گرین لینڈ پر امریکا اور ڈنمارک میں سکیورٹی معاہدہ، ٹرمپ کا مستقل کنٹرول کا دعویٰ

گرین لینڈ امریکا ڈنمارک سکیورٹی معاہدہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

گرین لینڈ پر امریکا اور ڈنمارک میں سکیورٹی معاہدہ، ٹرمپ کا مستقل کنٹرول کا دعویٰ

کوپن ہیگن، 20 ستمبر 2026: امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان آرکٹک خطے کی سکیورٹی سے متعلق ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ کی سکیورٹی اور دیگر ضروریات پر “مستقل کنٹرول” حاصل ہوگا۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس میں ڈنمارک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ معاہدے پر آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر دستخط متوقع ہیں، جس کے بعد اسے ضروری پارلیمانی مراحل سے گزرنا ہوگا۔

ٹرمپ نے معاہدے کو تاریخی قرار دے دیا

اسلام آباد میں پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ 2026 منسوخ
اسلام آباد میں 20 اور 21 ستمبر کو ہونے والا پاکستان سکیورٹی ڈائیلاگ 2026 منسوخ کردیا گیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا ہے جو واشنگٹن کو گرین لینڈ کی سکیورٹی اور دیگر ضروریات کے حوالے سے مستقل اختیارات فراہم کرتا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ اور امریکا کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی مستقل صلاحیت حاصل ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا گرین لینڈ میں بڑی فوجی موجودگی قائم کرنے کے عمل کا آغاز کرے گا۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ کسی امریکی حریف کو گرین لینڈ میں فوجی اڈہ یا فوجی موجودگی قائم کرنے اور حساس شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جب تک واشنگٹن اس کی تحریری منظوری نہ دے۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ کا خودمختاری پر مؤقف

ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن نے مشترکہ بیان میں کہا کہ معاہدہ آرکٹک اور شمالی بحرِ اوقیانوس میں مشترکہ سکیورٹی کو مضبوط کرے گا۔

مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ معاہدہ مملکتِ ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرتا ہے۔

گرین لینڈ کے وزیراعظم نے کہا کہ مجوزہ معاہدہ گرین لینڈ کے مفادات اور بین الاقوامی تعاون میں اس کے کردار کو تسلیم کرتا ہے۔

امریکا کو گرین لینڈ میں مزید فوجی تنصیبات کا اختیار؟

امریکی سینیٹ میں CLARITY Act کی کرپٹو قانون سازی ناکام
امریکی سینیٹ میں کرپٹو مارکیٹ کے لیے جامع قانون سازی کا CLARITY Act آگے نہ بڑھ سکا۔

امریکی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق مجوزہ انتظام میں امریکا کے لیے گرین لینڈ میں مستقل رسائی، فوجی اڈوں اور فضائی گزرگاہوں کے حقوق شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق معاہدے میں امریکا کو مستقبل میں مزید فوجی تنصیبات قائم کرنے کی اجازت دینے اور روس، چین سمیت امریکی حریفوں کی جانب سے حساس شعبوں میں سرمایہ کاری محدود کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔

تاہم معاہدے کا مکمل سرکاری متن ابھی جاری نہیں کیا گیا، اس لیے ان اختیارات کی مکمل قانونی اور عملی حدود واضح نہیں ہیں۔

نیٹو نے معاہدے کا خیرمقدم کردیا

نیٹو نے امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام آرکٹک اور شمالی بحرِ اوقیانوس کے اہم خطے میں سکیورٹی، استحکام اور تعاون کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی معاہدے کو اس لیے مثبت قرار دیا کہ ان کے مطابق اس میں ڈنمارک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کا احترام برقرار رہتا ہے۔

گرین لینڈ امریکا کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟

اسحاق ڈار کا ایرانی اور ملائیشین وزرائے خارجہ سے رابطہ
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی اور ملائیشین وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔

گرین لینڈ شمالی امریکا اور آرکٹک کے درمیان انتہائی اہم جغرافیائی مقام پر واقع ہے۔ اس کی جغرافیائی پوزیشن میزائل وارننگ، دفاعی نگرانی اور سمندری راستوں کی مانیٹرنگ کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

امریکا پہلے ہی شمال مغربی گرین لینڈ میں Pituffik Space Base چلا رہا ہے، جہاں امریکی فوجی موجودگی اور خلائی و میزائل نگرانی سے متعلق سرگرمیاں جاری ہیں۔

گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر بھی موجود ہیں، جن میں ایسی Rare Earth Minerals شامل ہیں جو جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر صنعتی شعبوں کے لیے اہم ہیں۔

کیا امریکا نے گرین لینڈ حاصل کرلیا؟

دستیاب معلومات کے مطابق گرین لینڈ کی ملکیت یا خودمختاری امریکا کو منتقل نہیں ہوئی۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں نے واضح طور پر اپنی خودمختاری اور گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیے جانے کی بات کی ہے۔

معاہدے کی اصل اہمیت امریکی فوجی رسائی، سکیورٹی اختیارات اور آرکٹک میں دفاعی موجودگی سے متعلق ہے، تاہم اس کی مکمل شرائط سامنے آنے کے بعد ہی اس کے دائرہ کار کا حتمی اندازہ لگایا جاسکے گا۔

گرین لینڈ سے متعلق امریکا اور ڈنمارک کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد یہ معاہدہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کے لیے ضروری پارلیمانی مراحل ابھی باقی ہیں۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: امریکا اور ڈنمارک کے درمیان گرین لینڈ پر کیا معاہدہ ہوا ہے؟
امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان سکیورٹی سے متعلق معاہدہ طے پایا ہے، جس کا مقصد آرکٹک اور شمالی بحرِ اوقیانوس میں سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

سوال 2: کیا امریکا نے گرین لینڈ حاصل کرلیا ہے؟
نہیں، دستیاب معلومات کے مطابق گرین لینڈ کی خودمختاری امریکا کو منتقل نہیں ہوئی۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ نے خودمختاری اور گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیے جانے کی بات کی ہے۔

سوال 3: ٹرمپ نے گرین لینڈ معاہدے کے بارے میں کیا کہا؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ کی سکیورٹی اور دیگر ضروریات پر مستقل کنٹرول حاصل ہوگا۔

سوال 4: کیا معاہدے کا مکمل متن جاری کردیا گیا ہے؟
نہیں، دستیاب رپورٹ کے مطابق معاہدے کا مکمل متن ابھی عوام کے سامنے نہیں آیا، اس لیے اس کی تمام قانونی اور عملی شرائط واضح نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:32 AM
طلوع آفتاب05:55 AM
ظہر12:01 PM
عصر03:29 PM
مغرب06:07 PM
عشاء07:31 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6