پیٹرول کی قیمت میں اضافہ: 100 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز، عوام پر بڑا بوجھ

پیٹرول کی قیمت میں اضافہ پاکستان 100 روپے فی لیٹر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پیٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ متوقع، پیٹرول 493 روپے فی لیٹر تک جانے کا امکان

‫پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر پاکستانی عوام کے لیے ایک بڑی تشویش بن کر سامنے آیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق حکومت بین الاقوامی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کی نئی شرائط کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 100 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔‬

ذرائع کے مطابق اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو موجودہ قیمتوں کے حساب سے پیٹرول کی قیمت 393.35 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر تقریباً 493.35 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل، جو اس وقت 380.19 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے، بڑھ کر 480.19 روپے فی لیٹر تک جا سکتا ہے۔ یہ اضافہ ملکی تاریخ میں ایندھن کی قیمتوں کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہوگا۔

حکومت کی جانب سے جمعہ کے روز پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان متوقع ہے، جس میں ان مجوزہ اضافوں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہ صرف عوام کی قوتِ خرید کو متاثر کرے گا بلکہ مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب بھی بنے گا۔

اپریل 2026 کے دوران حکومت پہلے ہی پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی میں نمایاں اضافہ کر چکی ہے، جس کے بعد یہ 107 روپے فی لیٹر سے بھی تجاوز کر گئی۔ بعض مواقع پر یہ اضافہ ایک ہی بار میں 50 روپے سے زیادہ رہا، جس نے عوامی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد آئی ایم ایف کے مالیاتی اہداف کو پورا کرنا اور حکومتی ریونیو میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں پیٹرولیم لیوی کی مجموعی وصولیاں 1.2 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔ اس کے باوجود حکومت مزید اضافہ کرنے پر غور کر رہی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مالیاتی دباؤ اب بھی برقرار ہے۔

پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس وقت پیٹرول پر مختلف ٹیکسز، جن میں پیٹرولیم لیوی، کسٹم ڈیوٹی اور ماحولیاتی چارجز شامل ہیں، مجموعی طور پر تقریباً 134 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کو ادا کی جانے والی قیمت کا بڑا حصہ ٹیکسز پر مشتمل ہے۔

گزشتہ جمعہ کو بھی حکومت نے اچانک پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 26.77 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 353.42 روپے سے بڑھ کر 380.19 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ یہ تقریباً 7.5 فیصد اضافہ تھا، حالانکہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کوئی بڑا فوری اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ قیمتیں اب بھی 10 اپریل کو ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح 520.4 روپے فی لیٹر سے کم ہیں، تاہم اگر مجوزہ اضافہ نافذ ہو جاتا ہے تو قیمتیں ایک بار پھر اس سطح کے قریب پہنچ سکتی ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کا اثر صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے اشیائے خوردونوش، ٹرانسپورٹ، بجلی اور دیگر خدمات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جس سے مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

عوامی سطح پر اس ممکنہ اضافے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کے لیے یہ اضافہ مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اس صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔

حکومت کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ ہے کہ وہ مالیاتی ضروریات اور عوامی ریلیف کے درمیان کس طرح توازن قائم کرے۔ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط ہیں جنہیں پورا کرنا ضروری ہے، جبکہ دوسری طرف عوامی دباؤ ہے جو قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہے۔

اگر حکومت پیٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ کرتی ہے تو اس کے مثبت اثرات میں حکومتی ریونیو میں اضافہ شامل ہو سکتا ہے، تاہم اس کے منفی اثرات زیادہ نمایاں ہوں گے، خاص طور پر عوامی سطح پر۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف اقتصادی بلکہ سماجی اثرات بھی رکھتا ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ عوام کو مزید کس حد تک مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فی الحال تمام نظریں جمعہ کے روز ہونے والے اعلان پر مرکوز ہیں، جہاں اس اہم فیصلے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]