بلوچستان کسٹمز کا بڑا ایکشن، ساڑھے چار ارب روپے مالیت کا غیر ملکی و ممنوعہ سامان تلف
کوئٹہ کسٹمز اسمگل شدہ سامان نذر آتش کرنے کی ایک بڑی اور تاریخی کارروائی سامنے آئی ہے جس میں بلوچستان کسٹمز نے تقریباً ساڑھے چار ارب روپے مالیت کے غیر ملکی، ممنوعہ اور اسمگل شدہ سامان کو مکمل طور پر تلف کردیا۔ یہ کارروائی صوبے میں اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کا اہم حصہ قرار دی جا رہی ہے۔
کسٹمز حکام کے مطابق ضبط شدہ سامان کو 64 ٹرکوں کے ذریعے سخت سکیورٹی میں مخصوص مقام تک منتقل کیا گیا جہاں تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد سامان کو نذر آتش کیا گیا۔ کارروائی کے دوران کسٹمز پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے۔
تقریب میں چیف کلیکٹر بلوچستان کسٹمز، کلیکٹر کسٹمز شاہد جان، سیکرٹری ایکسائز بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ حکام نے اس موقع پر اسمگلنگ کے خلاف حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی تجارت کے خاتمے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

کسٹمز ذرائع کے مطابق تلف کیے گئے سامان میں مختلف اقسام کی غیر ملکی اشیاء، ممنوعہ مصنوعات، غیر قانونی درآمد شدہ سامان، الیکٹرانکس، سگریٹ، کپڑا، گاڑیوں کے پرزہ جات اور دیگر تجارتی مصنوعات شامل تھیں۔ یہ سامان مختلف کارروائیوں اور چھاپوں کے دوران ضبط کیا گیا تھا۔
کلیکٹر کسٹمز شاہد جان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسٹمز اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ماہ اربوں روپے مالیت کے غیر قانونی اور اسمگل شدہ سامان کو تلف کیا جائے گا تاکہ غیر قانونی کاروبار کی حوصلہ شکنی ہو اور قومی معیشت کو نقصان پہنچانے والے عناصر کا راستہ روکا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسمگلنگ نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ مقامی صنعتوں اور قانونی کاروبار کے لیے بھی خطرہ بنتی ہے۔ اسی لیے کسٹمز اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں۔
سیکرٹری ایکسائز بلوچستان نے بھی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تجارت ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور اس کے خلاف تمام ادارے متحد ہو کر کام کر رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اسمگلنگ کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں قانونی تجارت کے فروغ، مقامی صنعت کے تحفظ اور ٹیکس آمدن میں اضافے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ جب غیر قانونی مصنوعات مارکیٹ سے ختم ہوں گی تو مقامی صنعتوں کو بہتر مواقع میسر آئیں گے اور حکومت کو محصولات کی مد میں زیادہ آمدن حاصل ہوگی۔
بلوچستان کسٹمز کی حالیہ کارروائی کو ملک میں انسداد اسمگلنگ مہم کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رہیں گی اور قانون کی مکمل عملداری کو یقینی بنایا جائے گا۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کا مؤقف ہے کہ اسمگلنگ کے خاتمے سے نہ صرف قومی خزانے کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو مستحکم بنانے، قانونی تجارت کو فروغ دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی
READ MORE FAQS
سوال: کسٹمز نے کتنی مالیت کا سامان تلف کیا؟
جواب: تقریباً 4.5 ارب روپے مالیت کا ضبط شدہ سامان نذر آتش کیا گیا۔
سوال: سامان کہاں تلف کیا گیا؟
جواب: کوئٹہ میں مقررہ تلفی مقام پر سخت سکیورٹی میں سامان کو جلایا گیا۔
سوال: سامان کی منتقلی کے لیے کتنے ٹرک استعمال ہوئے؟
جواب: ضبط شدہ سامان 64 ٹرکوں کے ذریعے تلفی کے مقام تک پہنچایا گیا۔
سوال: تلف کیے گئے سامان میں کیا شامل تھا؟
جواب: غیر ملکی اشیاء، ممنوعہ مصنوعات اور مختلف اقسام کا اسمگل شدہ سامان شامل تھا








