ایف آئی اے آف لوڈنگ اسلام آباد ہائیکورٹ: ایس او پیز قانون نہیں، عدالت کے سخت ریمارکس

اسلام آباد ہائیکورٹ ایف آئی اے آف لوڈنگ کیس سماعت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایس او پیز قانون نہیں، شہریوں کو آف لوڈ کرنے کا اختیار کہاں سے ملا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کی جانب سے شہریوں کو ایئرپورٹ پر آف لوڈ کرنے کے قانونی اختیار پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ ایس او پی قانون نہیں ہوتا، ایسے تو ہر ادارہ قانون کے بجائے ایس او پیز پر کام شروع کر دے گا۔

کیس کا پس منظر

شہری محمد ساجد کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالتی طلبی پر ایف آئی اے کی ایڈیشنل ڈائریکٹر زنیرہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر افضل نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔ ایف آئی اے کی جانب سے 1975 کا ایک لیٹر عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت کا لیٹر پر ریمارکس

جسٹس انعام امین منہاس نے لیٹر کا جائزہ لینے کے بعد ریمارکس دیے کہ اس لیٹر میں ایسا کچھ نہیں کہ آپ کسی شہری کو آف لوڈ کر سکیں۔ یہ ریمارکس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عدالت کے نزدیک ایف آئی اے کی جانب سے پیش کردہ دستاویز آف لوڈنگ کے اختیار کے لیے ناکافی ہے۔

ایس او پیز پر عدالت کا موقف

ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ شہریوں کو آف لوڈ کرنے کے اقدامات ایس او پیز کے تحت کیے جاتے ہیں۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایس او پیز قانون نہیں ہوتے، عدالتوں کو قانون پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے۔

اعداد و شمار: ڈیپورٹیشن اور غیر واپس آنے والے افراد

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے افضل نیازی نے بتایا کہ 45 ہزار 850 افراد ڈی پورٹ ہو کر پاکستان واپس آئے ہیں، جبکہ پاکستان سے وزٹ ویزا پر جانے والے 39 ہزار 95 افراد واپس نہیں آئے۔ ان کے مطابق 1100 سے زائد افراد بیرون ملک گداگری میں ملوث ہیں۔

عدالت کا اہم استفسار

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ کیا یہ تمام افراد ایف آئی اے کی کلیئرنس کے بعد بیرون ملک گئے تھے۔ یہ سوال اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ اگر ایف آئی اے نے پہلے ہی ان افراد کو کلیئرنس دی تھی تو بعد میں ہونے والے مسائل کی ذمہ داری کہاں عائد ہوتی ہے۔

قانون میں ترمیم کی سفارش

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ایف آئی اے کے پاس قانونی اختیار نہیں تھا تو قانون میں ترمیم کی سفارش کی جا سکتی تھی۔ عدالت نے مزید کہا کہ بنیادی حقوق کو ازخود ایس او پیز کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

"آپ بظاہر قانون کے خلاف کام کر رہے ہیں”

جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے یونیفارم پہنے ہوئے پاکستان کی ایک ایجنسی ہیں لیکن بظاہر قانون کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا ایف آئی اے کے پاس یہ اختیار ہے کہ کسی شہری کو اس بنیاد پر آف لوڈ کرے کہ وہ بیرون ملک جا کر کوئی مخصوص کام کرے گا۔

عدالت کی حتمی ہدایت

عدالت نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ اگر ایس او پیز اتنے اہم ہیں تو متعلقہ قانون میں ترمیم کرائی جائے۔ آئندہ سماعت پر ایس او پیز نہیں بلکہ قانونی اختیار سے متعلق عدالت کی معاونت کی جائے۔ عدالت نے ایف آئی اے حکام کو آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

آف لوڈنگ اور شہریوں کے بنیادی حقوق

پاکستان میں ایئرپورٹس پر شہریوں کو مختلف بنیادوں پر آف لوڈ کیے جانے کے واقعات ماضی میں بھی زیرِ بحث رہے ہیں، جن میں سفری دستاویزات، مبینہ غیر قانونی امیگریشن کے خدشات یا دیگر انتظامی وجوہات شامل ہوتی ہیں۔ آئینِ پاکستان کے تحت شہریوں کو نقل و حرکت کی آزادی کا بنیادی حق حاصل ہے، اور کسی بھی پابندی کے لیے واضح قانونی جواز درکار ہوتا ہے، نہ کہ محض انتظامی ایس او پیز۔

READ MORE FAQS
  1. یہ کیس کس عدالت میں زیرِ سماعت ہے؟
    اسلام آباد ہائیکورٹ میں، جسٹس انعام امین منہاس کی عدالت میں۔
  2. یہ درخواست کس نے دائر کی؟
    شہری محمد ساجد نے۔
  3. عدالت کا بنیادی اعتراض کیا ہے؟
    عدالت کے مطابق ایس او پیز قانون کا متبادل نہیں ہو سکتے، اور ایف آئی اے کے پاس شہریوں کو آف لوڈ کرنے کا واضح قانونی اختیار موجود نہیں۔
  4. ایف آئی اے نے عدالت میں کیا دستاویز پیش کی؟
    1975 کا ایک لیٹر، جسے عدالت نے ناکافی قرار دیا۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:34 AM
طلوع آفتاب05:57 AM
ظہر12:00 PM
عصر03:27 PM
مغرب06:03 PM
عشاء07:26 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6