راولاکوٹ میں کشیدہ صورتحال کے بعد سکیورٹی فورسز متحرک، شہر بھر میں سخت حفاظتی اقدامات
راولاکوٹ میں کشیدہ صورتحال کے بعد سکیورٹی فورسز نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور امن و امان کی بحالی کے لیے مختلف علاقوں میں سخت حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ آزاد کشمیر کے اس اہم شہر میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں جبکہ بازار، دکانیں اور اہم تجارتی مراکز بند ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سپلائی بازار اور سی ایم ایچ راولاکوٹ کے سامنے احتجاج کرنے والے افراد کو منتشر کر دیا۔ شہر میں ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔
سکیورٹی حکام کے مطابق عوام کے جان و مال کے تحفظ اور سرکاری و نجی املاک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ شہر کے حساس مقامات پر نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ترجمان انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر کے مطابق 7 جون کو کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر نے راولاکوٹ میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر منصوبہ بندی کے تحت فائرنگ کی گئی جس کے باعث حالات کشیدہ ہوئے۔
پولیس کے مطابق بعض عناصر نے سی ایم ایچ راولاکوٹ کا محاصرہ بھی کیا جس سے ہسپتال کی معمول کی طبی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں رکھا اور مریضوں، طبی عملے اور عام شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دی۔
حکام کا کہنا ہے کہ 7 اور 8 جون کی درمیانی شب ایک محدود اور منظم کارروائی کے ذریعے سی ایم ایچ راولاکوٹ کا محاصرہ ختم کروا دیا گیا۔ کارروائی کے دوران ہسپتال، مریضوں اور طبی عملے کو محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے۔ بعد ازاں ہسپتال میں تمام طبی خدمات معمول کے مطابق بحال کر دی گئیں۔
سرکاری بیان کے مطابق 6 جون سے جاری کشیدگی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکار جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں راولاکوٹ پولیس کے تین اہلکار اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کا ایک اہلکار شامل ہے۔ متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ تصادم اور فائرنگ کے واقعات میں بعض افراد بھی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ امن و امان کو مکمل طور پر بحال رکھا جا سکے۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے حالیہ دنوں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد تنظیم کی جانب سے 9 جون کو ہڑتال کی کال دی گئی تھی، جس کے باعث مختلف علاقوں میں کشیدگی پیدا ہوئی۔
سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شہریوں سے پرامن رہنے اور قانون ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات پر مکمل نظر رکھی جا رہی ہے اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق راولاکوٹ میں کشیدہ صورتحال کا جلد اور پرامن حل نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے آزاد کشمیر میں استحکام کے لیے ضروری ہے۔ امن و امان کی بحالی، عوامی اعتماد اور معمولات زندگی کی واپسی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر آنے تک نگرانی اور حفاظتی اقدامات جاری رہیں گے تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں اور روزمرہ زندگی دوبارہ معمول کے مطابق بحال ہو سکے۔
READ MORE FAQS
راولاکوٹ میں کشیدہ صورتحال کی وجہ کیا ہے؟
حکام کے مطابق احتجاج، فائرنگ کے واقعات اور امن و امان کی صورتحال کے باعث کشیدگی پیدا ہوئی۔
کیا راولاکوٹ میں بازار کھلے ہیں؟
رپورٹس کے مطابق شہر کے بیشتر بازار اور دکانیں بند ہیں۔
سکیورٹی فورسز نے کیا اقدامات کیے ہیں؟
شہر کے داخلی راستوں پر ناکے قائم کیے گئے ہیں اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
سی ایم ایچ راولاکوٹ کی صورتحال کیا ہے؟
حکام کے مطابق ہسپتال کا محاصرہ ختم کرا دیا گیا ہے اور طبی خدمات معمول کے مطابق بحال ہیں۔








