ڈی آئی خان میں فائرنگ، ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید

ڈی آئی خان فائرنگ، ایف بی آر اور پولیس اہلکاروں پر حملہ

ڈی آئی خان فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر کے 4 اہلکار اور ٹریفک پولیس کا ایک اہلکار شہید ہوگیا

ڈی آئی خان فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ ایک ٹریفک پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا۔ پولیس کے مطابق دونوں واقعات میں اہلکاروں کو دوران ڈیوٹی نشانہ بنایا گیا۔

ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان ضیا الدین احمد کے مطابق پہلا واقعہ ابہایا پل کے قریب پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے ایک گاڑی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں موجود ایف بی آر کے 4 اہلکار شہید ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔

ڈی پی او ضیا الدین احمد کے مطابق جاں بحق ایف بی آر اہلکاروں کی لاشیں ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔ پولیس نے واقعے میں ملوث مسلح افراد کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

پولیس کے مطابق فائرنگ میں جاں بحق ہونے والے ایف بی آر کے 4 اہلکاروں میں 2 مستقل ملازمین جبکہ 2 کنٹریکٹ پر کام کرنے والے اہلکار شامل تھے۔ حکام نے واقعے کی مزید تفصیلات اکٹھی کرنا شروع کردی ہیں۔

دوسرا واقعہ بنوں روڈ پر پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ٹریفک پولیس کی موبائل پر فائرنگ کردی۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ایک ٹریفک پولیس اہلکار شہید جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔

زخمی اہلکار کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے دوسرے واقعے کے بعد بھی علاقے میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کردیئے ہیں۔

ڈی پی او ضیا الدین احمد کے مطابق دونوں واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ پولیس نے حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق ڈی آئی خان فائرنگ کے واقعات کے بعد شہر اور گردونواح میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ اہم مقامات، شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی مزید سخت کردی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن کے دوران مشتبہ افراد اور ممکنہ ٹھکانوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔ پولیس کی جانب سے علاقے میں گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کی جاسکے۔

فائرنگ کے دونوں واقعات کے بعد پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے شواہد جمع کیے جارہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعات میں ملوث عناصر کے بارے میں مزید معلومات سامنے آسکتی ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ہی روز فائرنگ کے دو واقعات میں 5 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی صورتحال پر بھی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

READ MORE FAQS

سوال: ڈی آئی خان فائرنگ کے واقعات میں کتنے اہلکار شہید ہوئے؟
جواب: دو مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 5 اہلکار شہید ہوئے، جن میں ایف بی آر کے 4 اور ٹریفک پولیس کا ایک اہلکار شامل ہے۔

سوال: ایف بی آر اہلکاروں پر فائرنگ کہاں ہوئی؟
جواب: ایف بی آر اہلکاروں کی گاڑی کو ابہایا پل کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

سوال: ایف بی آر کے کتنے اہلکار شہید ہوئے؟
جواب: فائرنگ کے واقعے میں ایف بی آر کے 4 اہلکار شہید ہوئے، جن میں 2 مستقل اور 2 کنٹریکٹ ملازمین تھے۔

سوال: ٹریفک پولیس پر فائرنگ کہاں ہوئی؟
جواب: ٹریفک پولیس موبائل کو بنوں روڈ پر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:43 AM
طلوع آفتاب06:06 AM
ظہر11:56 AM
عصر03:16 PM
مغرب05:47 PM
عشاء07:09 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6