اسلام آباد کال سینٹرز سے گرفتار 671 غیر ملکی فارن بلیک لسٹ ہوں گے

671 غیر ملکی فارن بلیک لسٹ، اسلام آباد کال سینٹرز سے گرفتار غیر ملکی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

‫671 غیر ملکی فارن بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ‬

671 غیر ملکی فارن بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے 671 غیر ملکیوں کے حوالے سے ایف آئی اے نے اہم اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کو فارن بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے گا، جس کے بعد وہ دوبارہ پاکستان میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔

ایف آئی اے کے مطابق کال سینٹرز سے گرفتار ہونے والے تمام 671 غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق آگے بڑھائی جارہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کے پاکستان میں دوبارہ داخلے کو روکنے کے لیے فارن بلیک لسٹ کا طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی دوبارہ پاکستان آمد کو روکنا ہے۔

کال سینٹرز کے خلاف کارروائی

اسلام آباد میں کال سینٹرز کے حوالے سے کی جانے والی کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران گرفتار افراد کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور بعض افراد کے خلاف فراڈ، بلیک میلنگ اور دیگر مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ کارروائی صرف گرفتار غیر ملکیوں تک محدود نہیں رکھی جائے گی بلکہ ان کے پاکستان میں موجود مقامی روابط کا بھی سراغ لگایا جائے گا۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو تحقیقات مزید آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

671 غیر ملکی دوبارہ پاکستان نہیں آسکیں گے

حکام کے مطابق فارن بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے بعد گرفتار کیے گئے 671 غیر ملکی مستقبل میں پاکستان میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔ بلیک لسٹ کا فیصلہ ان افراد کے مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

فارن بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا اقدام ایسے غیر ملکی شہریوں کی پاکستان واپسی روکنے کے لیے کیا جاتا ہے جن کے بارے میں حکام کے پاس قانونی یا سکیورٹی سے متعلق تحفظات موجود ہوں۔ موجودہ کارروائی میں بھی ایف آئی اے نے گرفتار افراد کے خلاف مزید قانونی اور انتظامی اقدامات کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

ایف آئی اے نے غیر قانونی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث غیر ملکیوں کے مقامی روابط کی تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ گرفتار افراد کو پاکستان میں کس نوعیت کی سہولت یا معاونت حاصل تھی اور مقامی سطح پر ان کے ساتھ کون سے افراد یا عناصر رابطے میں تھے۔

مقامی روابط کی تحقیقات کا مقصد ممکنہ نیٹ ورک، سہولت کاروں اور دیگر معاون عناصر کی نشاندہی کرنا ہے۔ اگر تحقیقات کے دوران مزید افراد کے خلاف شواہد سامنے آتے ہیں تو ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ کے ذریعے گرفتار غیر ملکیوں کے متعلقہ ممالک کو بھی ان کی مبینہ سرگرمیوں اور جرائم سے متعلق آگاہ کردیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد متعلقہ حکومتوں کو پاکستانی حکام کی کارروائی اور تحقیقات سے باخبر رکھنا ہے۔

غیر ملکی شہریوں سے متعلق معاملات میں متعلقہ ممالک کے سفارتی حکام کو معلومات فراہم کرنا بھی اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی یا ملک بدری جیسے اقدامات زیر غور ہوں۔

فراڈ اور بلیک میلنگ کے الزامات

ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے غیر ملکی پاکستان میں فراڈ اور بلیک میلنگ سمیت مختلف مبینہ جرائم میں ملوث تھے۔ تحقیقات کے دوران ان کی سرگرمیوں اور کال سینٹرز کے ذریعے ہونے والے مبینہ فراڈ کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

حکام کی جانب سے ان سرگرمیوں میں ملوث افراد کے کردار، کال سینٹرز کے آپریشنز اور ممکنہ مقامی روابط کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

آن لائن سرگرمیوں کی بھی تحقیقات

ذرائع کے مطابق گرفتار افراد میں سے بعض کے بارے میں یہ بھی سامنے آیا کہ وہ آن لائن لائیو فحش مواد کی عالمی سطح پر فروخت میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔ حکام اس پہلو سے بھی تحقیقات کررہے ہیں تاکہ غیر قانونی آن لائن سرگرمیوں سے منسلک افراد اور نیٹ ورک کا تعین کیا جاسکے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے متعلقہ ادارے شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور دیگر معلومات کی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

ایف آئی اے کی کارروائی کی اہمیت

671 غیر ملکی فارن بلیک لسٹ کیے جانے کا فیصلہ پاکستان میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جاری کارروائی کے تناظر میں اہم سمجھا جارہا ہے۔ حکام کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کے ساتھ ساتھ ان کے مقامی روابط کی تحقیقات اس معاملے کو مزید وسیع دائرے میں لے جاتی ہیں۔

کال سینٹرز سے متعلق کارروائی میں اگر مقامی سہولت کاروں یا دیگر افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آتے ہیں تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی متوقع ہے۔ اس طرح تحقیقات کا مقصد صرف گرفتار افراد تک محدود رہنے کے بجائے مبینہ سرگرمیوں کے مکمل نیٹ ورک کا سراغ لگانا ہوسکتا ہے۔

READ MORE FAQS
  1. کتنے غیر ملکیوں کو فارن بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا؟

اسلام آباد کے کال سینٹرز سے گرفتار 671 غیر ملکیوں کو فارن بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  1. فارن بلیک لسٹ ہونے کے بعد کیا ہوگا؟

ایف آئی اے کے مطابق بلیک لسٹ کیے جانے والے یہ غیر ملکی دوبارہ پاکستان میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔

  1. گرفتار غیر ملکیوں پر کیا الزامات ہیں؟

ذرائع کے مطابق گرفتار افراد فراڈ، بلیک میلنگ اور دیگر مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

  1. کیا ان کے مقامی روابط کی بھی تحقیقات ہوں گی؟

جی ہاں، غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث غیر ملکیوں کے مقامی روابط کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا ہے۔