ایران معاہدے میں جوہری پروگرام سے متعلق سخت شرائط شامل، ٹرمپ نے سی این این کی رپورٹ مسترد کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مجوزہ جوہری معاہدے پر بیان دیتے ہوئے سی این این کی رپورٹ فیک قرار
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران معاہدے میں جوہری پروگرام سے متعلق سخت شرائط شامل، ٹرمپ نے سی این این کی رپورٹ مسترد کر دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹنگ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق انتہائی مضبوط، واضح اور تفصیلی شرائط شامل کی گئی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ سی این این کی رپورٹ نے ایک مرتبہ پھر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات سے متعلق کوئی واضح شق موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا ایران معاہدے کے مسودے کا جائزہ لیتے ہوئے
امریکا ایران معاہدے کے مسودے میں ترامیم، ٹرمپ مزید سخت شرائط کے خواہاں

امریکی صدر کے مطابق معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق شرائط اس معاہدے کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدہ نہایت جامع اور تفصیلی ہے جس میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر، جوہری سرگرمیوں اور دیگر حساس معاملات سے متعلق متعدد نکات شامل کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کا ایک بڑا حصہ انہی امور کے گرد گھومتا ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں سی این این پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ مسلسل گمراہ کن رپورٹنگ کر رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا نئی انتظامیہ کے تحت سی این این اپنی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب ہو سکے گا یا نہیں۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سفارتی رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکرات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ موجودہ مرحلے پر معاہدے کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا اور تمام فریقوں کو مذاکراتی عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے تاحال کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]