benches. However, the JCP's judicial members agreed to extend their tenure by only three months.
The non-confirmation of SHC Additional Judge Syed Fiaz-ul-Hassan Shah was also viewed as a setback for the PPP. Last year, the party succeeded in influencing judicial appointments in several high courts, particularly the SHC, Peshawar High Court and LHC.
The subsequent delay by the president in approving the summary for the appointment of judges for several weeks also generated speculation. The summary was eventually approved following what sources described as an understanding with the government.
The possibility of Bilawal's nomination to the JCP has meanwhile triggered a fresh debate among lawyers over the growing political role in judicial appointments.
— Hasnaat Malik (@HasnaatMalik) October 8, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: کیا بلاول بھٹو زرداری جوڈیشل کمیشن کے رکن بن سکتے ہیں؟
جواب: رپورٹس کے مطابق بلاول بھٹو زرداری جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رکنیت میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔
سوال 2: فاروق نائیک نے جوڈیشل کمیشن سے استعفیٰ کیوں دیا؟
جواب: فاروق نائیک کے مطابق انہوں نے ذاتی مصروفیات کے باعث جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔
سوال 3: فاروق نائیک نے جوڈیشل کمیشن میں کیا کردار ادا کیا؟
جواب: فاروق نائیک نے اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کے لیے مختلف امیدواروں کے نام تجویز کیے اور کمیشن کے متعدد اجلاسوں میں شرکت کی۔
سوال 4: بلاول بھٹو کی جوڈیشل کمیشن میں شمولیت کیوں اہم ہے؟
جواب: بلاول کی ممکنہ شمولیت سے جوڈیشل کمیشن میں پیپلز پارٹی کی براہ راست سیاسی نمائندگی بڑھے گی اور عدالتی تقرریوں میں سیاسی کردار پر بحث مزید اہم ہوسکتی ہے۔






