سانحۂ کاہنہ: مزید 2 بچوں کی نمازِ جنازہ ادا، علاقے میں سوگ کی فضا
سانحۂ کاہنہ کے بعد متاثرہ علاقے میں غم اور سوگ کی فضا برقرار ہے، جہاں حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزید دو بچوں عبداللہ اور ارحم کی نمازِ جنازہ مقامی جنازہ گاہ میں ادا کر دی گئی۔
نمازِ جنازہ میں اہلِ علاقہ، عزیز و اقارب اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مرحوم بچوں کے لیے دعائے مغفرت کی۔ اب تک حادثے میں جاں بحق ہونے والے 14 بچوں میں سے 11 کی نمازِ جنازہ ادا کی جا چکی ہے۔
گزشتہ رات متعدد بچوں اور بچیوں کو نمازِ جنازہ کے بعد مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، جبکہ آج بھی تدفین کا عمل جاری رہا۔ افسوسناک واقعے کے باعث علاقے کی فضا سوگوار ہے، بازار اور دکانیں بند ہیں اور ہر طرف غم کی کیفیت محسوس کی جا رہی ہے۔
نمازِ جنازہ کے موقع پر پولیس نے سخت سکیورٹی انتظامات کیے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقے میں صاف پانی، روشنی، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی۔ لاشوں کی منتقلی کے لیے متعلقہ اداروں کی گاڑیاں بھی موجود رہیں۔
دوسری جانب جنرل اسپتال، چلڈرن اسپتال اور تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں زخمی بچوں اور خاتون ٹیچر کا علاج جاری ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے زخمی مالک مکان، خاتون ٹیچر کے شوہر، ان کے بھائی اور چھت پر کام کرنے والے مزدور سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش شروع کر دی ہے۔
حکام کے مطابق واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ ذمہ دار افراد کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ صوبے بھر کے تعلیمی اداروں اور نجی عمارتوں کے حفاظتی معیار کا جائزہ لینے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
READ MORE FAQS
- سانحۂ کاہنہ میں مزید کن بچوں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی؟
عبداللہ اور ارحم کی نمازِ جنازہ مقامی جنازہ گاہ میں ادا کی گئی۔
- حادثے میں کتنے بچوں کی نمازِ جنازہ ادا ہو چکی ہے؟
اب تک جاں بحق 14 بچوں میں سے 11 کی نمازِ جنازہ ادا کی جا چکی ہے۔
- زخمی بچوں کا علاج کہاں جاری ہے؟
زخمی بچوں اور خاتون ٹیچر کا علاج جنرل اسپتال، چلڈرن اسپتال اور تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں جاری ہے۔
- پولیس کی تحقیقات کہاں تک پہنچی ہیں؟
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے متعدد افراد کو تحویل میں لے کر مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کر دی ہے۔








