کینیڈا کے وین رائٹ فوجی اڈے پر ہولناک آتشزدگی، 4 اہلکار ہلاک، درجنوں شدید زخمی

کینیڈا کے وین رائٹ فوجی اڈے پر آتشزدگی کے بعد امدادی کارروائیاں

کینیڈا کے وین رائٹ فوجی اڈے پر ہولناک آتشزدگی، 4 اہلکار ہلاک، درجنوں شدید زخمی

کینیڈا کے صوبے البرٹا میں فوجی تربیتی اڈے پر بڑے پیمانے پر آتشزدگی کے نتیجے میں چار فوجی اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے واقعے کو امن کے دور میں مسلح افواج کے لیے بدترین سانحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق آگ ہفتے کی سہ پہر تقریباً 4 بجے کینیڈین فورسز بیس وین رائٹ (CFB Wainwright) میں لگی۔ یہ کینیڈا کے مصروف ترین فوجی تربیتی اڈوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں گزشتہ ہفتے بھی لائیو فائرنگ کی مشقیں جاری تھیں۔

سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت کے بعد سفارتی وضاحت کا معاملہ
دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت کے بعد بنگلہ دیش نے سعودی حکام سے تفصیلات طلب کیں۔

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے بیان میں کہا کہ وین رائٹ فوجی اڈے پر آتشزدگی کے واقعے میں چار فوجی اہلکار جان سے گئے جبکہ درجنوں دیگر شدید زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور حکام واقعے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیں گے۔

مارک کارنی نے کہا کہ ہلاک ہونے والے اہلکار کینیڈا کی خدمت کے لیے تربیت حاصل کر رہے تھے اور اب ملک ان کی قربانیوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بحالی کے ہر مرحلے میں مدد فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ ملک بھر میں وفاقی عمارتوں پر کینیڈا کے پرچم سرنگوں رکھے جائیں گے۔

مقامی حکام کے مطابق تیز ہواؤں کے باعث آگ نے غیر معمولی تیزی سے پھیل کر وین رائٹ فوجی اڈے کی باڑ تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم ممکنہ طور پر دوبارہ بھڑکنے والے شعلوں سے نمٹنے کے لیے فائر فائٹرز اور امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر موجود ہیں۔

مقامی میئر بروس پگھ نے میڈیا کو بتایا کہ وین رائٹ فوجی اڈے پر اس نوعیت کا سانحہ غیر معمولی ہے۔ ان کے مطابق اڈے پر توپوں کی فائرنگ کی آوازیں سنائی دینا معمول کی بات ہے، تاہم واقعے کے روز فائرنگ اچانک رک گئی اور اس کے بعد ہنگامی امدادی ٹیموں کو طلب کیا گیا۔

حادثے کے بعد زخمیوں کو قریبی طبی مراکز اور ایڈمنٹن کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ایڈمنٹن کے رائل الیگزینڈرا اسپتال نے بڑی تعداد میں زخمیوں کی آمد کے پیش نظر ہنگامی پروٹوکول ’’کوڈ اورنج‘‘ نافذ کیا۔

تھائی ملکہ سوتھیدا طیارہ اڑانے کی خبر
تھائی ملکہ سوتھیدا کے خود طیارہ اڑا کر جاپان پہنچنے کا دعویٰ

اسپتال کے شعبۂ ایمرجنسی سے وابستہ ڈاکٹر وارن تھرسک کے مطابق زخمیوں کی تعداد نے وین رائٹ کے طبی مراکز پر شدید دباؤ ڈال دیا۔ امدادی کارروائیوں میں ایڈمنٹن، سسکاٹون اور کیلگری سے شاک ٹراما ایئر ریسکیو سروس کی ٹیموں اور طیاروں نے بھی حصہ لیا۔

حکام نے تاحال آگ لگنے کی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔ کینیڈین میڈیا گلوبل نیوز نے نام ظاہر نہ کرنے والے فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ لائیو فائرنگ کی مشق کے دوران گیس پائپ لائن یا گیس کے کنویں کو نقصان پہنچنے سے واقعہ پیش آیا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

کینیڈین مسلح افواج کے مطابق وین رائٹ فوجی اڈے پر آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور فی الحال ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے جن سے یہ ظاہر ہو کہ آگ کسی دہشت گردانہ کارروائی کا نتیجہ تھی۔

حکام نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت سے متعلق تفصیلات جاری کرنے سے گریز کیا ہے، کیونکہ پہلے متاثرہ اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو اطلاع دینے کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی میڈیا رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد سات بھی بتائی گئی تھی، تاہم وزیراعظم مارک کارنی کے بیان میں چار اہلکاروں کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا۔ حتمی سرکاری تفصیلات سامنے آنے تک ہلاکتوں کی تعداد اور وین رائٹ فوجی اڈے پر آتشزدگی کے واقعے کی اصل وجہ سے متعلق مزید وضاحت کا انتظار ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: کینیڈا کے فوجی اڈے پر آتشزدگی کہاں ہوئی؟
جواب: آتشزدگی کینیڈا کے صوبے البرٹا میں واقع کینیڈین فورسز بیس وین رائٹ میں ہوئی۔
سوال 2: آتشزدگی میں کتنے فوجی اہلکار ہلاک ہوئے؟
جواب: وزیراعظم مارک کارنی کے بیان کے مطابق چار فوجی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ واقعے کی مزید تفصیلات اور متاثرین کی شناخت سے متعلق سرکاری معلومات کا انتظار ہے۔
سوال 3: کینیڈا کے فوجی اڈے پر آگ لگنے کی وجہ کیا تھی؟
جواب: آگ لگنے کی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں ہوئی۔ میڈیا رپورٹس میں لائیو فائرنگ کی مشق کے دوران گیس پائپ لائن یا گیس کے کنویں کو نقصان پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا، تاہم حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
سوال 4: کیا یہ واقعہ دہشت گردی کا نتیجہ تھا؟
جواب: کینیڈین مسلح افواج کے مطابق ابتدائی طور پر دہشت گردانہ کارروائی کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:52 AM
طلوع آفتاب06:15 AM
ظہر11:53 AM
عصر03:05 PM
مغرب05:31 PM
عشاء06:54 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6