ججز کی تعیناتی سمری کیس: صدر کی منظوری نہ دینے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

ججز کی تعیناتی سمری کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ججز کی تعیناتی کی سمری پر صدر کی منظوری کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

ججز کی تعیناتی سمری کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے صدرِ مملکت کی جانب سے ججز کی تعیناتی کی سمری کی منظوری نہ دینے کے خلاف دائر آئینی درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست کی سماعت کی، جس میں درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ججز کی تعیناتی کی سمری منظوری کے لیے صدرِ پاکستان کو ارسال کی جا چکی ہے، تاہم منظوری نہ ملنے کے باوجود اطلاعات ہیں کہ حکومت جلد تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر سکتی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ سمری کی تفصیلات طلب کی جائیں تاکہ اس کی موجودہ قانونی حیثیت واضح ہو سکے۔

عدالت کے اہم سوالات

دورانِ سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے متعدد آئینی سوالات اٹھائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ:

کیا صدرِ پاکستان کے خلاف ایسی آئینی درخواست قابلِ سماعت ہے؟
ایسا کون سا عدالتی فیصلہ موجود ہے جس میں صدرِ مملکت کو براہِ راست ہدایات جاری کی گئی ہوں؟
ججز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی مجاز اتھارٹی کون ہے؟

عدالت نے یہ بھی دریافت کیا کہ اگر صدر منظوری نہ دیں تو کیا وزارتِ قانون ازخود نوٹیفکیشن جاری کر سکتی ہے یا نہیں۔

درخواست گزار کا مؤقف

درخواست گزار کے وکیل زاہد آصف چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ صدر کا منصب آئینی طور پر علامتی نوعیت رکھتا ہے اور ججز کی تعیناتی کے معاملے میں ان کے پاس منظوری کے علاوہ کوئی صوابدیدی اختیار نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ سمری بھیجے جانے کے بعد 15 روز گزر چکے ہیں، اس لیے اگر صدر منظوری نہیں دیتے تو متعلقہ حکام کو تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے۔

وکیل نے مزید استدعا کی کہ وفاقی حکومت، وزیراعظم آفس اور وزارتِ قانون سے جواب طلب کیا جائے تاکہ عدالت کو بتایا جا سکے کہ سمری اس وقت کس مرحلے میں ہے۔

عدالت کے ریمارکس

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ جس عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اس میں موجودہ نوعیت کی صورتحال شامل نہیں تھی۔ انہوں نے درخواست گزار سے کہا کہ ایسا عدالتی نظیر پیش کی جائے جس میں صدرِ مملکت کو ان کی آئینی ذمہ داری ادا کرنے سے متعلق ہدایات دی گئی ہوں۔

عدالت نے سماعت کے دوران درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے قانونی پہلو پر بھی تفصیلی سوالات کیے۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت کا تحریری فیصلہ جاری ہونے کے بعد آئندہ قانونی کارروائی کا تعین ہوگا۔

READ MORE FAQS
  1. یہ مقدمہ کس معاملے سے متعلق ہے؟

یہ مقدمہ ججز کی تعیناتی کی سمری پر صدرِ مملکت کی منظوری نہ دینے کے خلاف دائر آئینی درخواست سے متعلق ہے۔

  1. عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟

عدالت نے فوری فیصلہ نہیں سنایا بلکہ درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

  1. سماعت کے دوران عدالت نے کون سے اہم سوالات اٹھائے؟

عدالت نے پوچھا کہ آیا صدرِ پاکستان کے خلاف ایسی آئینی درخواست قابلِ سماعت ہے، صدر کو ہدایات دینے کی کوئی عدالتی نظیر موجود ہے یا نہیں، اور تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی مجاز اتھارٹی کون ہے۔

  1. درخواست گزار کا مؤقف کیا تھا؟

درخواست گزار کے مطابق سمری صدر کو بھیجی جا چکی ہے، 15 روز گزرنے کے بعد اگر منظوری نہیں دی جاتی تو وزارتِ قانون کو نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں