بغیر پائلٹ طیارہ: امریکا بھر میں 3199 میل کی خودکار پرواز مکمل

بغیر پائلٹ طیارہ سیسنا کاروان امریکا بھر کی خودکار پرواز کے دوران
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بغیر پائلٹ کے مسافر طیارے نے امریکا بھر میں پہلی پرواز کامیابی سے مکمل کرلی

بغیر پائلٹ طیارہ اب صرف سائنس فکشن کا موضوع نہیں رہا۔ امریکا میں جوبی ایوی ایشن نامی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے سنگل انجن سیسنا کاروان طیارے نے کسی انسانی پائلٹ کی مدد کے بغیر پورے ملک میں پرواز کی آزمائش کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔ ابھی تو بغیر ڈرائیور کے سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں بھی عام نہیں ہوئیں، مگر ایسے طیارے جلد فضاؤں میں نظر آ سکتے ہیں۔

بغیر پائلٹ طیارے کی پرواز کی تفصیلات

کمپنی کے مطابق یہ طیارہ 7 ستمبر کو کیلیفورنیا سے روانہ ہوا۔ اس نے امریکا بھر میں 3199 میل، یعنی تقریباً 5 ہزار 148 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، اور اس دوران کسی انسانی پائلٹ نے پرواز میں معاونت نہیں کی۔ یہ سفر 14 ستمبر کو مکمل ہوا، یعنی پوری آزمائش تقریباً ایک ہفتے میں پایۂ تکمیل کو پہنچی۔

آزمائش مکمل ہونے کے بعد طیارہ اب واپس کیلیفورنیا جائے گا، جہاں سے اس نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔

روٹ اور نگرانی کا خودکار نظام

اس پرواز کے روٹ کے لیے خودکار پروگرامنگ استعمال کی گئی، یعنی راستے کا تعین پہلے سے کمپیوٹر نظام میں طے کیا گیا تھا۔ اتنے طویل سفر کے دوران طیارے کو متعدد مقامات پر روکا بھی گیا۔

کمپنی کے مطابق پرواز کے دوران ایوی ایشن مشین مسلسل سفری رکاوٹوں کی مانیٹرنگ کرتی رہی۔ بغیر پائلٹ طیارے کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو مسلسل سمجھے اور کسی رکاوٹ یا تبدیلی کی صورت میں درست فیصلہ کرے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ طیارے نے اپنی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل کی۔

کمپنی کے سربراہ کا مؤقف

جوبی ایوی ایشن کے بانی اور چیف ایگزیکٹو جو بین بیورٹ نے اس کامیابی کو ہوابازی کے نئے دور کی پہلی جھلک قرار دیا۔ ان کے مطابق امریکا بھر کا یہ سفر ظاہر کرتا ہے کہ خودکار پرواز کا تصور اب عملی شکل اختیار کرنے لگا ہے۔

دور دراز علاقوں کے لیے ممکنہ فائدہ

کمپنی کا ماننا ہے کہ خودکار پروازوں سے دور دراز واقع علاقوں کو مرکزی خطوں سے جوڑنے میں مدد ملے گی۔ دنیا کے کئی ممالک میں پہاڑی، صحرائی یا کم آبادی والے علاقے ایسے ہیں جہاں سڑک یا ریل کا نظام کمزور ہے اور باقاعدہ فضائی سروس بھی مہنگی پڑتی ہے۔ اگر پائلٹ کے بغیر پرواز محفوظ اور قابلِ بھروسا ثابت ہو جائے تو ایسے علاقوں تک سامان اور دیگر خدمات پہنچانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔

قدرتی آفات میں تیز ردعمل

کمپنی کے مطابق اس طرح کی پروازیں قدرتی آفات پر برق رفتاری سے ردعمل دینے میں بھی مدد دے سکتی ہیں۔ سیلاب، زلزلے یا طوفان جیسے حالات میں زمینی راستے اکثر بند ہو جاتے ہیں۔ ایسے وقت میں خودکار طیارے متاثرہ علاقوں تک ضروری سامان پہنچانے یا صورتِ حال کا جائزہ لینے کے کام آ سکتے ہیں۔ ہر لمحہ قیمتی ہونے کے باعث تیز رسائی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

بغیر ڈرائیور گاڑیوں کے بعد خودکار طیارے

خودکار ٹیکنالوجی کا سفر پہلے سڑکوں پر شروع ہوا، جہاں بغیر ڈرائیور کی گاڑیوں پر برسوں سے کام جاری ہے، مگر وہ اب تک عام استعمال میں نہیں آئیں۔ اس پس منظر میں بغیر پائلٹ طیارے کی کامیاب آزمائش اس بات کی علامت ہے کہ خودکار نظام اب فضائی شعبے میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

READ MORE FAQS
  1. بغیر پائلٹ طیارہ کیا ہے؟
    ایسا طیارہ جو خودکار نظام اور پروگرامنگ کی مدد سے کسی انسانی پائلٹ کی معاونت کے بغیر پرواز کرتا ہے۔
  2. یہ پرواز کس کمپنی نے کی؟
    جوبی ایوی ایشن نے، جس کے سنگل انجن سیسنا کاروان طیارے نے یہ آزمائش مکمل کی۔
  3. پرواز کب شروع اور کب مکمل ہوئی؟
    کمپنی کے مطابق طیارہ 7 ستمبر کو کیلیفورنیا سے روانہ ہوا اور 14 ستمبر کو سفر مکمل ہوا۔
  4. بغیر پائلٹ طیارے نے کتنا فاصلہ طے کیا؟
    3199 میل، یعنی تقریباً 5 ہزار 148 کلومیٹر۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:32 AM
طلوع آفتاب05:55 AM
ظہر12:01 PM
عصر03:29 PM
مغرب06:07 PM
عشاء07:31 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6