جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی منظوری، وفاقی کابینہ کا بڑا فیصلہ

ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے تحت دوا کے پیک پر ڈیجیٹل بارکوڈ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی منظوری، جعلی دواؤں کے خلاف تاریخی اقدام

ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی وفاقی کابینہ نے باضابطہ منظوری دے دی ہے، جسے پاکستان میں جعلی اور غیرمعیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم اور تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس جدید نظام کے ذریعے ملک بھر میں دوا سازی اور ادویات کی ترسیل کے عمل کو مزید محفوظ، شفاف اور مؤثر بنایا جائے گا۔

وفاقی وزیر صحت کا اہم بیان

وفاقی وزیر صحت Mustafa Kamal کے مطابق کابینہ نے ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری بھی دے دی ہے، جس کے بعد جدید ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ پاکستان میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا۔

جعلی اور نقلی ادویات کی نشاندہی ممکن ہوگی

نئے نظام کے تحت:

  • جعلی ادویات کی فوری نشاندہی ممکن ہوگی۔
  • غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کا سراغ لگایا جا سکے گا۔
  • سپلائی چین کی نگرانی بہتر ہوگی۔
  • صارفین کو محفوظ ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام عوامی صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

صارفین کو کیا فائدہ ہوگا؟

ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کے بعد عام صارفین بھی آسانی سے دوا کی معلومات حاصل کر سکیں گے، جن میں:

  • دوا کی اصل یا جعلی ہونے کی تصدیق
  • میعاد ختم ہونے کی تاریخ
  • سرکاری قیمت
  • مینوفیکچرنگ کی معلومات

شامل ہوں گی۔

اس سے صارفین کو دواؤں کی خریداری میں زیادہ اعتماد حاصل ہوگا۔

ہر دوا پر جدید بارکوڈ لازمی ہوگا

وفاقی حکومت کے نئے قواعد کے مطابق تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو ہر دوا کے پیک پر:

  • معیاری 2D بارکوڈ
  • سیریلائزیشن ڈیٹا
  • ڈیجیٹل شناختی معلومات

درج کرنا لازمی ہوگا۔

یہ معلومات جدید ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک ہوں گی۔

ڈریپ نظام نافذ کرے گی

Drug Regulatory Authority of Pakistan اس جدید نظام کے نفاذ اور نگرانی کی ذمہ دار ہوگی۔

ادارے کا مقصد پورے ملک میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔

صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی

وزیر صحت کے مطابق پاکستان میں صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے اور یہ منصوبہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ اب جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی لے گی، جس سے شفافیت اور مؤثریت میں اضافہ ہوگا۔

پاکستان خطے میں نمایاں مقام حاصل کرے گا

حکومتی مؤقف کے مطابق ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے پاکستان خطے کے ان ممالک میں شامل ہو جائے گا جو ادویات کی نگرانی اور تصدیق کیلئے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔

یہ اقدام نہ صرف عوامی صحت کے تحفظ میں مدد دے گا بلکہ دوا سازی کی صنعت میں بین الاقوامی اعتماد بھی بڑھا سکتا ہے۔

ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی منظوری پاکستان میں جعلی دواؤں کے خلاف ایک بڑا اور اہم قدم ہے۔ اس جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ادویات کی تصدیق، نگرانی اور سپلائی چین کی شفافیت بہتر ہوگی، جبکہ صارفین کو محفوظ اور معیاری ادویات تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]