سہیل آفریدی کی لانگ مارچ میں شرکت، خیبرپختونخوا حکومت کے سرکاری کام متاثر ہونے کا دعویٰ
سہیل آفریدی لانگ مارچ میں شرکت کے باعث خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں وزیراعلیٰ کی عدم موجودگی کے دوران صوبائی حکومت کے سرکاری امور متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے صوبے کے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دوران ان کی پشاور میں عدم موجودگی کے باعث وزیراعلیٰ ہاؤس اور صوبائی حکومت کے بعض انتظامی معاملات معمول کے مطابق آگے نہ بڑھنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ کی عدم موجودگی، لانگ مارچ اور موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کا ایک اہم اجلاس بھی منعقد نہیں ہوسکا۔
پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کا اجلاس نہ ہوسکا
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سے متعلق اجلاس طے تھا، تاہم وزیراعلیٰ کی پشاور میں عدم موجودگی کے باعث یہ اجلاس نہیں ہوسکا۔
محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے اجلاس صوبے کے ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی معاملات کے حوالے سے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں اجلاس نہ ہونے سے متعلقہ امور پر پیش رفت متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
سرکاری سمریاں زیر التوا
فراہم کردہ خبر کے مطابق وزیراعلیٰ آفس میں وزیراعلیٰ کی عدم موجودگی کے باعث متعدد سمریاں بھی زیر التوا ہیں۔
صوبائی حکومت کے مختلف محکموں سے متعلق سمریاں وزیراعلیٰ کی منظوری کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں وزیراعلیٰ کی عدم موجودگی کے باعث ان معاملات پر فیصلہ سازی میں تاخیر کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
خبر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزرا اور مشیروں پر مشتمل مختلف کمیٹیوں کے اجلاس بھی منعقد نہیں ہوسکے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ یا صوبائی کابینہ کے کسی وزیر نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس اور ایف بی آر اہلکاروں کی شہادت کے بعد ہونے والی نماز جنازہ میں بھی شرکت نہیں کی۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی جب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لانگ مارچ کے سلسلے میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں موجود تھے۔
تاہم نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کی وجوہات اور اس حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی الگ وضاحت فراہم کردہ متن میں شامل نہیں۔
افسران اور سرکاری محکموں کی سرگرمیاں بھی متاثر
خبر کے مطابق وزیراعلیٰ کی سہیل آفریدی لانگ مارچ میں شرکت کے باعث صوبائی حکومت کے بعض افسران بھی سیاسی و انتظامی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔
فراہم کردہ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرکاری محکموں کی ڈاک بھی رکی ہوئی ہے، جس کے باعث مختلف دفتری معاملات کی کارروائی آگے بڑھانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
صوبائی حکومت کے معاملات میں وزیراعلیٰ آفس مرکزی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے وزیراعلیٰ کی عدم موجودگی میں ان امور کی رفتار متاثر ہونے کا امکان رہتا ہے جن کے لیے براہ راست منظوری یا فیصلہ درکار ہو۔
لانگ مارچ اور حکومتی امور
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے لانگ مارچ میں شرکت ایک سیاسی سرگرمی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کی آئینی و انتظامی ذمہ داریاں بھی جاری رہتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں دونوں سرگرمیوں کے درمیان انتظامی معاملات کو جاری رکھنا صوبائی حکومت کے لیے اہم معاملہ بن گیا ہے۔
فراہم کردہ خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی پشاور میں عدم موجودگی کے دوران کئی سرکاری امور میں تاخیر ہوئی۔ ان میں اجلاسوں کا انعقاد، سمریوں پر پیش رفت اور وزرا و مشیروں کی کمیٹیوں کے اجلاس شامل ہیں۔
اس صورتحال میں یہ سوال بھی اہمیت اختیار کرتا ہے کہ وزیراعلیٰ کی طویل سیاسی مصروفیات کے دوران صوبائی حکومت کے معمول کے انتظامی معاملات کس طریقہ کار کے تحت چلائے جاتے ہیں۔
خیبرپختونخوا جیسے بڑے صوبے میں روزمرہ حکومتی امور میں مختلف محکموں کے اجلاس، ترقیاتی منصوبوں سے متعلق فیصلے، انتظامی سمریاں اور دیگر سرکاری معاملات شامل ہوتے ہیں۔
وزیراعلیٰ کی موجودگی یا عدم موجودگی کے دوران ان معاملات کی بروقت تکمیل کے لیے متبادل انتظامی طریقہ کار کا فعال ہونا ضروری ہوتا ہے۔ موجودہ خبر میں تاہم یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی عدم موجودگی کے باعث متعدد معاملات رکے ہوئے ہیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ فراہم کردہ معلومات میں صوبائی حکومت کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی تفصیلی مؤقف شامل نہیں۔ اس لیے اجلاسوں، سمریوں اور سرکاری ڈاک سے متعلق تفصیلات کو دستیاب اطلاعات اور دعوے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ حکومتی ذمہ داریاں
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی لانگ مارچ میں شرکت کے دوران صوبائی حکومت کے معمول کے انتظامی امور کی رفتار کا معاملہ زیر بحث آگیا ہے۔
فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ کی پشاور میں عدم موجودگی سے بعض اجلاس منعقد نہیں ہوسکے، متعدد سمریاں زیر التوا ہیں اور وزرا و مشیروں کی کمیٹیوں کے اجلاس بھی نہیں ہوئے۔
دوسری جانب لانگ مارچ کے باعث وزیراعلیٰ صوبے کے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں صوبائی حکومت کے لیے سیاسی سرگرمیوں اور روزمرہ انتظامی ذمہ داریوں کے درمیان تسلسل برقرار رکھنا اہم معاملہ بن گیا ہے۔
READ MORE FAQS
سوال: سہیل آفریدی کہاں مصروف ہیں؟
جواب: فراہم کردہ معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے صوبے کے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔
سوال: وزیراعلیٰ کی عدم موجودگی سے کون سا اجلاس متاثر ہوا؟
جواب: خبر کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کا اجلاس منعقد نہیں ہوسکا۔
سوال: کیا وزیراعلیٰ آفس میں سمریاں زیر التوا ہیں؟
جواب: فراہم کردہ خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی عدم موجودگی کے باعث متعدد سمریاں زیر التوا ہیں۔
سوال: کیا وزرا اور مشیروں کی کمیٹیوں کے اجلاس بھی متاثر ہوئے؟
جواب: خبر کے مطابق وزرا اور مشیروں پر مشتمل بعض کمیٹیوں کے اجلاس بھی نہیں ہوسکے۔








