پاک چین بارڈر کمیشن فعال، بھارت میں سخت تشویش، اقدام کی قانونی حیثیت مسترد کرنے کا اعلان، اس طریقہ کار کی بنیاد 2013 کے پاک چین بارڈر مینجمنٹ سسٹم معاہدے میں موجود : پاکستانی حکام
اسلام آباد، 21 ستمبر 2026: پاکستان اور چین نے طویل عرصے سے زیر التوا پاکستان چین بارڈر جوائنٹ کمیشن کو فعال کردیا ہے، جسے اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظام، تجارت اور کراس بارڈر رابطوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جبکہ بھارت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے قانونی بنیاد سے عاری قرار دیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق کمیشن کا افتتاحی اجلاس اسلام آباد میں وزارت خارجہ میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت چین کی وزارت خارجہ کے محکمہ بارڈر اینڈ اوشن افیئرز کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل لی یا اور پاکستان کے دفتر خارجہ میں چین کے لیے ڈائریکٹر جنرل بلال محمود چوہدری نے کی۔
دفتر خارجہ نے پاکستان چین بارڈر جوائنٹ کمیشن کو دوطرفہ تعلقات میں “اہم سنگ میل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سرحدی انتظام، مشترکہ سروے، تجارت اور عوامی رابطوں کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ادارہ جاتی بنیاد فراہم ہوگی۔

پاک چین بارڈر کمیشن کے قیام کی بنیاد کیا ہے؟
پاکستانی حکام کے مطابق اس طریقہ کار کی بنیاد 2013 کے پاکستان چین بارڈر مینجمنٹ سسٹم معاہدے میں موجود ہے، جو اس وقت کے چینی وزیراعظم لی کی چیانگ کے پاکستان کے دورے کے دوران طے پایا تھا۔
معاہدے کے آرٹیکل 45 کے تحت مشترکہ پاک چین بارڈر کمیشن کے قیام کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ کمیشن کا مقصد سرحدی انتظامات سے متعلق عملی معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان مستقل رابطہ قائم کرنا ہے۔
اس میں سرحد کی دیکھ بھال اور معائنہ، مشترکہ سروے، سرحدی نشانات سے متعلق معاملات، کراس بارڈر سہولیات کے انتظام اور سرحد پر پیش آنے والے واقعات سے نمٹنے جیسے امور شامل ہیں۔
یہ طریقہ کار خنجراب کراسنگ سمیت پاکستان اور چین کے درمیان تجارت، آمدورفت اور رابطوں کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، جبکہ اس کا تعلق چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) سے منسلک بنیادی ڈھانچے اور تجارتی سرگرمیوں سے بھی ہے۔
1963 کے سرحدی معاہدے سے مختلف
پاکستان اور چین کے موجودہ مشترکہ کمیشن کو 1963 کے پاک چین سرحدی معاہدے کے تحت قائم کیے گئے جوائنٹ باؤنڈری ڈیمارکیشن کمیشن سے الگ قرار دیا گیا ہے۔
1963 کے کمیشن کا بنیادی مقصد سرحدی سروے، حدود کے نشانات قائم کرنا، تفصیلی نقشے تیار کرنا اور سرحدی لائن کی حد بندی مکمل کرنا تھا۔ اس عمل کے بعد پروٹوکول اور نقشوں پر دستخط کے ساتھ اس کی ذمہ داریاں مکمل ہوگئیں۔

1963 کے معاہدے میں یہ شق بھی شامل تھی کہ اگر مستقبل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے تنازع کا تصفیہ ہوجاتا ہے تو متعلقہ خودمختار اتھارٹی چین کے ساتھ سرحدی معاملات پر دوبارہ مذاکرات کرسکتی ہے۔
بھارت میں تشویش
بھارت نے پاکستان اور چین کے نئے مشترکہ سرحدی طریقہ کار کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت پاکستان اور چین کے درمیان اس علاقے میں کسی سرحد کو تسلیم نہیں کرتا جسے نئی دہلی اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔
بھارتی مؤقف کے مطابق 1963 کا پاکستان چین سرحدی معاہدہ ایسے علاقے سے متعلق ہے جس پر بھارت اپنا دعویٰ رکھتا ہے، اس لیے نئی دہلی اس معاہدے اور اس سے متعلق انتظامات کو قانونی حیثیت نہیں دیتا۔
شکسگام وادی بھی تنازع کا حصہ
یہ معاملہ بالخصوص شکسگام وادی کے باعث حساس ہے۔ تقریباً 5,180 مربع کلومیٹر پر مشتمل یہ علاقہ 1963 میں پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت چین کے انتظام میں آیا، جبکہ بھارت اسے لداخ کا حصہ قرار دیتا ہے۔
بھارت کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ سابق ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا اور پاکستان کے زیر انتظام ہونے کے بعد اسے چین کے حوالے کیا گیا، جبکہ پاکستان 1963 کے معاہدے کو تسلیم کرتا ہے اور کشمیر کو متنازع خطہ قرار دیتا ہے۔
ماہرین کی مختلف آرا

ماہرین کے مطابق موجودہ پاک چین بارڈر کمیشن مکمل طور پر ایک نیا سرحدی انتظام نہیں بلکہ پہلے سے موجود میکانزم کو فعال کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق 1963 کے پاک چین معاہدے میں مشترکہ سرحدی کمیشن کی گنجائش پہلے ہی موجود تھی، جبکہ موجودہ معاملے میں اہم سوال اس کے فعال ہونے کے وقت سے متعلق ہے۔
دوسری جانب ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ موجودہ پیش رفت کو فوری طور پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر کسی نئی فوجی تبدیلی کے طور پر دیکھنا ضروری نہیں۔
پاک چین تعاون کا وسیع تناظر
پاکستان اور چین پہلے ہی خنجراب پاس، قراقرم ہائی وے اور CPEC سمیت مختلف منصوبوں کے ذریعے وسیع سرحدی، تجارتی اور مواصلاتی روابط رکھتے ہیں۔
نئے پاک چین بارڈر کمیشن کے فعال ہونے سے دونوں ممالک کو مشترکہ سرحد سے متعلق عملی معاملات پر باقاعدہ ادارہ جاتی رابطے کا ایک پلیٹ فارم مل گیا ہے۔
تاہم اس پیش رفت کے باوجود کشمیر اور متعلقہ سرحدی علاقوں کی قانونی و علاقائی حیثیت پر پاکستان، بھارت اور چین کے مؤقف بدستور مختلف ہیں۔ نئے پاک چین بارڈر کمیشن کا فعال ہونا ان متنازع علاقائی دعوؤں کے حل کی باضابطہ پیش رفت قرار نہیں دیا گیا۔
The two-day inaugural meeting of the Pakistan-China Boundary Joint Commission concluded today with a signing ceremony at the Ministry of Foreign Affairs, Islamabad. Both sides signed the minutes, reaffirming their consensus and setting out the framework for future cooperation. pic.twitter.com/jr4srpDi7k
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) September 17, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: پاکستان چین بارڈر جوائنٹ کمیشن کیا ہے؟
جواب: یہ پاکستان اور چین کے درمیان مشترکہ سرحد کے انتظام، سرحدی سروے، بارڈر مارکرز، کراس بارڈر سہولیات اور متعلقہ معاملات پر رابطے کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار ہے۔
سوال 2: پاکستان چین بارڈر کمیشن کب فعال ہوا؟
جواب: پاکستان اور چین نے ستمبر 2026 میں مشترکہ سرحدی پاک چین بارڈر کمیشن کو عملی طور پر فعال کیا اور اسلام آباد میں اس کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا۔
سوال 3: بھارت نے پاک چین بارڈر کمیشن پر کیا مؤقف اختیار کیا؟
جواب: بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت پاکستان اور چین کے درمیان اس سرحد کو تسلیم نہیں کرتا اور کمیشن کو قانونی بنیاد سے عاری قرار دیا۔
سوال 4: پاکستان چین سرحدی کمیشن کا مقصد کیا ہے؟
جواب: پاک چین بارڈر کمیشن کا مقصد سرحدی انتظام، مشترکہ سروے، سرحدی نشانات، کراس بارڈر سہولیات، تجارت اور عوامی رابطوں سے متعلق عملی معاملات میں دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ رابطہ قائم کرنا ہے۔






