رانا ثنااللہ: عدالتی کسٹڈی میں شخص کے علاج کی ذمہ داری عدالت کی ہے

رانا ثنااللہ عمران خان کی صحت سے متعلق سینیٹ میں گفتگو کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عمران خان کے علاج پر رانا ثنااللہ کا اہم بیان

رانا ثنااللہ عمران خان کی صحت سے متعلق سینیٹ اجلاس میں ہونے والی بحث کے دوران اہم بیان سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص عدالتی کسٹڈی میں ہو، اس کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے۔

سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کے باوقار سیاستدان ہیں اور انہیں ذہنی اذیتوں کا سامنا ہے، جبکہ ان کی صحت سے متعلق صورتحال بھی تشویشناک ہے۔

راجہ ناصر عباس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کی صحت کے معاملات کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے نظام کے حوالے سے کیے جانے والے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی سوالات اٹھائے۔

جواب دیتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ رولز کے مطابق عدالتی کسٹڈی میں موجود شخص کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اگر علاج میں کوئی کوتاہی ہو تو اس کی ذمہ داری عدالت پر عائد ہوتی ہے۔

رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بلڈ پریشر سے متعلق حاصل کی گئی معلومات میں اپوزیشن لیڈر کی جانب سے ظاہر کی گئی تشویش کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خاندان کی جانب سے تجویز کیے گئے ڈاکٹرز کو بھی طبی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ عدالت میں پی ٹی آئی کی درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن کی جانب سے معاملہ عدالت میں اٹھایا جا رہا ہے تو متعلقہ فورم پر اس کی سماعت بھی ہو رہی ہے۔

دوسری جانب سینیٹر اعظم سواتی نے عمران خان کی صحت کے معاملے پر حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی زندگی سے نہیں کھیلنا چاہیے اور ان کی صحت کے معاملات فوری طور پر حل کیے جانے چاہئیں۔

اعظم سواتی نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹرز کی جانب سے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کے ساتھ راجہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی سمیت دیگر سیاسی رہنما بیٹھ کر معاملے پر بات کریں۔

سینیٹ میں ہونے والی اس بحث کے دوران عمران خان کی صحت، طبی سہولیات اور عدالتی کسٹڈی میں موجود قیدیوں کے علاج سے متعلق ذمہ داری کا معاملہ زیر بحث آیا۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے اس حوالے سے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

READ MORE FAQS
  1. رانا ثنااللہ نے عمران خان کی صحت کے بارے میں کیا کہا؟
    رانا ثنااللہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے بلڈ پریشر سے متعلق حاصل معلومات میں اپوزیشن لیڈر کی تشویش کی تصدیق نہیں ہوئی۔
  2. عدالتی کسٹڈی میں موجود شخص کے علاج کی ذمہ داری کس پر ہے؟
    رانا ثنااللہ نے سینیٹ میں کہا کہ عدالتی کسٹڈی میں موجود شخص کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے اور علاج میں کوتاہی کی ذمہ داری عدالت کی ہے۔
  3. کیا عمران خان کے تجویز کردہ ڈاکٹرز طبی ٹیم میں شامل ہیں؟
    رانا ثنااللہ کے مطابق عمران خان کی فیملی کی جانب سے دیے گئے ڈاکٹرز کے نام طبی ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔
  4. راجہ ناصر عباس نے سینیٹ میں کیا مطالبہ کیا؟
    انہوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے علاج اور صحت کے معاملات فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔