
خیبرپختونخوا میں بارش سے طغیانی اور خطرات میں اضافہ پی ڈی ایم اے کا الرٹ
خیبرپختونخوا میں بارش سے نشیبی علاقے زیر آب، 4 افراد جاں بحق اور طغیانی کے خدشات بڑھ گئے، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا۔

خیبرپختونخوا میں بارش سے نشیبی علاقے زیر آب، 4 افراد جاں بحق اور طغیانی کے خدشات بڑھ گئے، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا۔

پاک فوج اور سول انتظامیہ کی مشترکہ کوششوں سے سیلاب سے متاثرہ دربار صاحب کرتارپور میں بحالی، صفائی اور مرمت کا عمل تیزی سے جاری ہے، سکھ برادری نے بروقت اقدامات پر شکریہ ادا کیا۔

لاہور میں وقفے وقفے سے ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس سے موسم خوشگوار ہوگیا اور درجہ حرارت 23 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کا سسٹم بدستور موجود ہے اور مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔ بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا جس کے باعث ہریکے اور فیروزپور پر اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے تمام اضلاع کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

کراچی کا موسم اگلے تین دن ابر آلود اور ہلکی بارش کے امکانات کے ساتھ خوشگوار رہے گا، شہری احتیاط کریں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش کے نتیجے میں کئی علاقے زیرآب آگئے، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح تشویشناک حد تک بلند ہوگئی۔ واسا نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے عملے کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

مانسہرہ اور گردونواح میں موسلادھار بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی، مکان متاثر، تین گاڑیاں بہہ گئیں جبکہ مدرسے کے طلباء کو ریسکیو اہلکاروں نے بحفاظت نکالا۔ این ڈی ایم اے نے مزید بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا۔

اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں 5.4 شدت کا زلزلہ آیا، شہری خوفزدہ ہو گئے جبکہ این ڈی ایم اے اور حکومتی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔

پاکستان میں بارش: ملک بھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسم کی بڑی تبدیلی محکمہ موسمیات نے تازہ پیشگوئی میں کہا ہے کہ پاکستان میں بارش کا سلسلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک

شدید بارشوں کے بعد پنجاب میں سیلاب کا الرٹ جاری، اگلے تین دن مزید بارشوں کی پیشگوئی اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

پنجاب سمیت ملک بھر میں مون سون کا نواں اسپیل شروع ہو گیا ہے جو 2 ستمبر تک جاری رہے گا۔ پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب میں موسلادھار بارش آئندہ چند گھنٹوں میں متعدد اضلاع میں ہو سکتی ہے، جس کے باعث شہری سیلاب اور زرعی نقصانات کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

پنجاب بھر میں دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب تباہی مچا رہا ہے۔ لاہور، قصور، شیخوپورہ، ملتان اور دیگر اضلاع زیرِ آب آچکے ہیں۔ کھڑی فصلیں برباد، لاکھوں افراد متاثر اور 20 شہری جاں بحق ہوگئے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ کیا اور جاری ریسکیو و ریلیف آپریشن کا جائزہ لیا۔ چیئرمین NDMA نے سیلابی صورتحال، طغیانی اور متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا اور چھوٹے و بڑے ڈیموں کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے ریسکیو 1122، فوج، محکمہ صحت اور دیگر اداروں کی کارکردگی سراہتے ہوئے ٹیم ورک کی تعریف کی۔ کرتارپور میں پھنسے یاتریوں کے محفوظ انخلا اور مستقبل کے لیے جامع پالیسی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

پنجاب میں طوفانی بارشیں 29 اگست سے 2 ستمبر تک جاری رہنے کا امکان ہے، پی ڈی ایم اے نے شہریوں اور انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا۔ دریاؤں میں سیلاب اور اربن فلڈنگ کے خدشات کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے

پاکستان سیلاب 2025 کے باعث دریائے راوی، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور دیگر علاقوں میں پانی کا بہاؤ غیر معمولی ہے جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور کئی لاپتہ ہو گئے ہیں

29 اگست تا 2 ستمبر بارش کی پیشگوئی کے مطابق ملک بھر میں موسلادھار بارشیں، لینڈ سلائیڈنگ، اور نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، جبکہ زراعت اور پانی کے ذخائر کے لیے یہ بارشیں خوش آئند ثابت ہو سکتی ہیں۔

پاکستان میں دریائے چناب، راوی اور ستلج میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) نے فوری ہنگامی الرٹ جاری کیا ہے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی حکومت کی ہدایت پر NDMA اور دیگر ریسکیو ادارے الرٹ پر ہیں اور متاثرہ علاقوں میں فوری کارروائیاں جاری ہیں۔ محکمہ موسمیات نے 29 اگست سے 2 ستمبر تک شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جس کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، محفوظ رہائش اور ہنگامی تیاری کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ صورتحال ملک کے لیے ایک بڑا قدرتی چیلنج ہے اور بروقت احتیاطی اقدامات انسانی جانوں اور مال و متاع کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں آج صبح 5.3 شدت کا زلزلہ آیا جس کا مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں تھا۔ پشاور، صوابی، سوات، ملاکنڈ، باجوڑ، چترال اور مانسہرہ سمیت کئی شہروں میں زمین لرزنے سے شہری خوفزدہ ہو کر گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کی گہرائی 110 کلومیٹر تھی اور ماہرین کے مطابق یہ درمیانے درجے کا زلزلہ ہے، تاہم پہاڑی علاقوں میں زیادہ شدت سے محسوس کیا گیا۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کو الرٹ کردیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ملک میں جاری شدید بارشوں اور دریاؤں میں بلند پانی کی سطح کے باعث سیلابی خطرات پر ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور وفاقی وزرا نے بریفنگ دی جبکہ وزیراعظم نے فوری اقدامات، متاثرین کے بروقت انخلا اور ریلیف سرگرمیوں کو مؤثر بنانے کی ہدایات جاری کیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 95 ہزار کیوسک سے بڑھ گیا ہے جو انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی نشاندہی کرتا ہے۔ متاثرین میں سب سے زیادہ تعداد بہاولنگر کی ہے جہاں 89 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولپور اور وہاڑی کے نشیبی علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سخت احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کے تحفظ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، جس نے پاکستان کو دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل کر دیا ہے۔

پنجاب اور آزاد کشمیر میں شدید بارشوں کا الرٹ – ممکنہ خطرات اور حفاظتی اقدامات قومی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے این ای او سی نے حال ہی میں پنجاب اور آزاد کشمیر میں شدید بارشوں کا الرٹ جاری کیا ہے۔ اس الرٹ میں خبردار

خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں اور فلیش فلڈ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق صرف 15 اگست سے اب تک 406 افراد جاں بحق اور 245 زخمی ہوئے جبکہ 2810 گھروں کو نقصان پہنچا۔ ملک بھر میں اموات 799 سے تجاوز کر گئیں اور ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

سیلاب سے متاثرہ گاؤں شائی درہ میں مکانات، مارکیٹ اور اسکول تباہ، سڑکیں ٹوٹنے سے امداد رُک گئی۔ حکومت اور مقامی رضاکار بحالی میں مصروف ہیں۔

بھارت نے پاکستان کو دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کی اطلاع دی ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ کے مطابق قصور، اوکاڑہ، پاکپتن اور بہاولنگر کے کئی دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔