امریکا اور ایران میں جنگ کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار معاہدے پر بات چیت، آبنائے ہرمز مرکزی معاملہ بن گیا
نیویارک، 25 ستمبر 2026: امریکا اور ایران کے مذاکرات کار نیویارک میں جاری بات چیت کے دوران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ مرحلہ وار معاہدے پر غور کر رہے ہیں، جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرے گا جبکہ امریکا ایران پر عائد اقتصادی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کرسکتا ہے۔
Reuters کے مطابق مذاکرات سے واقف ایرانی، علاقائی اور مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز تقریباً سات ماہ سے جاری امریکا ایران تنازع کے خاتمے کی کوششوں میں مرکزی معاملہ بن چکی ہے۔
آبنائے ہرمز کے بدلے اقتصادی پابندیوں میں نرمی
ذرائع کے مطابق ممکنہ فارمولے کے تحت ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کی اجازت دے سکتا ہے، جبکہ اس کے بدلے امریکا ایران پر عائد اقتصادی ناکہ بندی ختم کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ایران کو منجمد اثاثوں تک رسائی دینے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ بحران کو مرحلہ وار حل کیا جاسکتا ہے اور پہلے مرحلے میں ناکہ بندی ختم کرکے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہوسکتا ہے۔
تاہم مذاکرات میں بنیادی رکاوٹ یہ ہے کہ دونوں فریق اپنے پاس موجود دباؤ کے اہم ذرائع سے پہلے دستبردار نہیں ہونا چاہتے۔

ایران ٹرانزٹ فیس کا مطالبہ مؤخر کرنے پر تیار
علاقائی ذرائع کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹرانزٹ فیس لینے کے مطالبے کو ممکنہ معاہدے سے الگ کرنے یا مؤخر کرنے پر آمادگی ظاہر کرچکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کے لیے اس وقت زیادہ اہم ترجیح امریکی اقتصادی ناکہ بندی کا خاتمہ ہے، تاہم ایران آبنائے ہرمز پر اپنے انتظامی اختیار سے دستبردار ہونے پر تیار نہیں۔
خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی ٹرانزٹ فیس کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔
ٹرمپ: انتخابات کے بعد معاہدہ ممکن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی جامع معاہدہ 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد طے پاسکتا ہے۔
سابق امریکی مذاکرات کار ڈینس راس نے کہا کہ انتخابات سے قبل معاہدے کے امکانات محدود ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی مؤقف پیش کیا کہ دونوں فریقوں کے لیے انتخابات سے پہلے کسی سمجھوتے کی وجوہ موجود ہیں۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز کھلنے سے خلیج میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی تیل کی قیمتوں پر دباؤ میں کمی آنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
واشنگٹن کا مؤقف
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے Reuters کو بتایا کہ ایران معاہدے کا خواہش مند ہے جبکہ صدر ٹرمپ امریکا کے مفاد میں فیصلہ کریں گے۔

امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ ایران کے ساتھ مناسب حالات میں بات چیت کے لیے تیار ہیں، تاہم واشنگٹن خود کو مضبوط پوزیشن میں سمجھتا ہے۔
امریکی انتظامیہ ایران پر عائد پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کو مذاکرات میں اہم ذریعہ قرار دیتی ہے۔
امریکا اور ایران جنگ دوبارہ شروع ہونے کے لیے بھی تیار
دوسری جانب ایرانی ذرائع کے مطابق تہران سفارتی راستہ تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکان کے لیے بھی تیاریاں کر رہا ہے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے امریکی اقتصادی ناکہ بندی اور فوجی دباؤ کو مذاکرات پر اثرانداز ہونے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ایران اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔
اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں اور کسی حتمی معاہدے کی ضمانت سامنے نہیں آئی۔
خلیجی ممالک کی آبنائے ہرمز کھولنے پر زور
نیویارک میں خلیجی ممالک کے رہنماؤں نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران آبنائے ہرمز اور خطے کی مستقبل کی صورتحال پر وضاحت طلب کی۔
علاقائی ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کو مسترد کرتے ہوئے آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنے پر زور دیا، تاہم ساتھ ہی امریکا ایران کشیدگی کم کرنے اور سیاسی حل کی حمایت بھی کی۔
اس کے علاوہ 80 ممالک کے اتحاد نے اقوام متحدہ میں خلیج میں بحری آمدورفت کے حقوق اور آزادی مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایران پر دباؤ میں مزید اضافہ
ایران پر دباؤ کے درمیان متحدہ عرب امارات نے ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی ایئرلائنز پر عائد امریکی پابندیوں کی بنیاد پر کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق خطے کے بعض دیگر ممالک میں بھی ایرانی پروازوں اور فضائی آپریشنز کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ایران کی کئی ایئرلائنز نے بین الاقوامی پروازیں منسوخ کردی ہیں۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ اس کے ذریعے خلیج سے عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات پہنچتی ہیں۔
اسی وجہ سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ایک اہم سفارتی اور معاشی معاملہ بن چکا ہے۔ تاہم Reuters کے مطابق دونوں فریق اب بھی اپنے بنیادی مؤقف اور مذاکراتی دباؤ کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، اس لیے ممکنہ معاہدے کی حتمی شکل اور وقت واضح نہیں ہے۔
VIDEO | "We never started a war, but if they wish to keep fighting with us, we will respond strongly."
Iranian President Masoud Pezeshkian said Tehran will "respond decisively" if the US continues the war, while reiterating that Iran did not initiate hostilities.
In an… pic.twitter.com/yCaI5549ok
— The Cradle (@TheCradleMedia) September 25, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں کیا بات ہورہی ہے؟
جواب: ذرائع کے مطابق دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ مرحلہ وار معاہدے پر غور کر رہے ہیں۔
سوال 2: آبنائے ہرمز کے بارے میں کیا تجویز زیر غور ہے؟
جواب: ممکنہ فارمولے کے تحت ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرسکتا ہے، جبکہ امریکا ایران کی اقتصادی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کرسکتا ہے۔
سوال 3: کیا ایران ٹرانزٹ فیس کا مطالبہ چھوڑنے پر تیار ہے؟
جواب: علاقائی ذرائع کے مطابق ایران اس مطالبے کو مؤخر یا ممکنہ معاہدے سے الگ کرنے پر آمادگی ظاہر کرچکا ہے، تاہم آبنائے ہرمز پر اپنے انتظامی اختیار سے دستبرداری کا اشارہ نہیں دیا۔
سوال 4: کیا امریکا ایران معاہدہ حتمی ہوگیا ہے؟
جواب: نہیں، دستیاب رپورٹس کے مطابق مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریقوں کے درمیان اہم اختلافات برقرار ہیں، اس لیے کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔




