کباڑ جمع کرنے والا 71 سالہ شخص کروڑ پتی بن گیا، پنشن اکاؤنٹ میں لاکھوں یوان
کباڑ جمع کرنے والا شخص کروڑ پتی بن گیا، لیکن اس کی دولت کسی اچانک کاروباری کامیابی یا لاٹری سے نہیں بلکہ برسوں سے جمع ہونے والی پنشن سے نکلی۔ چین کے 71 سالہ شہری ریو کو اس وقت اپنی مالی صورتحال کا اندازہ ہوا جب اسے معلوم ہوا کہ اس کے پنشن اکاؤنٹ میں 4 لاکھ 24 ہزار 204 یوان موجود ہیں۔
چینی میڈیا کے مطابق ریو گزشتہ 21 برس سے کباڑ جمع کرکے اپنی گزر بسر کر رہا تھا۔ اس دوران اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ حکومت کی جانب سے اس کے نام پر پنشن کی رقم مسلسل جمع ہو رہی ہے۔ بینک کارڈ ملنے کے بعد اسے پہلی مرتبہ اپنے پنشن اکاؤنٹ میں موجود رقم کا علم ہوا۔
پنشن اکاؤنٹ میں موجود 4 لاکھ 24 ہزار 204 یوان پاکستانی کرنسی میں ایک کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد بنتے ہیں۔ اس طرح کئی برس سے انتہائی محدود وسائل میں زندگی گزارنے والے معمر شخص کے لیے یہ رقم کسی بڑے مالی سہارا سے کم نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ریو کا تعلق چین کے صوبہ ہونان کے علاقے چنگڈو سے بتایا گیا ہے، جہاں وہ گزشتہ کئی سال سے مقیم ہے۔ اس نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ محنت مزدوری میں گزارا اور 21 سال تک کباڑ اکٹھا کرکے روزمرہ اخراجات پورے کرتا رہا۔
ریو نے 2000 کی دہائی میں حکومت کے زیر انتظام ایک دکان میں تقریباً 30 برس تک کام کیا تھا۔ بعد ازاں اسے ملازمت سے فارغ کرتے ہوئے معاوضہ ادا کیا گیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ رقم ختم ہوگئی اور وہ مالی مشکلات کا شکار ہوگیا۔
مالی پریشانیوں کے باعث ریو پر قرض بھی چڑھ گیا۔ حالات مزید خراب ہوئے تو اس کے رشتے داروں کے ساتھ بھی اختلافات پیدا ہونے لگے۔ روزگار کا مستقل ذریعہ نہ ہونے کے بعد اس نے کباڑ جمع کرنے کا کام شروع کر دیا اور اسی ذریعے سے اپنی زندگی کا پہیہ چلانے لگا۔
بعد میں ریو چنگڈو منتقل ہوگیا اور وہیں رہائش اختیار کرلی۔ اس کی زندگی کئی برس تک انتہائی مشکل حالات میں گزری۔ یہاں تک کہ 2024 کے موسم سرما میں مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں نے اسے ایک خستہ حال عمارت میں رہتے ہوئے دیکھا۔
حکام نے ریو کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اسے سرکاری پناہ گاہ منتقل ہونے کی پیشکش کی، تاہم اس نے ابتدا میں یہ تجویز قبول نہیں کی۔ مقامی انتظامیہ اس دوران اسے وقتاً فوقتاً روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا فراہم کرتی رہی۔
بتدریج ریو حکام پر اعتماد کرنے لگا اور سرکاری پناہ گاہ منتقل ہونے پر رضامند ہوگیا۔ اسی دوران اس نے اپنی ذاتی معلومات بھی حکام کے ساتھ شیئر کیں، جس کے بعد اس کے پنشن ریکارڈ سے متعلق معلومات سامنے آئیں۔
حکام کے مطابق چین کی ریٹائرمنٹ پالیسی کے تحت ریو 2015 میں پنشن حاصل کرنے کی عمر کو پہنچ چکا تھا۔ اس کے لیے ماہانہ پنشن تقریباً 3700 یوان مقرر تھی۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران یہ رقم اس کے پنشن اکاؤنٹ میں جمع ہوتی رہی۔
ریو کو اس رقم کا علم نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ غربت اور انتہائی محدود وسائل کے باعث اس کے پاس موبائل فون تک موجود نہیں تھا۔ اس وجہ سے وہ اپنے مالی اکاؤنٹس اور حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی پنشن سے متعلق معلومات حاصل نہیں کر پاتا تھا۔
حکام کی جانب سے اسے بینک کارڈ فراہم کیا گیا تو ریو کو اپنے اکاؤنٹ میں موجود رقم کا پہلی بار علم ہوا۔ اکاؤنٹ میں موجود رقم دیکھ کر اس کے لیے یہ ایک غیر متوقع خبر تھی کیونکہ وہ کئی برس سے کباڑ جمع کرکے معمولی آمدن پر گزارا کر رہا تھا۔
ریو نے اس موقع پر حکام کی جانب سے فراہم کی جانے والی مدد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا ہوگا۔
اب ریو نے مستقبل کے لیے ایک نسبتاً بہتر زندگی کا منصوبہ بنایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہ چنگڈو میں ایک فلیٹ کرائے پر لینے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ کئی برس کی مشکل زندگی کے بعد نسبتاً محفوظ اور آرام دہ رہائش حاصل کرسکے۔
READ MORE FAQS
سوال: کباڑ جمع کرنے والا شخص کروڑ پتی کیسے بنا؟
جواب: چین کے 71 سالہ ریو کو معلوم ہوا کہ اس کے پنشن اکاؤنٹ میں گزشتہ کئی برسوں سے رقم جمع ہو رہی تھی، جس کی مالیت 4 لاکھ 24 ہزار 204 یوان تک پہنچ چکی تھی۔
سوال: ریو کے پنشن اکاؤنٹ میں کتنی رقم موجود تھی؟
جواب: ریو کے اکاؤنٹ میں 4 لاکھ 24 ہزار 204 یوان موجود تھے، جو فراہم کردہ شرح کے مطابق پاکستانی ایک کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد بنتے ہیں۔
سوال: ریو کتنے عرصے سے کباڑ جمع کر رہا تھا؟
جواب: ریو گزشتہ 21 سال سے کباڑ جمع کرکے اپنی گزر بسر کر رہا تھا۔
سوال: ریو کی ماہانہ پنشن کتنی تھی؟
جواب: حکام کے مطابق ریو کو ماہانہ تقریباً 3700 یوان پنشن ملنا تھی۔







