دشمن کے مکمل ہتھیار ڈالنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، ایرانی سیکیورٹی چیف محمد باقر ذوالقدر

ایرانی سیکیورٹی چیف محمد باقر ذوالقدر کا اہم بیان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

دشمن کے مکمل ہتھیار ڈالنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، ایرانی سیکیورٹی چیف محمد باقر ذوالقدر

تہران: ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محمد باقر ذوالقدر نے کہا ہے کہ امریکی اہداف کے خلاف ایرانی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دشمن مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا اور مناب و لامرد میں بچوں کے قتل عام کا بدلہ نہیں لے لیا جاتا۔

ایرانی میڈیا کے مطابقایرانی سیکیورٹی چیف محمد باقر ذوالقدر نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں جہاں بھی دھویں کے بادل دکھائی دیتے ہیں، وہ اس بات کی علامت ہیں کہ کسی امریکی فوجی، سیکیورٹی یا مالیاتی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کی جانب سے مسلسل ہدفی حملے ایرانی عوام کے غصے اور عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دشمن مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈالتا اور مناب و لامرد میں بچوں کے قتل عام کا حساب نہیں چکاتا۔

امریکا کے نئے ٹیرف سے پاکستان متاثر
امریکا نے پاکستان سمیت 60 سے زائد ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف نافذ کر دیے۔

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی

رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملے کیے تھے، جس کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔ تقریباً 40 روز بعد 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی عمل میں آئی، تاہم اس دوران ایران نے جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے آبنائے ہرمز بھی بند کر دی تھی۔

بعد ازاں 17 جون کو پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے بعد سوئٹزرلینڈ اور قطر میں تکنیکی مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔

تاہم اسلام آباد میں مجوزہ تیسرے دور کے مذاکرات سے قبل ہی دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دوبارہ حملے شروع کر دیے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔

فضائی حملوں اور جانی نقصان کا دعویٰ

ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوج نے گزشتہ 13 روز کے دوران ایران کے مختلف علاقوں میں مسلسل فضائی کارروائیاں کیں، جن میں مواصلاتی نظام، پلوں، پانی کی تنصیبات اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائیوں میں ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی برادری مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: ایرانی سیکیورٹی چیف محمد باقر ذوالقدر کون ہیں؟
جواب: محمد باقر ذوالقدر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں اور ملکی سلامتی سے متعلق اہم پالیسی امور میں کردار ادا کرتے ہیں۔

سوال 2: ایرانی سیکیورٹی چیف محمد باقر ذوالقدر نے اپنے بیان میں کیا کہا؟
جواب: ایرانی سیکیورٹی چیف محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ امریکا کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دشمن مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا اور مناب و لامرد میں بچوں کے قتل عام کا بدلہ نہیں لیا جاتا۔

سوال 3: ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی دوبارہ کیوں بڑھی؟
جواب: ایران اور امریکا نے ایک دوسرے پر جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جس کے بعد دونوں جانب سے دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

سوال 4: ایرانی میڈیا نے امریکی حملوں کے بارے میں کیا دعویٰ کیا؟
جواب: ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ 13 روز کے دوران امریکی فضائی حملوں میں شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا، 55 افراد جاں بحق اور 645 زخمی ہوئے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ

متعلقہ خبریں