الیکشن کمیشن کا این اے 18 ہری پور ضمنی انتخاب سے متعلق تمام الزامات مسترد

الیکشن کمیشن کا این اے 18 ہری پور ضمنی انتخاب الزامات مسترد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

الیکشن کمیشن کا این اے 18 ہری پور ضمنی انتخاب سے متعلق تمام الزامات مسترد، انتخابات کے بعد بار بار ایک جیسے الزامات لگانا ایک مستقل حکمتِ عملی بنتی جا رہی

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 18 ہری پور کے ضمنی انتخابات سے متعلق لگائے گئے تمام الزامات کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات ہارنے کے بعد مخصوص حلقے ایک بار پھر بے بنیاد اعتراضات اٹھا کر انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا این اے 18 ہری پور ضمنی انتخاب سے متعلق اپنے تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ ڈی آر او اور آر او کی تعیناتی کو سازش قرار دینا حقائق کے سراسر منافی ہے، کیونکہ ضمنی انتخابات میں کمیشن کے اپنے افسران ہی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں جبکہ عام انتخابات میں عملے کی کمی کے باعث مقامی افسران پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 18 میں تعینات افسران اسی علاقے میں پہلے سے موجود تھے اور یہ کہنا کہ ان کی تعیناتی کسی منصوبہ بندی کا حصہ تھی، مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی صوبائی انتظامیہ نے کی تھی، اگر الیکشن کمیشن چاہتا تو وفاقی اداروں کے ملازمین کو بھی تعینات کیا جا سکتا تھا، تاہم ایسا ضروری نہیں تھا۔

الیکشن کمیشن کا این اے 18 ہری پور ضمنی انتخاب کے متعلق کہا کہ پولنگ ڈے تک کسی سیاسی جماعت نے کسی قسم کا اعتراض نہیں اٹھایا، لیکن انتخابات کے نتائج آنے کے بعد الزامات لگانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ "یہ رویہ انتخابی نظام پر بے جا تنقید اور جمہوری عمل کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔”

فارم 47 سے متعلق الزامات بھی مسترد

ترجمان نے واضح کیا کہ فارم 47 پہلے سے تیار ہونے کا الزام نہ صرف غلط ہے بلکہ انتخابی عمل کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ تمام پولنگ بیگز اور نتائج صوبائی انتظامیہ کے عملے نے آر او آفس میں جمع کرائے، اور سیکیورٹی انتظامات بھی مکمل طور پر صوبائی حکومت کے زیر اہتمام تھے۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ کے خلاف توہین عدالت عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر
علیمہ خان نے ملاقات روکنے پر اڈیالہ جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔

الزامات کا مقصد انتخابی عمل کو مشکوک بنانا

الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہر انتخاب کے بعد بار بار ایک جیسے الزامات لگانا ایک مستقل حکمتِ عملی بنتی جا رہی ہے، جس کا مقصد عوام کا اعتماد مجروح کرنا ہے۔
بیان کے مطابق:
"اگر کسی کو الیکشن کمیشن کا این اے 18 ہری پور ضمنی انتخاب کے نتائج پر اعتراض ہے تو قانونی راستہ الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنا ہے۔ میڈیا پر یا سیاسی جلسوں میں الزامات لگانا مناسب نہیں۔”

کمیشن کا دوٹوک مؤقف

الیکشن کمیشن نے زور دے کر کہا کہ ضمنی انتخابات آئین اور قانون کے مطابق کرائے گئے اور مستقبل میں بھی یہی طریقہ کار جاری رہے گا۔
"جمہوریت کو نقصان پہنچانے والی الزام تراشی کسی طور قابلِ قبول نہیں۔”

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]