فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، آخری رسومات میں شرکت

فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت متوقع

رپورٹس کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور نماز جنازہ میں شرکت کریں گے۔

ایرانی حکام نے ان کا استقبال کیا، جبکہ بتایا گیا ہے کہ وہ پاکستانی وفد کے دیگر ارکان کے ساتھ تعزیتی تقریبات میں شریک ہوں گے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف بھی وفاقی کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ ایران پہنچ چکے ہیں۔ پاکستانی وفد میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور دیگر اعلیٰ شخصیات بھی شامل ہیں، جو ایرانی قیادت اور عوام سے اظہارِ تعزیت اور یکجہتی کریں گی۔

ذرائع کے مطابق ایرانی دارالحکومت میں آخری رسومات کے لیے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف ممالک کے سرکاری وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، مذہبی اور سفارتی تعلقات کی روشنی میں پاکستانی قیادت کی اس شرکت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون سے متعلق مختلف امور بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں، اگرچہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب ایران میں تعزیتی تقریبات میں شرکت کے لیے مختلف ممالک کے سیاسی، عسکری اور مذہبی رہنماؤں کی آمد جاری ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق آخری رسومات کے دوران لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔

پاکستانی وفد کی موجودگی دونوں برادر ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور مشکل وقت میں باہمی یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

READ MORE FAQS
  1. فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کیوں گئے ہیں؟
    رپورٹس کے مطابق وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ایران پہنچے ہیں۔
  2. پاکستان کے کن رہنماؤں نے ایران کا دورہ کیا؟
    وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور دیگر اعلیٰ شخصیات ایران میں موجود ہیں۔
  3. آخری رسومات کہاں منعقد ہو رہی ہیں؟
    تعزیتی تقریبات اور آخری رسومات تہران میں منعقد ہو رہی ہیں۔
  4. کیا پاکستانی وفد ایرانی قیادت سے ملاقات بھی کرے گا؟
    اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سفارتی رابطوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے

متعلقہ خبریں