اسرائیلی آبادکاروں کا بڑھتا ہوا تشدد، مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے سی میں فلسطینیوں کی منظم بے دخلی جاری، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں انکشاف
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم Amnesty International نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے سی (Area C) میں فلسطینی بدو اور چرواہا برادریوں کی منظم بے دخلی جاری ہے، جس کے پیچھے اسرائیلی ریاستی پالیسی اور آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر 2023 کے آغاز سے 2026 کے اپریل تک زیادہ سنگین ہوئی ہے، جس دوران کم از کم 117 فلسطینی بدو اور چرواہا کمیونٹیز متاثر ہوئیں، جو مجموعی طور پر تقریباً 5,910 افراد پر مشتمل تھیں۔ ان میں سے کئی کمیونٹیز کو جزوی یا مکمل طور پر اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
Area C کی اسٹریٹجک اہمیت
مغربی کنارے کا علاقہ سی (Area C) مکمل طور پر اسرائیلی فوجی اور سول کنٹرول میں ہے اور یہ پورے مغربی کنارے کا تقریباً 60 فیصد حصہ بنتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہی علاقہ بدو اور چرواہا برادریوں کے لیے بنیادی ذریعہ معاش یعنی چرائی اور زراعت کا مرکز تھا، جو اب شدید دباؤ میں ہے۔
آبادکاروں کے تشدد اور ریاستی کردار

ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی منظم بے دخلی کا بڑا سبب اسرائیلی آبادکاروں کا بڑھتا ہوا تشدد ہے، جس میں گھروں پر حملے، دھمکیاں، مویشیوں کو نقصان پہنچانا اور زرعی زمینوں کی تباہی شامل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات کسی غیر منظم صورتحال کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں، جس میں اسرائیلی ریاستی اداروں کی جانب سے بعض اوقات براہِ راست یا بالواسطہ حمایت بھی شامل ہے۔
نئی حکومت کے بعد تیز رفتار تبدیلیاں
رپورٹ کے مطابق دسمبر 2022 میں اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu کی قیادت میں بننے والی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے بعد آبادکاری کی پالیسیوں میں تیزی آئی ہے۔
اس دوران حکومت کے کئی اہم وزراء، جن میں Itamar Ben-Gvir، Bezalel Smotrich، اور Orit Strock شامل ہیں، پر آبادکاری کے منصوبوں کی حمایت اور توسیع کے الزامات رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔
آبادکاری کی توسیع اور مسماری
ایمنسٹی کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران اسرائیلی حکام نے 50,785 نئی آبادکاری ہاؤسنگ یونٹس کے منصوبے آگے بڑھائے، جن میں سے 2025 میں 27,941 یونٹس کی منظوری دی گئی۔
اسی عرصے میں فلسطینیوں کو نئی تعمیرات کے اجازت نامے تقریباً نہ ہونے کے برابر دیے گئے، جبکہ 3,407 فلسطینی ڈھانچے مسمار کیے گئے۔ اس صورتحال نے فلسطینی آبادی کو مسلسل اپنی زمینوں سے دور دھکیلا ہے۔
انسانی بحران اور نقل مکانی

رپورٹ میں متاثرہ افراد کے انٹرویوز بھی شامل ہیں، جن کے مطابق فلسطینیوں کی منظم بے دخلی کے بعد اکثر خاندان خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں یا قریبی دیہات میں پناہ لیتے ہیں، جہاں مقامی آبادی کے ساتھ تناؤ بھی پیدا ہوتا ہے۔
کئی خاندانوں کو اپنی بھیڑ بکریاں بیچنی پڑیں اور وہ مکمل طور پر انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں، جسے رپورٹ میں سنگین انسانی بحران قرار دیا گیا ہے۔
عالمی مطالبات
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی منظم بے دخلی پالیسیوں کے خلاف سخت اقدامات کرے، جن میں تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات پر نظرثانی اور ذمہ دار حکومتی شخصیات پر پابندیاں شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ صرف انفرادی آبادکاروں تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع ریاستی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مؤثر جواب ضروری ہے۔
ماہر کا مؤقف
ایمنسٹی کی ریسرچر برائے اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں Budour Hassan نے کہا کہ فلسطینیوں کی منظم بے دخلی والی صورتحال کسی اتفاقی تشدد کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی پالیسی ہے۔
ان کے مطابق اگر فلسطینیوں کی منظم بے دخلی نہ روکا گیا تو بدو اور چرواہا برادریوں سمیت کئی فلسطینی کمیونٹیز کا مستقبل شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
Video after video shows Israeli settlers violently harassing and attacking Palestinians in the occupied West Bank, seizing their livestock, bulldozing their schools, setting fire to their property and even killing Palestinians as part of a brutal campaign to forcibly displace… pic.twitter.com/kVJAhN1zrK
— Amnesty International (@amnesty) June 10, 2026
READ MORE FAQS”
یہ رپورٹ کس نے جاری کی ہے؟
یہ رپورٹ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم Amnesty International نے جاری کی ہے۔
رپورٹ میں کیا دعویٰ کیا گیا ہے؟
رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے میں فلسطینی بدو کمیونٹیز کی منظم بے دخلی جاری ہے۔
کون سا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہے؟
مقبوضہ مغربی کنارے کا علاقہ سی (Area C) سب سے زیادہ متاثر بتایا گیا ہے۔
بے دخلی کی وجوہات کیا ہیں؟
رپورٹ میں اسرائیلی ریاستی پالیسی اور آبادکاروں کے تشدد کو اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔
کتنے لوگ متاثر ہوئے ہیں؟
تقریباً 5,910 افراد پر مشتمل 117 کمیونٹیز متاثر ہوئی ہیں۔






