نئے صوبے صرف آئینی طریقہ کار سے بن سکتے ہیں، فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی: نیئر بخاری

نیئر بخاری نئے صوبے سے متعلق گفتگو
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

نئے صوبے صرف آئینی طریقہ کار سے بن سکتے ہیں، فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی: نیئر بخاری

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام صرف آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق ہی ممکن ہے، کسی بھی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے نئے صوبے نہیں بنائے جا سکتے۔

ایک انٹرویو میں نیئر بخاری نے کہا کہ آئین پاکستان نئے صوبوں کے قیام کا مکمل طریقہ واضح کرتا ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کے بغیر نہ نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی صوبائی حدود میں تبدیلی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبوں کے قیام میں سنجیدہ ہے تو معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جائے اور آئینی تقاضے پورے کیے جائیں۔

آزاد کشمیر انتخابات میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا مفاہمتی اجلاس
آزاد کشمیر انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ملاقات کی۔

نیئر بخاری نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر نئے انتظامی یونٹس بنانے کی خواہش ہے تو پنجاب سے اس عمل کا آغاز کیا جائے، جہاں جنوبی پنجاب کے صوبے سے متعلق قرارداد پہلے ہی پنجاب اسمبلی میں زیر التوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزرا اس معاملے کو وفاقی کابینہ میں اٹھائیں اور کابینہ کی منظوری کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اس اہم قومی معاملے پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے مشاورت کریں۔

پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ (سی ای سی) بھی اس معاملے پر غور کرے گی اور تمام فیصلے آئین، جمہوری اصولوں اور عوامی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ملک میں بہتر طرز حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر اس اہم قومی معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے کیونکہ موجودہ نظام عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔

ادھر ایم کیو ایم پاکستان ماضی میں کراچی کو سندھ سے الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے، تاہم سندھ میں برسراقتدار پیپلز پارٹی نے اس تجویز کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف طویل عرصے سے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی حمایت کرتی آئی ہیں۔

نیئر بخاری نے کہا کہ اگر موجودہ نظام میں خامیاں موجود ہیں تو ان کے حل کا آئینی فورم پارلیمنٹ ہے، میڈیا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ سفارتی کامیابیاں پوری قوم کا اثاثہ ہیں، تاہم ان کامیابیوں کو معاشی استحکام اور عوامی ریلیف میں تبدیل کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر معیشت بہتر نہ ہوئی تو اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: نیئر بخاری نے نئے صوبوں کے بارے میں کیا کہا؟

جواب: انہوں نے کہا کہ نئے صوبے صرف آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق اور پارلیمنٹ کی منظوری سے ہی بن سکتے ہیں۔

سوال 2: کیا ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں؟

جواب: نہیں، نیئر بخاری کے مطابق آئین کے تحت ایسا ممکن نہیں، اس کے لیے متعلقہ اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

سوال 3: پیپلز پارٹی کس نئے صوبے کی حمایت کرتی ہے؟

جواب: پیپلز پارٹی طویل عرصے سے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی حمایت کرتی رہی ہے جبکہ سندھ میں نئے صوبوں کی مخالفت کرتی ہے۔

سوال 4: محسن نقوی نے اس معاملے پر کیا مؤقف اختیار کیا؟

جواب: وزیر داخلہ محسن نقوی نے بہتر طرز حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

متعلقہ خبریں