اسپیس ایکس راکٹ کا ملبہ چاند سے ٹکرا گیا، جنوبی کوریا نے نئی تصاویر جاری کر دیں، راکٹ کا استعمال شدہ حصہ خلا میں گردش کے دوران قدرتی کششِ ثقل کے باعث چاند کی جانب بڑھا
سیول: جنوبی کوریا کی خلائی ایجنسی (KASA) نے اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کے ملبے کے چاند سے ٹکرانے کے بعد چاند کی نئی تصاویر جاری کر دی ہیں، جن میں ٹکراؤ سے پہلے اور بعد کی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے۔
خلائی ایجنسی کے مطابق اس کے قمری مدار گرد مشن دانوری (Danuri) نے بدھ کے روز راکٹ کے ملبے کے چاند سے ٹکرانے کے بعد تصاویر ریکارڈ کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ فالکن 9 راکٹ کا دوسرا مرحلہ (Second Stage) تقریباً 06:35 GMT پر چاند کی سطح سے ٹکرایا۔

اسپیس ایکس نے واضح کیا ہے کہ یہ ٹکراؤ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا بلکہ اسپیس ایکس راکٹ کا استعمال شدہ حصہ خلا میں گردش کے دوران قدرتی کششِ ثقل کے اثرات کے باعث چاند کی جانب بڑھتا گیا۔
ماہرین کے مطابق فالکن 9 راکٹ کا دوسرا مرحلہ تقریباً 4 ہزار کلوگرام وزنی تھا اور چاند سے ٹکرانے کے وقت اس کی رفتار تقریباً 8 ہزار 700 کلومیٹر فی گھنٹہ (5,400 میل فی گھنٹہ) تھی۔
اسپیس ایکس راکٹ جنوری 2025 میں امریکی ریاست فلوریڈا سے لانچ کیا گیا تھا تاکہ دو قمری لینڈرز کو چاند کی جانب روانہ کیا جا سکے۔ مشن مکمل ہونے کے بعد راکٹ کا دوسرا مرحلہ خلا میں گردش کرتا رہا، تاہم زمین، چاند اور سورج کی کششِ ثقل کے باعث اس کا راستہ تبدیل ہوتا گیا اور بالآخر وہ چاند سے جا ٹکرایا۔
خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹکراؤ کے وقت پیدا ہونے والی روشنی انتہائی معمولی تھی، جسے عام دوربین سے دیکھنا ممکن نہیں تھا، تاہم بڑی رصدگاہوں اور خلائی اداروں نے اس واقعے کا مشاہدہ کیا۔
دوسری جانب یونیورسٹی آف کیمبرج سے وابستہ ماہر فلکیات میٹ بوتھ ویل نے اس واقعے کے بعد خلا میں بڑھتے ہوئے ملبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال بڑی تعداد میں راکٹ اور سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جا رہے ہیں، جس کے باعث مستقبل میں زمین کے مدار سے محفوظ انداز میں گزرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس واقعے سے زمین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا، تاہم یہ خلائی ملبے کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی ایک اور واضح مثال ہے، جس پر عالمی خلائی اداروں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
🚀🌙 The upper stage of a SpaceX Falcon 9 rocket struck the Moon early Wednesday, Aug. 5, around 2:35 a.m. ET — an unintentional impact near the Einstein and Bell craters on the western lunar limb, at roughly 5,400 mph.
The stage had been drifting since Jan. 15, 2025, when it… pic.twitter.com/qm2tUU9AJZ
— 🔥🗞The Informant (@theinformant_x) August 5, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: اسپیس ایکس کے راکٹ کا کون سا حصہ چاند سے ٹکرایا؟
جواب: فالکن 9 راکٹ کا دوسرا مرحلہ (Second Stage) چاند کی سطح سے ٹکرایا۔
سوال 2: چاند کی تصاویر کس ادارے نے جاری کیں؟
جواب: جنوبی کوریا کی خلائی ایجنسی KASA نے اپنے Danuri قمری مدار گرد مشن کے ذریعے تصاویر جاری کیں۔
سوال 3: اسپیس ایکس راکٹ کا ملبہ کتنی رفتار سے چاند سے ٹکرایا؟
جواب: اندازاً 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ (تقریباً 5,400 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے۔
سوال 4: کیا اس ٹکراؤ سے زمین کو کوئی خطرہ تھا؟
جواب: نہیں، اس واقعے سے زمین یا اس کے باشندوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔
سوال 5: ماہرین نے اس واقعے پر کیا تشویش ظاہر کی؟
جواب: ماہرین کے مطابق خلا میں بڑھتا ہوا خلائی ملبہ (Space Debris) مستقبل میں خلائی مشنز اور زمین کے مدار کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔






