بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مستحق خواتین کو 97 لاکھ مفت سمز جاری، فراڈ روکنے کیلئے پی ٹی اے کے حفاظتی اقدامات سخت
اسلام آباد، 11 ستمبر 2026: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ڈیجیٹل والٹ اقدام کے تحت مستحق خواتین کو اب تک 97 لاکھ تک مفت سمز جاری کی جا چکی ہیں، جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے مستحقین کو جعلی سموں، شناخت کی چوری اور مالی فراڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے سم رجسٹریشن کے نظام میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
یہ اعداد و شمار چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز کا دورہ کرنے والے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائے۔
گیٹس فاؤنڈیشن کے جینڈر ایکویٹی ڈویژن کی صدر ڈاکٹر انیتا زیدی کی قیادت میں وفد نے بی آئی ایس پی حکام سے ملاقات کی، جس میں پروگرام کی ڈیجیٹل تبدیلی، خواتین کے سماجی تحفظ اور مالی شمولیت سے متعلق اقدامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

97 لاکھ مستحق خواتین کو مفت سمز جاری
سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ ڈیجیٹل والٹ اقدام کے تحت اب تک 9.7 ملین یعنی تقریباً 97 لاکھ مفت سمز بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مستحق خواتین میں جاری کی جا چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل والٹ کا مقصد مستحق خواتین کو مالی امداد تک زیادہ محفوظ اور براہِ راست رسائی فراہم کرنا اور ادائیگیوں کے نظام میں شفافیت کو مزید بہتر بنانا ہے۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث مستحقین کی موبائل سم، شناخت اور بائیومیٹرک معلومات کا تحفظ بھی انتہائی اہم ہوگیا ہے، جس کے پیش نظر پی ٹی اے کی جانب سے سم رجسٹریشن کے نظام میں اضافی حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 21 لاکھ مستحقین نشوونما پروگرام میں شامل
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد کو بتایا کہ نشوونما پروگرام کے تحت تقریباً 21 لاکھ مستحقین کا اندراج کیا جا چکا ہے، جبکہ 42 لاکھ مستحقین اب تک پروگرام سے گریجویٹ بھی ہو چکے ہیں۔
نشوونما پروگرام کے ذریعے مستحق خاندانوں خصوصاً خواتین اور بچوں کی صحت، غذائیت اور فلاح و بہبود پر توجہ دی جاتی ہے۔
پی ٹی اے نے سم فراڈ روکنے کیلئے حفاظتی نظام مزید سخت کردیا
دوسری جانب پی ٹی اے نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لاکھوں مستحقین کو غیر قانونی سم اجرا اور مالی فراڈ سے بچانے کے لیے سم فروخت اور رجسٹریشن کے عمل پر مزید سخت نگرانی شروع کر دی ہے۔
دستیاب دستاویز کے مطابق بی آئی ایس پی مستحقین کو سمز کی فروخت کسٹمر سروس سینٹرز (CSCs) اور مجاز فرنچائزز تک محدود کر دی گئی ہے، تاکہ غیر مجاز فروخت کنندگان کے ذریعے مستحقین کے استحصال اور فراڈ کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت بی آئی ایس پی کے ذریعے مالی امداد کی فراہمی میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور Social Protection Wallet کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔

بائیومیٹرک تصدیق کا نظام مزید مؤثر
پی ٹی اے نے سم رجسٹریشن کے نظام میں متعدد تکنیکی حفاظتی اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔
ان اقدامات میں Multi-Finger Biometric Verification، Live-Finger Detection، SIM-sale Devices کی Geofencing اور بائیومیٹرک ڈیوائسز استعمال کرنے والے مجاز افراد پر مزید سخت کنٹرول شامل ہیں۔
پی ٹی اے کا Automated Biometric Monitoring System بھی مشکوک سرگرمیوں اور غیر معمولی رجحانات کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے غیر قانونی سم آپریشنز کے خلاف کارروائی میں معاونت حاصل کی جا رہی ہے۔
شناخت کی چوری اور مالی فراڈ روکنے پر توجہ
پی ٹی اے کے مطابق ان اقدامات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مستحقین موبائل کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل مالی خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شناخت کی چوری، غیر مجاز سم اجرا اور مالی فراڈ کا شکار نہ ہوں۔
ریگولیٹر مزید حفاظتی اقدامات بھی تیار کر رہا ہے، جن میں فیشل ویری فکیشن، مشکوک سم فروخت کے چینلز کی مرکزی سطح پر بلیک لسٹنگ اور ڈپلیکیٹ سم جاری کرنے کے طریقہ کار کو مزید سخت بنانا شامل ہے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور گیٹس فاؤنڈیشن میں تعاون پر اتفاق
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور گیٹس فاؤنڈیشن کے حکام کے درمیان ملاقات میں خواتین مستحقین اور ان کے خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف طریقوں پر بھی بات چیت کی گئی۔
مذاکرات میں ڈیجیٹل اور مالی خواندگی، مختلف علاقائی زبانوں میں تربیتی سیشنز، ماں اور بچے کی صحت، ویکسینیشن، انسانی وسائل کی ترقی اور شکایات کے ازالے کے نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد نے ان شعبوں میں مشترکہ اقدامات کے لیے ابتدائی طور پر پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے 10 اضلاع میں پائلٹ مرحلہ شروع کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔

خواتین کی صحت، بچت اور ہنرمندی پر زور
ڈاکٹر انیتا زیدی نے بی آئی ایس پی مستحقین کے لیے ماں اور بچے کی صحت، بچت اور ضروریات کے مطابق ہنرمندی کی تربیت سے متعلق اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ خواتین کو مالی اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں صحت، غذائیت اور ہنرمندی سے متعلق مؤثر سہولیات فراہم کی جائیں۔
ڈیجیٹل والٹ سے مالی امداد کا نظام مزید محفوظ بنانے کی کوشش
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ڈیجیٹل تبدیلی اور پی ٹی اے کی جانب سے سم رجسٹریشن کے حفاظتی اقدامات کو ایک دوسرے سے منسلک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک جانب 97 لاکھ مستحق خواتین کو مفت سمز فراہم کی جا چکی ہیں تاکہ وہ ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے مالی خدمات تک رسائی حاصل کرسکیں، تو دوسری جانب پی ٹی اے سم رجسٹریشن اور بائیومیٹرک تصدیق کے نظام کو مزید محفوظ بنا رہا ہے۔
حکومتی Social Protection Wallet اقدام کا مقصد مالی امداد کی ادائیگیوں کو زیادہ محفوظ، شفاف اور آسان بنانا جبکہ غیر ضروری درمیانی کردار کو کم کرنا ہے۔
یوں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ڈیجیٹل تبدیلی اور پی ٹی اے کے نئے حفاظتی اقدامات پاکستان کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے پروگرام کے مستحقین کو ڈیجیٹل مالی شمولیت کے ساتھ فراڈ اور شناخت کے غلط استعمال سے تحفظ فراہم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیے جا رہے ہیں۔
گیٹس فاؤنڈیشن کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آج صدر، جینڈر ایکویٹی ڈویژن، ڈاکٹر انیتا زیدی اور کلپنا کوچھر، قائم مقام صدر، گلوبل پالیسی اینڈ ایڈووکیسی ڈویژن، گیٹس فاؤنڈیشن کی قیادت میں بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد سے ملاقات کی۔… pic.twitter.com/80EX614R3y
— Benazir Income Support Programme (@bisp_pakistan) September 10, 2026
READ MORE FAQS”
سوال: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کتنی مفت سمز جاری کی گئی ہیں؟
جواب: BISP چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کے مطابق ڈیجیٹل والٹ اقدام کے تحت مستحق خواتین کو اب تک 9.7 ملین یعنی تقریباً 97 لاکھ مفت سمز جاری کی جا چکی ہیں۔
سوال: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مفت سمز کا مقصد کیا ہے؟
جواب: مفت سمز کا مقصد مستحق خواتین کو ڈیجیٹل والٹ اور مالی خدمات تک زیادہ محفوظ اور براہِ راست رسائی فراہم کرنا ہے۔
سوال: PTA نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مستحقین کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے ہیں؟
جواب: PTA نے ملٹی فنگر بائیومیٹرک ویری فکیشن، لائیو فنگر ڈیٹیکشن، سم سیل ڈیوائسز کی جیو فینسنگ اور بائیومیٹرک ڈیوائسز کے مجاز صارفین پر سخت کنٹرول جیسے اقدامات کیے ہیں۔
سوال: کیا PTA مزید حفاظتی اقدامات بھی متعارف کرائے گا؟
جواب: دستیاب معلومات کے مطابق PTA فیشل ویری فکیشن، مشکوک سم سیل چینلز کی مرکزی بلیک لسٹنگ اور ڈپلیکیٹ سم اجرا کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنانے پر بھی کام کر رہا ہے۔






