وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں
سہیل آفریدی نے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران عدالتوں کے فیصلے تسلیم نہیں کر رہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 27 ستمبر کے مارچ کی کال اپنی جگہ برقرار ہے اور 27 تاریخ کے مارچ پر تمام قیادت متفق ہے۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال میں اپوزیشن جماعتیں اپنی آئندہ حکمت عملی طے کرنے کے لیے مشاورت جاری رکھیں گی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکمران عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کر رہے اور خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے حکومتی اقدامات پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ قانون اور آئین کی پاسداری ہر فریق کی ذمہ داری ہے۔
27 ستمبر کے مارچ کا اعلان برقرار
سہیل آفریدی کے مطابق 27 ستمبر کے مارچ کی کال واپس نہیں لی گئی اور اس حوالے سے تمام قیادت متفق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مارچ سے متعلق اعلان اپنی جگہ برقرار ہے۔
27 ستمبر کے مارچ کا معاملہ سیاسی منظرنامے میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشاورت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت جاری رہنے کا امکان ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ مارچ پر تمام قیادت کا اتفاق موجود ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے اور اپوزیشن جماعتیں اپنے آئندہ اقدامات کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔
حکومت پر عدالتی فیصلے تسلیم نہ کرنے کا الزام
سہیل آفریدی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ حکمران عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران خود کو آئین اور قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے آئین اور قانون کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی معاملات میں عدالتی فیصلوں کا احترام ضروری ہے۔ ان کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات مختلف معاملات پر جاری ہیں۔ سہیل آفریدی کے مطابق موجودہ صورتحال میں اپوزیشن کو قانونی اور سیاسی دونوں محاذوں پر اپنی آواز مؤثر انداز میں اٹھانا ہوگی۔
توہین عدالت کی درخواست
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بتایا کہ حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
توہین عدالت سے متعلق درخواست دائر کرنے کا مقصد مبینہ طور پر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کے معاملے کو عدالت کے سامنے لانا ہے۔ تاہم درخواست کے قانونی نکات، متعلقہ عدالت اور اس کے بعد ہونے والی کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں عدالت درخواست کے مندرجات، متعلقہ احکامات اور فریقین کے مؤقف کا جائزہ لے کر آئندہ کارروائی کا فیصلہ کرتی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس آج رات منعقد کیا جائے گا۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال، حکومتی اقدامات اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کو 27 ستمبر کے مارچ کی تیاریوں کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اپنی تجاویز پیش کرسکتے ہیں اور مارچ سے متعلق انتظامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال ہوسکتا ہے۔
قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کا مؤقف
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی کے مطابق کسی بھی سیاسی یا حکومتی اقدام کا جائزہ آئین اور قانون کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
سہیل آفریدی کا تازہ بیان خیبرپختونخوا سمیت ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ ایک طرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عدالتی معاملات پر اختلافات موجود ہیں، جبکہ دوسری جانب 27 ستمبر کے مارچ کے اعلان نے سیاسی سرگرمیوں میں مزید شدت پیدا کردی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس اور حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کا اعلان آنے والے دنوں میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم مارچ اور قانونی کارروائی سے متعلق حتمی تفصیلات متعلقہ سیاسی اور قانونی فورمز کی جانب سے سامنے آنے کے بعد مزید واضح ہوں گی۔
مجموعی طور پر سہیل آفریدی نے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے، 27 ستمبر کے مارچ کو برقرار رکھنے اور اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے حوالے سے اہم اعلانات کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے حکومت پر عدالتی فیصلے تسلیم نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکمران خود کو آئین اور قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ دوسری جانب 27 ستمبر کے مارچ کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ تمام قیادت اس پر متفق ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس آج رات آئندہ کی سیاسی حکمت عملی طے کرنے کے لیے منعقد ہوگا۔
READ MORE FAQS
- سہیل آفریدی نے کیا اعلان کیا؟
سہیل آفریدی نے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
- 27 ستمبر کے مارچ کے بارے میں کیا کہا گیا؟
سہیل آفریدی کے مطابق 27 ستمبر کے مارچ کی کال برقرار ہے اور تمام قیادت اس پر متفق ہے۔
- وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے حکومت پر کیا الزام لگایا؟
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکمران عدالتوں کے فیصلے تسلیم نہیں کر رہے اور خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔
- اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس کب ہوگا؟
سہیل آفریدی کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس آج رات منعقد کیا جائے گا۔








