لاہور ڈیانا نامی آذربائیجانی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی، عدالت نے ملزمان کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا

لاہور میں ڈیانا نامی آذربائیجانی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کیس، پولیس کی تفتیش جاری

لاہور میں ڈیانا باگی یےوا نامی غیر ملکی آذربائیجانی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی، عدالت نے ملزمان کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا

لاہور، 29 ستمبر 2026: لاہور کے علاقے ڈیفنس سی میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں متاثرہ خاتون کا دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیا گیا بیان بھی سامنے آیا ہے، جبکہ عدالت نے گرفتار ملزمان کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ محمد صغیر کی عدالت میں گزشتہ روز ریکارڈ کیے گئے چار صفحات پر مشتمل بیان میں متاثرہ خاتون نے مبینہ واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔ بیان میں خاتون نے بتایا کہ وہ 13 تاریخ کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی، بعد ازاں فیصل آباد گئی اور پانچ روز قیام کے بعد لاہور پہنچی۔

ڈیانا نامی آذربائیجانی خاتون کے مطابق لاہور میں اس نے اپنی پاکستانی دوستوں نمرہ اور مسکان سے رابطہ کیا۔ بیان کے مطابق وہ رات کے وقت مسکان کے ساتھ بحریہ ٹاؤن گئی، جہاں نمرہ سے ملاقات ہوئی۔ اس دوران ایک سفید رنگ کی گاڑی وہاں پہنچی جس میں محسن اور احمد نامی افراد موجود تھے۔

متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق بعد ازاں وہ لوگ ایک اپارٹمنٹ پہنچے، جہاں مزید افراد بھی موجود تھے۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ نمرہ اور محسن کے درمیان رقم کا لین دین ہوا، جس کے بعد محسن اسے الگ کمرے میں لے گیا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ انسداد دہشت گردی عدالت پیشی
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی

ڈیانا نامی آذربائیجانی خاتون نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ اسے کمرے میں بند کیا گیا اور وہاں موجود افراد نے اسے جانے سے روک دیا۔ اس کے مطابق بعد میں اسے شراب پلائی گئی اور اس کے بعد محسن، احمد اور علی زین نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ زیادتی کی۔

متاثرہ خاتون کے مطابق واقعے کے بعد اسے گاڑی میں واپس لے جایا گیا۔ اس نے الزام عائد کیا کہ اس کا بیگ، جس میں تقریباً دو لاکھ روپے، شناختی دستاویزات اور موبائل فونز موجود تھے، بھی واپس نہیں کیے گئے۔

ڈیانا نامی آذربائیجانی خاتون کے بیان کے مطابق بعد میں اسے گاڑی سے اتار دیا گیا، جس کے بعد وہاں موجود لوگوں سے مدد مانگ کر پولیس ایمرجنسی نمبر 15 پر اطلاع دی گئی۔

ملزمان کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

مقدمے میں گرفتار ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر فریال ملک نے عدالت سے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے ڈی این اے اور پوٹینسی ٹیسٹ کرانے ہیں، جبکہ مقدمے میں نامزد ایک ملزمہ تاحال فرار ہے جس کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

عدالت نے پولیس کی استدعا پر گرفتار ملزمان کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کردیا۔

پولیس کے مطابق تھانہ ڈیفنس سی میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج ہے اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

مزید گرفتاریاں، مقدمے کی تفتیش جاری

پولیس کے مطابق مقدمے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے اور مزید مبینہ سہولت کاروں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق گرفتار افراد میں مرکزی ملزمان کے علاوہ وہ افراد بھی شامل ہیں جن پر خاتون کو فلیٹ تک لے جانے یا دیگر مراحل میں سہولت کاری کا شبہ ہے۔

اے این ایف کریک ڈاؤن برآمد شدہ منشیات آئس چرس افیون
اینٹی نارکوٹکس فورس کی کارروائیوں میں 167 کلوگرام سے زائد منشیات برآمد

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا کے مطابق کیس میں متعدد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم احمد تنویر تاحال گرفتار نہیں ہوسکا اور اس کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور فلیٹ بھی اسی شخص سے منسوب کیے جا رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق متاثرہ ڈیانا نامی آذربائیجانی خاتون کے دونوں موبائل فون تاحال برآمد نہیں ہوسکے، جن کی تلاش جاری ہے۔ تفتیش کے دوران دستیاب شواہد، گرفتار افراد کے بیانات اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ملزمان کی مبینہ پروفائل بھی سامنے آگئی

پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے میں گرفتار ایک ملزم محسن آن لائن جم ٹرینر ہے، جبکہ علی زین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ہے۔ ایک اور نامزد شخص احمد تنویر کے بارے میں پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ کاروبار کرتا ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں 20 سے زائد افراد کو مختلف مراحل میں حراست میں لے کر تفتیش کی جا چکی ہے، تاہم تمام افراد کے خلاف الزامات یا ان کا مقدمے میں کردار عدالت میں ثابت ہونا باقی ہے۔

تحقیقات کے دوران ڈیانا نامی آذربائیجانی خاتون کی لاہور میں موجودگی سے متعلق بعض تصاویر بھی سامنے آنے کی اطلاع ہے، جبکہ پولیس واقعے سے پہلے اور بعد کی نقل و حرکت اور رابطوں کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

ایک ملزمہ کی عبوری ضمانت منظور

دوسری جانب سیشن کورٹ لاہور نے مقدمے میں سہولت کاری کے الزام کا سامنا کرنے والی ملزمہ نمرہ کی 5 اکتوبر تک عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔

لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج رفاقت علی نے نمرہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کی اور پولیس کو مقررہ مدت تک اسے گرفتار کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے ملزمہ کو تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت بھی کی۔

مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ پولیس دیگر نامزد اور مبینہ طور پر ملوث افراد کی گرفتاری اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہے۔

ڈیانا کے ماضی اور پاکستان آمد سے متعلق بھی تحقیقات

کیس کی تحقیقات کے دوران پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں ڈیانا باگی یےوا کی پاکستان آمد، لاہور اور فیصل آباد میں قیام، اس کے مقامی رابطے اور واقعے سے قبل اس کی نقل و حرکت شامل ہیں۔

ذرائع کی جانب سے ڈیانا کی سابقہ ازدواجی زندگی اور پاکستان میں بعض افراد سے روابط سے متعلق مختلف دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے انہیں حتمی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اسی طرح بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیانا کا ایک پاکستانی شہری سے نکاح ہوا تھا اور بعد میں دونوں کے درمیان علیحدگی ہوئی۔ ان دعوؤں کے حوالے سے پولیس ریکارڈ، عدالتی دستاویزات اور دیگر قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر مزید تصدیق درکار ہے۔

تحقیقات میں اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ڈیانا پاکستان کس مقصد سے آئی، اس کے مقامی افراد سے روابط کیسے قائم ہوئے اور واقعے سے پہلے وہ کن مقامات پر موجود رہی۔

شراب نوشی سے متعلق دعوے بھی زیرِ تفتیش

ذرائع کی جانب سے ڈیانا کی شراب نوشی اور ماضی کے بعض واقعات سے متعلق بھی دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم ان ذاتی نوعیت کے دعوؤں کی آزادانہ اور قابلِ اعتماد تصدیق سامنے نہیں آئی۔

کسی فرد کی ذاتی عادات یا ماضی کے تعلقات بذاتِ خود مبینہ زیادتی کے الزام کی تصدیق نہیں کرتے۔ اس لیے کیس میں اصل اہمیت پولیس کے جمع کردہ شواہد، طبی و فرانزک رپورٹ، گواہوں کے بیانات، سی سی ٹی وی اور دیگر قابلِ تصدیق مواد کی ہے۔

نوٹ: مقدمے میں عائد الزامات ابھی زیرِ تفتیش ہیں۔ کسی بھی ملزم کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک قانونی طور پر بے گناہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ متاثرہ خاتون کی ذاتی زندگی سے متعلق غیر مصدقہ دعوؤں کو حتمی حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: لاہور میں ڈیانا نامی آذربائیجانی خاتون سے مبینہ زیادتی کا کیس کہاں پیش آیا؟
جواب: پولیس کے مطابق واقعہ لاہور کے ڈیفنس سی تھانے کی حدود سے متعلق ہے، جبکہ مبینہ واقعے کی جگہ رائیونڈ کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع فلیٹ بتائی گئی ہے۔

سوال 2: متاثرہ خاتون کا بیان کس دفعہ کے تحت ریکارڈ کیا گیا؟
جواب: متاثرہ خاتون کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیا گیا۔

سوال 3: عدالت نے ملزمان کا کتنا جسمانی ریمانڈ منظور کیا؟
جواب: 29 ستمبر 2026 کو عدالت نے گرفتار دو ملزمان کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔

سوال 4: کیس کی تحقیقات کہاں تک پہنچی ہیں؟
جواب: پولیس کے مطابق ملزمان سے تفتیش، ڈی این اے سمیت شواہد اکٹھے کرنے اور دیگر نامزد افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:38 AM
طلوع آفتاب06:00 AM
ظہر11:58 AM
عصر03:22 PM
مغرب05:56 PM
عشاء07:19 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6