کراچی میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹری پکڑی گئی
غیر قانونی سگریٹ فیکٹری کراچی کے ضلع ملیر میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارروائی کے دوران پکڑی گئی، جہاں سے بھاری مالیت کی مشینری، سگریٹ، تمباکو اور دیگر سامان برآمد کرلیا گیا۔
ایف بی آر حکام کے مطابق ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹ مینوفیکچرنگ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں ضلع ملیر کراچی میں ’ہونڈا سگریٹ کمپنی‘ کے نام سے قائم ایک غیر قانونی سگریٹ مینوفیکچرنگ یونٹ کے خلاف کارروائی کی گئی۔
حکام کے مطابق غیر قانونی یونٹ 2 ہزار گز سے زائد رقبے پر قائم تھا۔ یونٹ میں تقریباً ایک ماہ قبل سگریٹ کی پیداوار شروع کی گئی تھی جبکہ اس کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً 100 کارٹن بتائی گئی ہے۔
کارروائی کے دوران ایف بی آر ٹیم نے یونٹ سے دو آپریشنل سگریٹ بنانے والی مشینیں برآمد کیں۔ حکام کے مطابق ہر مشین کی مالیت تقریباً 30 کروڑ روپے ہے۔ اس کے علاوہ دو ٹوکن مشینیں، پیکنگ مشین، پلاسٹک ریپر مشین اور فلٹر بنانے والی مشین بھی تحویل میں لے لی گئی۔
کارروائی کے دوران 300 کے وی اے کا جنریٹر اور سگریٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والی دیگر مشینری بھی قبضے میں لی گئی۔ ایف بی آر حکام کے مطابق برآمد ہونے والی مشینری اور دیگر سامان کی مالیت کروڑوں روپے میں ہے۔
حکام کے مطابق یونٹ سے 60 کارٹن سگریٹ بھی برآمد کیے گئے۔ اس کے علاوہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ کھلی سگریٹ اسٹکس، 50 سے زائد بورے تمباکو، فلٹرز کے 24 کارٹن اور پیکنگ میٹریل کے 47 کارٹن قبضے میں لیے گئے۔
ایف بی آر نے سگریٹ کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی تین گاڑیاں بھی تحویل میں لے لیں۔ کارروائی کے دوران ایک لیپ ٹاپ بھی قبضے میں لیا گیا، جسے تحقیقات کے سلسلے میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق برآمد شدہ مشینری، تیار سگریٹ، تمباکو، فلٹرز، پیکنگ میٹریل اور دیگر سامان کی مجموعی مالیت تقریباً 70 سے 75 کروڑ روپے ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ سامان کی حتمی مالیت مزید جانچ پڑتال کے بعد واضح ہوگی۔
ذرائع کے مطابق یونٹ کے لیے 2 ہزار گز سے زائد رقبے پر مشتمل جگہ تقریباً چار ماہ قبل کرائے پر حاصل کی گئی تھی۔ بعد ازاں اس مقام کو سگریٹ کی تیاری کے لیے درکار سہولیات کے مطابق تیار کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یونٹ میں تقریباً ایک ماہ قبل باقاعدہ پیداوار شروع کی گئی تھی۔ وہاں 35 سے 40 کارکن کام کر رہے تھے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق بعض تجربہ کار کارکن خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی سے لائے گئے تھے۔
حکام کے مطابق یونٹ میں کام کرنے والے بعض افراد ماضی میں خیبر ٹوبیکو کمپنی میں بھی کام کرچکے ہیں۔ ایف بی آر کی جانب سے یونٹ میں کام کرنے والے افراد، مشینری کے ذرائع، تیار شدہ سگریٹ اور دیگر سامان سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سگریٹ مینوفیکچرنگ کے خلاف کارروائیوں کا مقصد غیر قانونی پیداوار اور ٹیکس سے متعلق بے ضابطگیوں کی روک تھام ہے۔ حکام کے مطابق کراچی میں پکڑے گئے یونٹ کے حوالے سے بھی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ایف بی آر نے برآمد شدہ سامان کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے جبکہ یونٹ کے قیام، مشینری کی خریداری، پیداوار، تیار سگریٹ کی ترسیل اور دیگر متعلقہ معاملات کی چھان بین جاری ہے۔
حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد برآمد شدہ سامان کی حتمی مالیت، مزید ممکنہ برآمدگی اور قانونی کارروائی سے متعلق تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایف بی آر کی جانب سے غیر قانونی سگریٹ مینوفیکچرنگ اور غیر قانونی تجارت کے خلاف ملک بھر میں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کراچی میں ہونے والی اس کارروائی میں بڑی تعداد میں مشینری اور تیار و خام مال کی برآمدگی سے معاملے کی سنگینی مزید نمایاں ہوئی ہے
READ MORE FAQS
1. کراچی میں ایف بی آر نے کہاں کارروائی کی؟
ایف بی آر نے کراچی کے ضلع ملیر میں غیر قانونی سگریٹ مینوفیکچرنگ یونٹ کے خلاف کارروائی کی۔
2. غیر قانونی یونٹ کا رقبہ کتنا تھا؟
حکام کے مطابق یونٹ 2 ہزار گز سے زائد رقبے پر قائم تھا۔
3. ایف بی آر نے کتنے مالیت کا سامان برآمد کیا؟
حکام کے مطابق برآمد شدہ مشینری، سگریٹ، تمباکو اور دیگر سامان کی مجموعی مالیت تقریباً 70 سے 75 کروڑ روپے ہے۔
4. یونٹ سے کیا اہم سامان برآمد ہوا؟
دو سگریٹ بنانے والی مشینیں، ٹوکن مشینیں، پیکنگ اور فلٹر مشینیں، جنریٹر، سگریٹ، تمباکو، فلٹرز اور پیکنگ میٹریل سمیت دیگر سامان برآمد ہوا








