خواجہ آصف کشمیر بیان: صرف برتھ سرٹیفکیٹ سے کوئی کشمیری یا پاکستانی نہیں بنتا

خواجہ آصف کشمیر بیان قومی اسمبلی خطاب
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزیر دفاع کی میثاق جمہوریت اور سیاسی مفاہمت کی دعوت

اسلام آباد: خواجہ آصف کشمیر بیان ایک بار پھر قومی سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کشمیر سے متعلق اپنے بیان پر آج بھی قائم ہیں اور جو مؤقف اختیار کیا تھا وہ دلیل اور حقائق کی بنیاد پر تھا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ انہوں نے اپنے موقف کی وضاحت پہلے بھی کی تھی اور اس حوالے سے ایک تفصیلی بیان اور سوشل میڈیا پر وضاحتی پیغام بھی جاری کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف برتھ سرٹیفکیٹ رکھنے سے کوئی شخص کشمیری یا پاکستانی نہیں بن جاتا بلکہ اس کے لیے قومی اور اجتماعی جدوجہد، قربانیوں اور وابستگی کا جذبہ بھی ضروری ہوتا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ کشمیری عوام نے اپنی آزادی اور حقوق کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، لیکن پاکستان نے بھی کشمیر کاز کے لیے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے مختلف ادوار میں جنگوں اور سفارتی محاذوں پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جبکہ پاکستانی قوم اور مسلح افواج نے بھی اس مسئلے پر قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تاریخی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور قومی مفاد کے معاملات پر جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز اپنانا چاہیے۔

سیاسی تاریخ اور میثاق جمہوریت کا حوالہ

خواجہ آصف نے اپنی تقریر کے دوران پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک نے مختلف ادوار میں شدید سیاسی کشیدگی دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں سیاسی ماحول انتہائی تناؤ کا شکار تھا، تاہم بعد ازاں سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے سیاسی اختلافات کم کرنے اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے میثاق جمہوریت پر اتفاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں ماضی میں سخت سیاسی تنازعات اور تلخ واقعات رونما ہوتے رہے لیکن وقت کے ساتھ سیاسی قیادت نے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق یہی طرز عمل جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

پی ٹی آئی پر تنقید

وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں پاکستان تحریک انصاف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض ایسے اقدامات کیے گئے جنہوں نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین اور جمہوری روایات کا احترام ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے اور تمام سیاسی قوتوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود جمہوری عمل کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے اور آئینی اداروں کے احترام کے لیے تمام جماعتوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

میثاق جمہوریت کو مزید مؤثر بنانے کی تجویز

وزیر دفاع نے اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میثاق جمہوریت میں مزید بہتری کی ضرورت ہے تو اس پر کھلے دل سے بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک بار پھر جمہوری اصولوں پر اتفاق رائے پیدا کریں تاکہ مستقبل میں سیاسی بحرانوں سے بچا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سیاسی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مکالمہ، برداشت اور آئین کی بالادستی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے قومی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔

جمہوری روایات کے فروغ پر زور

خواجہ آصف نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام جمہوری تسلسل سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد میں اختلافات کو پس پشت ڈال کر جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہیے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر دفاع کی تقریر نے نہ صرف کشمیر کے حوالے سے ان کے موقف کو واضح کیا بلکہ ملکی سیاست میں مفاہمت، جمہوری استحکام اور آئینی بالادستی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

READ MORE FAQS

خواجہ آصف نے کشمیر کے بارے میں کیا کہا؟

انہوں نے کہا کہ صرف برتھ سرٹیفکیٹ سے کوئی کشمیری یا پاکستانی نہیں بنتا اور وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔

خواجہ آصف نے یہ بیان کہاں دیا؟

انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

میثاق جمہوریت کے بارے میں ان کا مؤقف کیا تھا؟

انہوں نے سیاسی جماعتوں کو میثاق جمہوریت کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانے کی دعوت دی۔

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:15 AM
طلوع آفتاب04:59 AM
ظہر12:10 PM
عصر03:55 PM
مغرب07:22 PM
عشاء09:06 PM