پاکستان اور قطر کی درخواست پر امریکا ایران معاہدے کا متن جاری نہ کرنے کا اعلان، جمعے کو لائے جانے کا امکان: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکا ایران معاہدے کا متن پر گفتگو کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان اور قطر کی درخوست پر امریکا ایران معاہدے کا متن جاری نہ کرنے کا اعلان، جمعے کو لائے جانے کا امکان: جے ڈی وینس، وائٹ ہاؤس نے لیک دستاویز مسترد کردی

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا متن کم از کم جمعے کی صبح تک جاری کیا جائے گا تاکہ امریکی عوام کو معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا جا سکے۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ قطر اور پاکستان کے مذاکرات کاروں نے فی الحال معاہدے کا مکمل متن جاری نہ کرنے کی درخواست کی ہے، تاہم کوشش کی جا رہی ہے کہ دستاویز جلد منظر عام پر لائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ امریکی عوام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوگا اور خطے میں استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔

جی سیون ایران امریکا معاہدہ اور عالمی امن کی حمایت
جی سیون ممالک نے ایران امریکا معاہدے کو خطے اور دنیا کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر کمیونیکیشنز اسٹیون چیونگ نے سی این این کی جانب سے شائع کیے گئے امریکا ایران معاہدے کا متن کو مسترد کر دیا جسے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کا متن قرار دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق میڈیا میں سامنے آنے والا متن اصل دستاویز نہیں ہے۔

اگرچہ سی این این کا شائع کردہ امریکا ایران معاہدے کا متن بلومبرگ کی رپورٹ سے کافی حد تک مماثلت رکھتا ہے، تاہم سفارتی مبصرین کے مطابق حتمی دستخط سے قبل معاہدے میں تبدیلیاں ممکن ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شق شامل ہے جبکہ ایران آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

امریکا ایران معاہدے کا متن میں جوہری پروگرام سے متعلق نکات بھی شامل ہیں، جن کے تحت ایران ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ تاہم یورینیم افزودگی اور دیگر حساس معاملات کو مستقبل کے حتمی معاہدے میں طے کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں فوری طور پر ختم نہیں ہوں گی، تاہم امریکا ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے خصوصی استثنیٰ جاری کر سکتا ہے جبکہ مذاکرات میں پیش رفت کے ساتھ منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی بھی دی جا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال: امریکا اور ایران کے معاہدے کا متن کب جاری ہوگا؟

جواب: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق معاہدے کا متن کم از کم جمعے کی صبح تک جاری کیا جا سکتا ہے۔

سوال: وائٹ ہاؤس نے سی این این کی رپورٹ پر کیا ردعمل دیا؟

جواب: وائٹ ہاؤس نے سی این این میں شائع ہونے والے مبینہ معاہدے کے متن کو غیر مصدقہ اور اصل دستاویز سے مختلف قرار دیا ہے۔

سوال: معاہدے میں آبنائے ہرمز سے متعلق کیا شق شامل ہے؟

جواب: اطلاعات کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

سوال: کیا ایران پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں گی؟

جواب: ابتدائی اطلاعات کے مطابق پابندیاں فوری طور پر برقرار رہیں گی، تاہم ایرانی تیل کی برآمدات اور منجمد اثاثوں سے متعلق نرمی دی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:14 AM
طلوع آفتاب04:57 AM
ظہر12:09 PM
عصر03:54 PM
مغرب07:21 PM
عشاء09:05 PM