پاکستان میں پہلا ڈی پی آر پروگرام، جدید مالیاتی نظام کی جانب اہم پیش رفت
پاکستان میں پہلا ڈی پی آر پروگرام متعارف کرا دیا گیا ہے، جسے ملک کے مالیاتی نظام کو جدید بنانے اور عالمی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ خرم شہزاد کے مطابق ڈی پی آر پروگرام عالمی سرمایہ کاروں سے غیر ملکی کرنسی میں طویل مدتی فنانسنگ حاصل کرنے کا جدید مالیاتی ذریعہ ہے، جس کے ذریعے پاکستان کے مالیاتی ذرائع میں تنوع پیدا کرنے، عالمی سرمایہ کاروں تک رسائی بڑھانے اور پیداواری سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سلسلے میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) اور بینک الفلاح کے درمیان پروجیکٹ معاہدہ طے پایا ہے، جبکہ پروگرام کے تحت ابتدائی طور پر 100 ملین امریکی ڈالر تک کی فنانسنگ دستیاب ہوگی۔ ڈی پی آر ماڈل کے ذریعے مقامی مالیاتی اداروں کو عالمی سرمایہ مارکیٹوں سے جوڑنے کے نئے امکانات پیدا ہوں گے اور روایتی فنانسنگ ذرائع پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ غیر ملکی کرنسی میں طویل مدتی فنانسنگ کی سہولت ایسے پیداواری منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے جنہیں مکمل ہونے میں طویل وقت درکار ہوتا ہے، جبکہ سرمایہ کاری میں اضافے سے کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اس پروگرام کو دیگر پاکستانی بینکوں کے لیے بھی ایک نئی مثال قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس ماڈل کے کامیاب ہونے کی صورت میں مزید بینک عالمی سرمایہ مارکیٹوں سے منسلک ہوکر مختلف ذرائع سے فنانسنگ حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈی پی آر پروگرام پاکستان کے مالیاتی شعبے اور عالمی سرمایہ کاروں کے درمیان روابط مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ تک رسائی کے نئے راستے بھی فراہم کرسکتا ہے۔ پروگرام کے عملی نتائج اس بات پر منحصر ہوں گے کہ حاصل ہونے والی فنانسنگ کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، تاہم عالمی سرمایہ کاری، مالیاتی تنوع اور پیداواری شعبوں کے فروغ کے حوالے سے اس اقدام کو اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
READ MORE FAQS
1۔ پاکستان میں پہلا ڈی پی آر پروگرام کیا ہے؟
یہ ایک جدید مالیاتی پروگرام ہے جس کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں سے غیر ملکی کرنسی میں طویل مدتی فنانسنگ حاصل کرنے کا راستہ فراہم کیا گیا ہے۔
2۔ ڈی پی آر پروگرام کے تحت کتنی فنانسنگ دستیاب ہوگی؟
ابتدائی طور پر پروگرام کے تحت 100 ملین امریکی ڈالر تک فنانسنگ دستیاب ہوگی۔
3۔ ڈی پی آر پروگرام سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟
اس سے مالیاتی ذرائع میں تنوع، عالمی سرمایہ کاروں تک رسائی اور پیداواری سرمایہ کاری کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔
4۔ ڈی پی آر پروگرام کے لیے کن اداروں کے درمیان معاہدہ ہوا؟
فراہم کردہ معلومات کے مطابق آئی ایف سی اور بینک الفلاح کے درمیان پروجیکٹ معاہدہ طے پایا ہے۔








