پاکستان چیمپیئنز ڈبلیو سی ایل سے باہر، پاکستان کرکٹ بورڈ نے این او سی جاری نہیں کی
اسلام آباد: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے این او سی جاری نہ کیے جانے کے بعد پاکستانی ٹیم پاکستان چیمپیئنز نے متحدہ عرب امارات میں جاری ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز (WCL) کے تیسرے سیزن سے دستبرداری اختیار کرلی۔
پاکستان چیمپیئنز نے ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کے خلاف میچز کھیلنے تھے، تاہم پی سی بی کی اجازت نہ ملنے کے باعث یہ مقابلے منسوخ ہوگئے۔ بعد ازاں ویسٹ انڈیز، بھارت اور انگلینڈ کے خلاف شیڈول میچز بھی پاکستانی ٹیم کی دستبرداری کے باعث ختم کردیئے گئے۔
پی سی بی نے این او سی کیوں نہیں دیا؟
پاکستان چیمپیئنز کے مالک کامل خان کے مطابق انہوں نے پی سی بی سے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی اور ٹیم کی شرکت کے حوالے سے بورڈ سے بات چیت بھی جاری رکھی، تاہم پی سی بی نے این او سی جاری نہیں کیا۔
کامل خان کا کہنا ہے کہ ٹیم پی سی بی کے فیصلے کی خلاف ورزی نہیں کرسکتی، اس لیے بورڈ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ٹورنامنٹ سے دستبرداری اختیار کی گئی۔
اگرچہ پی سی بی نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا، تاہم اس فیصلے کا پس منظر گزشتہ سال ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والا تنازع بتایا جا رہا ہے۔

گزشتہ سال بھارت کے ساتھ میچ کا تنازع
گزشتہ سیزن کے دوران بھارت چیمپیئنز نے پاکستان چیمپیئنز کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کیا تھا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان کشیدگی کے باعث مقابلہ منسوخ ہوگیا، جبکہ بھارت کی جانب سے میچ نہ کھیلنے کے بعد پاکستان کو پوائنٹس ملے اور پاکستانی ٹیم فائنل تک پہنچ گئی۔
اس معاملے پر پی سی بی نے ڈبلیو سی ایل کے فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے کھیل کی روح کے منافی قرار دیا تھا۔
بعد ازاں پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں ڈبلیو سی ایل کے مبینہ دوہرے معیار اور متعصبانہ رویے پر مایوسی کا اظہار کیا گیا تھا اور آئندہ پاکستان کی ٹیم اس ایونٹ میں نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ڈبلیو سی ایل کی جانب سے گزشتہ سال کے تنازع پر معذرت بھی کی گئی تھی، تاہم رواں سال پاکستان چیمپیئنز کو ایونٹ میں شرکت کے لیے پی سی بی کی اجازت حاصل نہ ہوسکی۔
پاکستانی ٹیم میں کون کون شامل تھا؟
رواں سال پاکستان چیمپیئنز کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں میں کامران اکمل، شعیب ملک، شرجیل خان، آصف علی، افتخار احمد، عمر امین، محمد عامر، وہاب ریاض، سہیل تنویر، عامر یامین، آصف آفریدی اور رومان رئیس سمیت دیگر سابق اور معروف کھلاڑی شامل تھے۔
ماضی میں پاکستان چیمپیئنز کی قیادت سابق کپتان شاہد آفریدی اور محمد حفیظ بھی کرچکے ہیں۔
ٹیم نے گزشتہ دونوں سیزنز میں ڈبلیو سی ایل کے فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔ 2024 میں پاکستان چیمپیئنز کو بھارت چیمپیئنز جبکہ 2025 میں جنوبی افریقہ چیمپیئنز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مالک کا مؤقف، ’’کھلاڑیوں کو اچھا ایکسپوژر ملتا‘‘
پاکستان چیمپیئنز کے مالک کامل خان نے کہا کہ ٹیم کی ٹکٹیں، ہوٹل اور اسپانسرشپ سمیت دیگر انتظامات پہلے ہی طے ہوچکے تھے، اس لیے فرنچائز کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

ان کے مطابق تاہم سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو سابق عالمی کرکٹرز کے اس ایونٹ میں کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا۔
کامل خان نے کہا کہ ایسی لیگز میں پاکستانی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ایکسپوژر حاصل ہوتا ہے اور انہیں مستقبل میں دیگر لیگز میں کھیلنے کے مواقع بھی مل سکتے ہیں۔
ڈبلیو سی ایل میں اب کتنی ٹیمیں ہیں؟
پاکستان چیمپیئنز کی دستبرداری کے بعد رواں سال ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں اب سات کے بجائے چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
ٹورنامنٹ میں بھارت، انگلینڈ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش چیمپیئنز شامل ہیں۔
پاکستانی ٹیم کی عدم شرکت کے بعد ٹورنامنٹ کا شیڈول بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری
پاکستان چیمپیئنز کی ڈبلیو سی ایل سے دستبرداری کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ بعض صارفین نے پی سی بی کے گزشتہ سال کے مؤقف کو دیکھتے ہوئے موجودہ فیصلے کی حمایت کی، جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ سابق کھلاڑیوں پر مشتمل ایسی لیگز میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شرکت کا موقع ملنا چاہیے تھا۔
یوں پاکستان چیمپیئنز کی موجودہ سیزن سے غیر حاضری نے ایک بار پھر پاکستان، بھارت اور ڈبلیو سی ایل کے درمیان گزشتہ سال پیدا ہونے والے تنازع کو نمایاں کردیا ہے۔
READ MORE FAQS”
سوال 1: پاکستان چیمپیئنز ڈبلیو سی ایل سے کیوں دستبردار ہوئی؟
پاکستان چیمپیئنز نے پی سی بی کی جانب سے این او سی جاری نہ کیے جانے کے بعد ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز سے دستبرداری اختیار کی۔
سوال 2: پی سی بی نے پاکستان چیمپیئنز کو این او سی کیوں نہیں دیا؟
پی سی بی نے اس معاملے پر تفصیلی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم گزشتہ سال ڈبلیو سی ایل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کے بعد بورڈ نے ایونٹ کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔
سوال 3: پاکستان چیمپیئنز میں کون سے کھلاڑی شامل تھے؟
ٹیم میں کامران اکمل، شعیب ملک، شرجیل خان، آصف علی، افتخار احمد، محمد عامر، وہاب ریاض، سہیل تنویر اور دیگر معروف پاکستانی کھلاڑی شامل تھے۔
سوال 4: پاکستان چیمپیئنز نے ڈبلیو سی ایل میں پہلے فائنل کھیلا ہے؟
جی ہاں، پاکستان چیمپیئنز ڈبلیو سی ایل کے گزشتہ دونوں سیزنز میں فائنل تک پہنچی تھی۔





