آئی سی سی نے محمد عباس اور خرم شہزاد کے خلاف ایکشن، جرمانہ اور ڈی میرٹ پوائنٹس

ICC Muhammad Abbas Khurram Shahzad Action
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آئی سی سی نے محمد عباس اور خرم شہزاد کے خلاف کارروائی کردی، جرمانہ اور تنبیہ جاری

آئی سی سی نے محمد عباس اور خرم شہزاد کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دونوں فاسٹ بولرز کے خلاف ضابطۂ اخلاق کے تحت کارروائی کی ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے جاری فیصلے کے مطابق خرم شہزاد پر میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ محمد عباس کو باضابطہ تنبیہ جاری کی گئی۔ اس کے علاوہ دونوں کھلاڑیوں کے ریکارڈ میں ایک، ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کر دیا گیا۔

یہ کارروائی پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بعد عمل میں آئی۔ آئی سی سی کے مطابق دونوں کھلاڑیوں نے وکٹ حاصل کرنے کے بعد ایسا جشن منایا جو ضابطۂ اخلاق کی حدود سے متجاوز سمجھا گیا۔

خرم شہزاد نے ویسٹ انڈیز کے تجربہ کار بلے باز شے ہوپ کو آؤٹ کرنے کے بعد ہاتھ کے اشارے کیے، جنہیں میچ ریفری نے نامناسب قرار دیا۔ اس رویے کو کھیل کے آداب کے خلاف تصور کرتے ہوئے ان پر میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا۔ ساتھ ہی ان کے ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی درج کر دیا گیا۔

دوسری جانب محمد عباس نے ویسٹ انڈیز کے بیٹر واریکین کو آؤٹ کرنے کے بعد جارحانہ انداز میں خوشی کا اظہار کیا۔ اگرچہ ان پر مالی جرمانہ عائد نہیں کیا گیا، تاہم آئی سی سی نے انہیں باضابطہ تنبیہ جاری کرتے ہوئے ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا۔

ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں شکست
ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے کر سیریز میں برتری حاصل کرلی۔

آئی سی سی کا ضابطۂ اخلاق دنیا بھر کے تمام بین الاقوامی کرکٹرز پر یکساں طور پر نافذ ہوتا ہے۔ اس کا مقصد کھیل کے دوران احترام، نظم و ضبط اور اسپورٹس مین شپ کو فروغ دینا ہے۔ اگر کوئی کھلاڑی مخالف ٹیم یا امپائرز کے خلاف نامناسب رویہ اختیار کرے یا ایسا جشن منائے جس سے اشتعال پیدا ہو تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق جدید کرکٹ میں کھلاڑیوں کے جذبات فطری ہوتے ہیں، لیکن انہیں اپنی خوشی کا اظہار ایسے انداز میں کرنا چاہیے جو کھیل کی روح کے مطابق ہو۔ اسی وجہ سے آئی سی سی وقتاً فوقتاً ایسے معاملات میں کارروائی کرتی ہے تاکہ میدان میں مثبت ماحول برقرار رہے۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی جب پاکستان پہلے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں 90 رنز سے شکست کھا گیا۔ اس شکست کے بعد قومی ٹیم کو نہ صرف سیریز میں نقصان اٹھانا پڑا بلکہ بیٹنگ لائن کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔

برائن لارا کرکٹ اکیڈمی، تاروبا میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز نے دوسری اننگز میں پاکستان کو جیت کے لیے 211 رنز کا ہدف دیا تھا۔ اگرچہ ہدف بظاہر قابلِ حصول تھا، لیکن پاکستانی بیٹنگ لائن دباؤ برداشت نہ کر سکی۔

پاکستان کی پوری ٹیم صرف 120 رنز پر آؤٹ ہوگئی اور چوتھی اننگز میں 41 اوور بھی مکمل نہ کھیل سکی۔ کپتان بابر اعظم نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ناقابلِ شکست 58 رنز بنائے، تاہم دوسرے اینڈ سے انہیں خاطر خواہ تعاون نہ مل سکا۔

دلچسپ بات یہ رہی کہ فاسٹ بولر محمد عباس 23 رنز کے ساتھ پاکستان کے دوسرے نمایاں اسکورر رہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹاپ آرڈر بلے باز کس قدر مشکلات کا شکار رہے۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے جیڈن سیلز نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جسٹن گریوز نے دو اہم کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ دونوں بولرز نے پاکستانی بیٹنگ لائن کو مسلسل دباؤ میں رکھا اور اپنی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

دوسری جانب پاکستانی بولرز نے بھی میچ میں اچھی کارکردگی دکھائی، لیکن بیٹنگ کی ناکامی کے باعث ٹیم شکست سے نہ بچ سکی۔ محمد عباس اور خرم شہزاد کی بولنگ کو سراہا گیا، تاہم ان کے جشن منانے کے انداز نے غیر ضروری طور پر توجہ حاصل کر لی۔

کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے کھلاڑیوں کو سبق سیکھنا چاہیے تاکہ آئندہ میدان میں اپنی خوشی کا اظہار ذمہ داری کے ساتھ کریں۔ بین الاقوامی سطح پر ہر عمل کو باریک بینی سے دیکھا جاتا ہے، اس لیے معمولی غلطی بھی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی بن سکتی ہے۔

پاکستانی ٹیم اب سیریز کے اگلے میچ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ٹیم مینجمنٹ کی کوشش ہوگی کہ بیٹنگ لائن کو بہتر بنایا جائے اور کھلاڑیوں کو نظم و ضبط کے حوالے سے بھی مزید آگاہ کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی کارروائیوں سے بچا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق محمد عباس اور خرم شہزاد دونوں پاکستان کے اہم فاسٹ بولرز ہیں اور ان سے مستقبل میں بھی عمدہ کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے۔ اگر وہ اپنی بولنگ کے ساتھ ساتھ میدان میں اپنے رویے پر بھی توجہ دیں تو قومی ٹیم کے لیے مزید کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر آئی سی سی نے محمد عباس اور خرم شہزاد کے خلاف ایکشن صرف دو کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ یہ تمام بین الاقوامی کرکٹرز کے لیے ایک یاد دہانی بھی ہے کہ کھیل کے دوران نظم و ضبط، احترام اور اسپورٹس مین شپ کو ہر صورت برقرار رکھنا ضروری ہے۔