کانگریس کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی کا وزیراعظم مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج، بھارتی پولیس کا کریک ڈاؤن، متعدد رہنما حراست میں
نئی دہلی: بھارت میں NEET پیپر لیک اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کے معاملے پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔ کانگریس کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، پارٹی صدر ملکارجن کھرگے اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ 7، لوک کلیان مارگ کے باہر احتجاج کیا، جس کے بعد بھارتی پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
کانگریس ذرائع کے مطابق احتجاجی منصوبہ انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا۔ تقریباً 25 ارکانِ پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ وہ صرف پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچیں، تاہم تقریب کے اختتام پر راہل گاندھی کے قافلے کی پیروی کرتے ہوئے وہ اچانک وزیراعظم کی رہائش گاہ پہنچ گئے، جہاں دھرنا دے دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا مقصد حکومت اور پولیس کو احتجاج سے پہلے آگاہ ہونے سے روکنا تھا تاکہ سیکیورٹی فورسز پیشگی رکاوٹ نہ ڈال سکیں۔
بھارتی پولیس کا کریک ڈاؤن

احتجاج شروع ہوتے ہی نئی دہلی پولیس کی بھاری نفری نے وزیراعظم ہاؤس کے اطراف سیکیورٹی سخت کر دی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر ہونے کی ہدایت کی، تاہم احتجاج جاری رہنے پر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں کو زبردستی احتجاجی مقام سے ہٹا کر حراست میں لے لیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو سرکاری رہائش گاہ کے قریب جمع ہونے اور سیکیورٹی انتظامات میں خلل ڈالنے کا جواز بنا کر کارروائی کی۔ متعدد کانگریسی کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا جبکہ احتجاجی مقام کے اطراف ناکہ بندی کر دی گئی۔
مودی سے استعفے کا مطالبہ
احتجاج کے دوران راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہندوستان کے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے، حکومت نہ ذمہ داری قبول کر رہی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث کرانا چاہتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز NEET پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس تشدد ناقابل قبول ہے اور حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔
اپوزیشن کی تنقید
کانگریس رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، اسی لیے وہ اپنی آواز وزیراعظم کی رہائش گاہ تک لے کر آئے۔ رکن پارلیمنٹ سید نصیر حسین نے الزام لگایا کہ حکومت اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
زخمی طلبہ سے ملاقات
احتجاج سے قبل راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے رام منوہر لوہیا اسپتال جا کر ان طلبہ کی عیادت بھی کی جو گزشتہ روز پولیس کارروائی میں زخمی ہوئے تھے۔ کانگریس نے طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔
سیاسی کشیدگی میں اضافہ
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج اور اس کے بعد پولیس کی سخت کارروائی نے بھارت میں سیاسی ماحول مزید گرم کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت پر طلبہ کے مطالبات نظر انداز کرنے اور احتجاج کو طاقت سے دبانے کا الزام عائد کر رہی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس احتجاج پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
मोदी की तानाशाही देखिए।
देश के नेता विपक्ष के साथ ऐसा सुलूक किया जा रहा है।
शर्मनाक! pic.twitter.com/mPvojsUnbA
— Congress (@INCIndia) July 21, 2026
READ MORE FAQS”
راہل گاندھی نے احتجاج کیوں کیا؟
NEET پیپر لیک اور احتجاجی طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کے خلاف۔
احتجاج کہاں کیا گیا؟
وزیراعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ 7، لوک کلیان مارگ، نئی دہلی کے باہر۔
پولیس نے کیا کارروائی کی؟
بھارتی پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی سمیت متعدد اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیا۔
راہل گاندھی کا مطالبہ کیا تھا؟
انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے طلبہ پر پولیس کارروائی کی مذمت کی۔






