خلیج فارس کا مستقبل امریکا کے بغیر روشن ہوگا: ایرانی سپریم لیڈر کا دوٹوک اعلان
تہران: مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ خلیج فارس کا مستقبل امریکا کی موجودگی کے بغیر زیادہ روشن اور مستحکم ہوگا، جبکہ خطے میں غیر ملکی طاقتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
ایرانی ریاستی میڈیا کے مطابق یہ پیغام آئی آر این اے کے ذریعے نیشنل پرشین گلف ڈے کے موقع پر جاری کیا گیا، جو 1622 میں آبنائے ہرمز سے پرتگالی افواج کے انخلا کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ خلیج فارس صدیوں سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں ہونے والی جنگ اور کشیدگی کے باوجود ایران نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنے منصوبوں میں ناکام رہا ہے اور اب خطے میں ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران اور خلیجی ممالک کا مستقبل مشترکہ ہے اور خطے کی ترقی، امن اور خوشحالی صرف اسی صورت ممکن ہے جب بیرونی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے امریکی فوجی موجودگی کو خطے میں عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں نے خطے کو غیر محفوظ بنایا، جبکہ امریکی فوجی اڈے خود اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کا ہر صورت دفاع کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صلاحیتیں ایرانی عوام کے لیے قومی سرمایہ ہیں اور ان کی حفاظت اسی طرح کی جائے گی جیسے زمینی، فضائی اور بحری سرحدوں کی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت کے تناظر میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
Iran's new management of the Strait of Hormuz and the corresponding legal framework will secure comfort and progress for the benefit of all the nations of the region.
— Ayatollah Mojtaba Khamenei (@MKhamenei_ir) April 30, 2026