نسلہ ٹاور فیصلہ: آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے مسماری احکامات واپس لے لیے

نسلہ ٹاور فیصلہ، آئینی عدالت کا تاریخی حکم
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، نسلہ ٹاور سے متعلق 2018 اور 2019 کے سپریم کورٹ احکامات کالعدم

وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور فیصلہ سناتے ہوئے ایک اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا حکم جاری کیا ہے، جس کے تحت سپریم کورٹ کے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے وہ احکامات واپس لے لیے گئے ہیں جو کراچی میں واقع نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بنے تھے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا بنیادی اختیار عدلیہ کے بجائے متعلقہ صوبائی حکومتوں اور انتظامی اداروں کے پاس ہوتا ہے۔ عدالت نے اس اصول کو بھی واضح کیا کہ عدالتی فورمز کو اپنے سامنے موجود تنازع تک محدود رہنا چاہیے اور ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے جو براہ راست مقدمے کا حصہ نہ ہوں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے زیر سماعت مقدمے کی حدود سے آگے بڑھ کر وسیع نوعیت کے احکامات جاری کیے تھے۔ وفاقی آئینی عدالت کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی رپورٹس کی بنیاد پر بھی قانونی تقاضے پورے کیے بغیر مسماری جیسے سخت اقدامات نہیں کیے جا سکتے۔

عدالت نے زور دیا کہ آئین کے تحت ہر شہری کو منصفانہ قانونی کارروائی کا حق حاصل ہے اور کسی بھی شخص یا ادارے کے خلاف کارروائی سے قبل مکمل قانونی عمل اختیار کرنا ضروری ہے۔ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ عدالت کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام اقدامات قانون اور آئین کے مطابق ہوں۔

وفاقی آئینی عدالت نے مزید کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں غیر قانونی تعمیرات کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے پہلے سے قانونی نظام اور متعلقہ ادارے موجود ہیں۔ سندھ حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری ادارے آئینی اور قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ ایسی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔

فیصلے کے ساتھ جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے اضافی نوٹ بھی تحریر کیا، جس میں انہوں نے ریاست کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق، عوامی مقامات، پارکس، گرین بیلٹس، کھیل کے میدان، ساحلی علاقوں اور فٹ پاتھوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایسے مقامات کو غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات سے محفوظ بنایا جائے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام میں اختیارات کی تقسیم، عدالتی حدود اور انتظامی اداروں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد مستقبل میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق مقدمات میں آئینی اور قانونی طریقہ کار کو مزید اہمیت ملنے کا امکان ہے۔

READ MORE FAQS

نسلہ ٹاور کیس میں آئینی عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 کے مسماری احکامات واپس لے لیے۔

عدالت نے غیر قانونی تعمیرات کے بارے میں کیا کہا؟

عدالت نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا اختیار بنیادی طور پر صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے پاس ہے۔

کیا عدالت نے غیر قانونی تعمیرات کو قانونی قرار دیا؟

نہیں، عدالت نے واضح کیا کہ غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ نہیں دیا جا رہا بلکہ قانونی طریقہ کار کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کیا کردار ہے؟

ایس بی سی اے غیر قانونی تعمیرات کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی کی ذمہ دار اتھارٹی ہے۔

متعلقہ خبریں