ایران امریکا مذاکرات پاکستان: اگلا دور 11 جولائی سے شروع ہونے کا امکان

سعودی میڈیا کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 11 جولائی سے پاکستان میں متوقع ہے، جہاں پابندیوں، منجمد اثاثوں اور ایرانی جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔
پاکستان اور قطر کی درخواست پر امریکا ایران معاہدے کا متن جاری نہ کرنے کا اعلان، جمعے کو لائے جانے کا امکان: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا متن جمعے تک جاری کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے سی این این اور بلومبرگ میں شائع ہونے والے مبینہ معاہدے کے متن کو غیر مصدقہ قرار دے دیا ہے۔
ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر آمادہ،معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جا سکتا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نہ صرف جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے بلکہ کسی بھی ذریعے سے ایسے ہتھیار حاصل نہ کرنے پر بھی آمادہ ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ پیش رفت امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
خلیج فارس کا مستقبل امریکا کے بغیر روشن ہوگا: ایرانی سپریم لیڈر کا دوٹوک اعلان

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ خلیج فارس کا مستقبل امریکا کے بغیر روشن ہوگا اور ایران اپنی جوہری و میزائل صلاحیتوں کا دفاع کرے گا۔
ایران نے ثالثوں کو بتایاکہ نظر ثانی شدہ تجاویز پر سپریم لیڈر سے مشاورت کیلئے چند دن درکار ہیں، امریکی میڈیا

ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی قومی سلامتی ٹیم نے ایران کی نئی تجاویز پر غور کیا جن میں آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ کے خاتمے کی پیشکش شامل ہے، جبکہ مارکو روبیو نے اسے بہتر قرار دیتے ہوئے جوہری پروگرام پر سخت شرائط کا عندیہ دیا۔
امریکی صدر ایران کی نئی تجاویز سے ناخوش، جوہری پروگرام پر وضاحت نہ ہونے پر تحفظات

ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں کیونکہ ان میں جوہری پروگرام پر واضح مؤقف شامل نہیں، جبکہ ایران نے پاکستان کے ذریعے تجاویز دیتے ہوئے آبنائے ہُرمز کھولنے کو امریکی ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے۔
ایران اسرائیل جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے: ایرانی نائب صدر

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کے خلاف ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنا ضروری ہے کیونکہ کوئی باضابطہ جنگ بندی معاہدہ موجود نہیں۔ جون کی جنگ میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، لیکن جوابی میزائل حملوں سے اسرائیل کا دفاع ناکام ہوا۔ دوسری جانب تہران نے آئی اے ای اے کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔