
جسٹس منصور علی شاہ کا خط چیف جسٹس پاکستان کو، چھ اہم سوالات
جسٹس منصور علی شاہ کا خط چیف جسٹس پاکستان کو، چھ اہم سوالات پر وضاحت کا مطالبہ، عدلیہ میں شفافیت اور ادارہ جاتی خودمختاری پر زور۔

جسٹس منصور علی شاہ کا خط چیف جسٹس پاکستان کو، چھ اہم سوالات پر وضاحت کا مطالبہ، عدلیہ میں شفافیت اور ادارہ جاتی خودمختاری پر زور۔

برطانوی نائب وزیراعظم استعفیٰ دے دیا، ٹیکس اسکینڈل کے باعث برطانیہ میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے یوم فتح پریڈ میں شریک فوجی دستوں کو خراج تحسین پیش کیا اور 80 ویں سالگرہ کی تقریب میں ان کی خدمات کو سراہا۔

غزہ جنگ اور معذور بچے 21 ہزار سے تجاوز کر گئے، اقوام متحدہ کا انکشاف غزہ جنگ اور انسانی بحران: 21 ہزار معذور بچوں کی لرزہ خیز حقیقت جنیوا: اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ میں جاری جنگ

کیلاویا آتش فشاں کا شاندار دھماکہ، لاوا آسمان سے باتیں کرنے لگا قدرتی آفات ہمیشہ انسان کو حیران اور خوفزدہ کر دیتی ہیں۔ ہوائی کا مشہور کیلاویا آتش فشاں ایک بار پھر پھٹ پڑا ہے۔ اس بار لاوا نے 100 فٹ تک آسمان کو چھو لیا۔ یہ شاندار لیکن خوفناک

یروشلم مظاہرے؛ اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف عوامی احتجاج میں شدت یروشلم مظاہرے شدت اختیار کر گئے اسرائیل کے خود ساختہ دارالحکومت میں عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بنیامین نیتن یاہو کی جارحانہ پالیسیوں اور یرغمالیوں کی رہائی میں ناکامی نے عوام کو سڑکوں پر لے آیا ہے۔ عالمی

یروشلم مظاہرے شدت اختیار کر گئے، عوام نے نیتن یاہو کے خلاف احتجاج میں ٹینک اور فوجی اہلکار کی گاڑی کو آگ لگا دی۔ حکومت پر دباؤ بڑھ گیا۔

بیجنگ میں دوسری عالمی جنگ کی 80ویں سالگرہ پر شاندار فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا جس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف ایک ساتھ مرکزی اسٹیج پر موجود رہے۔ تین بڑے رہنماؤں کی یہ یکجائی ایشیا کے بدلتے ہوئے سفارتی اتحاد اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ جدید ہتھیاروں کی نمائش، تاریخی خطاب اور بھارت کی غیر موجودگی نے اس تقریب کو عالمی سیاست کا ایک نیا موڑ بنا دیا۔

امریکا کے ساتھ بڑھتی تجارتی کشیدگی اور یورپی پابندیوں کے بعد بھارت کی نجی کمپنی نایارا انرجی کی خام تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ سعودی آرامکو اور عراق کی سرکاری کمپنی سومو نے جولائی کے بعد نایارا کو خام تیل کی ترسیل روک دی، جس کے باعث اگست میں نایارا کو اپنی ضروریات کے لیے مکمل طور پر روس پر انحصار کرنا پڑا۔ نایارا کی اکثریتی ملکیت روسی اداروں کے پاس ہے اور یہ ماہانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی اور 10 لاکھ بیرل سعودی خام تیل حاصل کرتی تھی۔ پابندیوں کے باعث شپنگ مسائل پیدا ہوئے اور کمپنی اپنی وادینار ریفائنری کو صرف 70-80 فیصد صلاحیت پر چلا رہی ہے۔ دیگر شپنگ کمپنیوں کے پیچھے ہٹنے کی وجہ سے نایارا ’ڈارک فلیٹ‘ جہازوں پر انحصار کر رہی ہے۔ کمپنی نے نیا چیف ایگزیکٹو بھی مقرر کیا ہے۔ اس بحران سے بھارت کی توانائی کی سپلائی اور تجارتی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں، اور خطے میں توانائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

بھارت کو سعودی اور عراقی تیل کی سپلائی بند، مودی سرکار پر دباؤ بڑھ گیا بھارت کو سعودی اور عراقی تیل کی سپلائی بند – پس منظر بھارت دنیا کا تیسرا بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے اور اس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار خام تیل کی درآمدات